منتخب غزلیں
(ابنِ انشا) فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی…

(ابنِ انشا)
فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی رما کے بیٹھو
جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے، جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو
اے اُن کی محفل میں آنے والو، اے سود و سودا بتانے والو
جو اُن کی محفل میں آکے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو
بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے، مگر کرو گے نباہ ہم سے؟
ذرا ملاؤ نگاہ ہم سے، ہمارے پہلو میں آکے بیٹھو
جنوں پرانا ہے عاشقوں کا، جو یہ بہانہ ہے عاشقوں کا
تَو اک ٹھکانا ہے عاشقوں کا، حضور جنگل میں جا کے بیٹھو
ہمیں دکھاؤ نہ زرد چہرا، لئے یہ وحشت کی گَرد چہرا
رہے گا تصویر درد چہرا، جو روگ ایسے لگا کے بیٹھو
جنابِ انشاؔ یہ عاشقی ہے، جنابِ انشاء ؔیہ زندگی ہے
جنابِ انشاؔ جو ہے یہی ہے، نہ اِس سے دامن چھڑا کے بیٹھو





بہت ہی اعلا اور خوبصورت
بہت خوب لکھا ہے
Allah darjat buland kary
Excellent
May their souls rest in peace
Bahut Khubsurat
Allah jannat naseeb kare
Great people.
بہت خوبصورت
Our heroes
بہت زبردست
بہت ہی عمدہ
Zbrdst
????
واہ
Zbrdst
لاجواب
wow
بے شک
یہ ہیرے تھے جو واقعی نایاب ہوتے ہیں۔
Wah
عظیم لوگ
Classic