منتخب غزلیں

"اب جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں” کتنی صدیوں سے تن …

"اب جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں”

کتنی صدیوں سے تن زار تھا صحرا کی طرح
آندھیاں اتنی حوادث کی چلیں رستوں میں
دُور تک___دُور تلک اُڑنے لگی دُھول ہی دُھول
زرد رُو ریت سے سب مِٹتے گئے نقشِ قدم
کھو گئے راستے___گُم ہو گیا ہر ایک سراب
بجھ گئے خاک پہ سب منزلِ ہستی کے نشاں،
اب جو اِک ابرِ تمنائے وفا کی صورت
تُم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں

ایک مُدّت سے مرے دِل کا چمن ویراں تھا
گُل نہ کِھلتے تھے___شجر جھوم کے لہراتے نہ تھے
کتنے خوش لحن پرندے تھے تمنا کے یہاں
وہ اُداسی تھی کہ اِک نغمہ دِل گاتے نہ تھے
کیا یہاں سبزہِ خوش رنگ کی ہوتی اُمید
اِس زمیں پر تو نمو کا بھی نہیں تھا امکاں،
اب جو اِک معجزہِ بادِ صبا کی صورت
تُم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں

کتنی راتوں سے شبستانِ محبّت میں یہ خاموشی تھی
اتنی تاریک خموشی کہ نہ جلتی تھی کوئی شمعِ صدا
تن فسردہ تھا بہت___دِل مرا تنہا تھا بہت
چشمِ حیرانی مگر دیر تلک جاگتی تھی
دیر تک جاگتی اور خواب میں گُم رہتی تھی،
پردہِ خواب پہ تصویر کے پیکر میں نہاں
خوشبو و روشنی و صوت و صدا کی صورت
اب تُم آئے ہو تو کچھ دیر کو ٹھہرو مری جاں

جانتی ہوں کہ کہاں ابرِ وفا، موجِ صبا، صوت و صدا
دیر تک ایک جگہ ٹھہرے ہیں
جانتی ہوں کہ ہر اِک وصلِ دل آرام کے بعد
تن پہ اُس ہجرِ ستم گر کے نشانات بہت گہرے ہیں

ثمینہ راجا

از:-دِلِ لیلیٰ ص ۴۹/۵۰

اِنتِخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/