منتخب غزلیں

پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحسن ……. یہ تاج سارے،یہ تخت…

پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحسن
…….
یہ تاج سارے،یہ تخت سارے
ملیں گے مٹی میں بخت سارے

گرے گی دیوار بھی کسی دن
کٹیں گے آخر درخت سارے

یہاں کوئی بھی نہیں رہے گا
یہ پر خشونت، کرخت سارے

یہ جتنے ہیں پیار کرنے والے
یہ جتنے ہیں دل کے سخت سارے

یہاں سے جانا ہے سب کو اک دن
یہاں سے باندھیں گے رخت سارے
ضیا الحسن
…..
یا زندگی کا حسن کہیں کھو گیا ضیا
یا ہم کو دیکھنے کا سلیقہ نہیں رہا
….
دیکھا ہی نہ ہو جس نے کبھی خاک سے آگے
کیا اس کو نظر آئے گا افلاک کے آگے
وہ غم بھی اٹھائے ہیں ترے عشق میں اے جاں
اٹھتے ہی نہ تھے جو دل صد چاک سے آگے
دل موسم ہجراں میں کہیں مر نہ گیا ہو
دیکھو تو کبھی دیدہ نم ناک سے آگے
اک فصل بہاراں ہے مرے روح و بدن پر
اک باغ کھلا ہے تری پوشاک سے آگے
شامل تو ہیں ہم قافلہ ہوش و خرد میں
جانا ہے مگر منزل ادراک سے آگے
….
ہم کو معلوم ہے گفتگو کس سے ہے
ہم کو معلوم ہے کب نہیں بولتے
….
دل بد بخت وہ آوارہ و خود سر ہے
کیا کسی کا ہو،ہمارا بھی نہیں ہوتا
…..
دیکھیں تو ہیں نظارے تہ آب بہت سے
مہ تاب کے پیچھے بھی ہیں مہ تاب بہت سے
ہر قطرہ دریا میں رواں ہیں کئی دریا
نظاروں میں نظارے ہیں بے تاب بہت سے
ہیں محو کسی منظر ہستی میں دل و چشم
اور دیکھنے ہیں ہم کو ابھی خواب بہت سے
کچھ چاک گریباں ہی پہ موقوف نہیں ہے
باقی ہیں جنوں کے ابھی آداب بہت سے
گریہ ہی نہیں اک درو دیوار کا دشمن
اس خانہ خرابی کے ہیں اسباب بہت سے
گر بند ہوا ایک در زیست تو کیا ہے
کھلنے ہیں ابھی مجھ پہ نئے باب بہت سے
….
ہونا ہے مری آنکھ کو نم ناک ابھی تو
کرنا ہے کسی غم میں یہ دل چاک ابھی تو
…..
کہاں لے جائیں گے سامان اتنا
اگر آ جائے ہم کو دھیان اتنا
…..
جن کو ہے بات کا ڈھب نہیں بولتے
ظرف ہیں جو لبالب نہیں بولتے
بولنے پر نہ یوں ہم کو مجبور کر.
…..
بحر بھی سفر میں ہے اور کنارہ بھی
چل رہا ہے آسماں اور ستارہ بھی
…..
عشق کا کام تو دینا ہے،سو جاں دی اے دل!
ہم نے دنیا سے کوئی چیز بھلا لی بھی ہے؟
…..
موجود کچھ نہیں یہاں،معدوم کچھ نہیں
یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں
……
یہاں ثبات بھی بے اصل ، بے ثباتی بھی
یہاں گماں بھی یقیں ہے،یہاں یقیں بھی گماں
……
کوئی تو کر دے مرے دل پہ نگاہ
بخش دے اس کو حضوری کوئی
…..
دل موسم ہجراں میں کہیں مر نہ گیا ہو
دیکھو تو کبھی دیدہ نمناک سے آگے
…..
سو میں کرتا ہوں اپنی تعظیم بہت
تیرا ہی جوہر ہے نقش ثانی میں
……
بیاں کروں تو کبھی ختم ہو نہ قصہ عشق
سمیٹ لوں تو فقط دل کے استعارے میں ہے


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/