آج پتہ چلا کہ طالب باغپتی نامی کوئی شاعر ماضی میں …
———————————————————————————–
خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے
اک ہجر کا مارا روتا ہے اور شبنم آنسو دھوتی ہے
پہلے تو محبت رفتہ رفتہ ہوش و خرد کو کھوتی ہے
پھر یاد کسی کی آ آ کر کانٹے سے دل میں چبھوتی ہے
کچھ سوچتا ہوں کچھ کہتا ہوں کچھ کہتے ہیں کچھ سنتا ہوں
جب ان کے سامنے ہوتا ہوں میری یہ حالت ہوتی ہے
چارہ گر بس یہ بتلا دے وہ جب مجھ سے چُھو جاتے ہیں
کیوں جسم میں موجیں اٹھتی ہیں کیوں نبض میں سُرعت ہوتی ہے
سب کہتے ہیں میں دیوانہ ہوں میں کہتا ہوں سب دیوانے ہیں
میں دنیا بھر پر ہنستا ہوں دنیا بھر مجھ پر روتی ہے
جب چاند اُفق پر ہوتا ہے اور تارے جِھلمل کرتے ہیں
آنکھوں میں کسی کی بھولی بھولی شکل سمائی ہوتی ہے
امید سے رشتہ ٹوٹ گیا تم کیا چُھوٹے دل چھوٹ گیا
ارمانوں کی بڑھتی کھیتی کو سیلِ یاس ڈبوتی ہے
دل ایک نہ اک دن جانا تھا یہ دن بھی آخر آنا تھا
طالب! تم اس کا غم نہ کرو یہ چیز پرائی ہوتی ہے
(طالب باغپتی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی




بہت خوب
وااااااااااہ واہ جی چاہتا ہے یہ غزل ہم طالب ہی کی زبانی سنتے کیا ہی عمدہ کہی ہے اور آپ تو ان سے بھی بڑھ گئے جو یہ گمشدہ خزانہ سامنے لے آئے ۔ اگر انکی مزید شاعری دستیاب ہو تو نظرِ کرم فرمائیے ۔ بھرپور فرمائش ہے ۔
بہت سے سچے اور کھرے شاعر واقعی گمنامی کی زندگی بسر کرکے چلے گئے اور اگر۔۔۔منظرِ عام پر آ بھی گئے تو گمنامی کی بجائے۔۔۔۔خوب "بدنامی” سمیٹی۔۔۔۔۔کیونکہ معاشرے نے عزت ان کو ہی دی جو خلوت اور جلوت میں جام بکف رہتے تھے۔۔۔۔
محترم Abul Hasan Ali صاحب!
سلامت رہئے۔۔۔آپ انفرادی طور پر اور محترم عمر جاوید خان صاحب کے ساتھ مل کر اردو کلاسیک کی جانب سے۔۔۔۔۔۔ جو کاوِش حقیقی "ادَب” کی خاطر کر رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔ہم ایسے تشنہ لوگوں کے لئے آبِ حیات سے کم نہیں
دیر آید درست آید ، بہترین
واہ
Amazing
WAH wah
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے ????
La jawab
Iqbal Qureshi