منتخب غزلیں
مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے اس زندگی کو ہ…
مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے
اس زندگی کو ہم نےبہت کچھ دیا بھی ہے
اس زندگی کو ہم نےبہت کچھ دیا بھی ہے
محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے
قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں
اس کو خبر نہیں کہ لہُو بولتا بھی ہے
غرقاب کر دیا تھا ہمیں نا خداؤں نے
وہ تو کہو کہ ایک ہمارا خدا بھی ہے
ہو تو رہی ہے کوششِ آرائشِ چمن
لیکن چمن غریب میں اب کچھ رہا بھی ہے؟
اے قافلے کے لوگو!! ذرا جاگتے رہو
سنتے ہیں قافلے میں کوئی رہنما بھی ہے
ہم پھر بھی اپنے چہرے نہ دیکھیں تو کیا علاج
آنکھیں بھی ہیں چراغ بھی ہے آئنا بھی ہے
اقبال! شکر بھیجو کہ تم دیدہ ور نہیں
دیدہ وروں کو آج کوئی پوچھتا بھی ہے؟
(اقبال عظیم)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


واہ واہ
بہت خوب
محترم Abul Hasan Ali صاحب
چند ہی روز پہلے۔۔۔۔سیّد اقبال عظیم صاحب پہ تفصیلی نوٹ پیش کر چکا ہوں۔۔۔۔آپ کی نظر سے گزرا ہو گا؟؟
Zabardast
Sunty hen tum ny rakha hy dill ko sanbhal kar Es dill k dill nagar me koi dill ruba bhi hy ….? Shahzad Bismillah puri …BISMILLAH PUR SHARIF…..FAISAL ABAD