منتخب غزلیں

(ابنِ انشا) فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی…

(ابنِ انشا)

فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی رما کے بیٹھو
جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے، جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو

اے اُن کی محفل میں آنے والو، اے سود و سودا بتانے والو
جو اُن کی محفل میں آکے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے، مگر کرو گے نباہ ہم سے؟
ذرا ملاؤ نگاہ ہم سے، ہمارے پہلو میں آکے بیٹھو

جنوں پرانا ہے عاشقوں کا، جو یہ بہانہ ہے عاشقوں کا
تَو اک ٹھکانا ہے عاشقوں کا، حضور جنگل میں جا کے بیٹھو

ہمیں دکھاؤ نہ زرد چہرا، لئے یہ وحشت کی گَرد چہرا
رہے گا تصویر درد چہرا، جو روگ ایسے لگا کے بیٹھو

جنابِ انشاؔ یہ عاشقی ہے، جنابِ انشاء ؔیہ زندگی ہے
جنابِ انشاؔ جو ہے یہی ہے، نہ اِس سے دامن چھڑا کے بیٹھو


Related Articles

24 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/