منتخب غزلیں

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر مجید اختر کر…

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر
مجید اختر

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر
ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری
مرے عزیز نہ اس کو کبھی قضا کیا کر

اجالے کے لئے ہے چشم و دل کا آئینہ
بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر

بنام مذہب و ملت یہ خوں بہانا کیا
ہری ہری وہ کریں تو خدا خدا کیا کر

بجا سہی یہ حیا اور یہ احتیاط مگر
کبھی کبھی تو محبت میں حوصلہ کیا کر

نظر میں رکھ مرے اظہار کی ضرورت کو
کبھی تو نون کا اعلان بھی روا کیا کر

وہ عیب ڈھکتا ہے تیرے سبھی مجید اخترؔ
سو تو بھی درگزر احباب کی خطا کیا کر


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/