منتخب غزلیں

جب بھی چوم لیتا ہوں اُن حسین آنکھوں کو سو چراغ اند…

جب بھی چوم لیتا ہوں اُن حسین آنکھوں کو
سو چراغ اندھیرے میں جِھلملانے لگتے ہیں

خشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کِھنچ آتا ہے
دل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیں

پھول کیا، شگوفے کیا؟ چاند کیا، ستارے کیا؟
سب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیں

ذہن جاگ اٹھتا ہے، روح جاگ اٹھتی ہے
نقش آدمیّت کے جگمگانے لگتے ہیں

لَو نکلنے لگتی ہے مندروں کے سینے سے
دیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگتے ہیں

رقص کرنے لگتی ہیں مورتیں اجنتا کی
مدّتوں کے لب بستہ غار گانے لگتے ہیں

پھول کھلنے لگتے ہیں اجڑے اجڑے گلشن پر
تشنہ تشنہ گیتی پر ابر چھانے لگتے ہیں

(کیفی اعظمی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/