منتخب غزلیں

شمع ہوگی صبح تک باقی نہ پروانے کی خاک اہل محفل کی …

شمع ہوگی صبح تک باقی نہ پروانے کی خاک
اہل محفل کی زباں پر داستاں رہ جائے گی

یزدانی جالندھری کی پیدائش
July 16, 1915

یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت 16 جولائی 1915 کو پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی
اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سےمزید تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور آ گئے جہاں ان کے دوستوں میں حمید نظامی,نسیم حجازی اور مرزا ادیب جیسے صحافی اور ادیب شامل رہے۔ ابتدا میں اپنے رشتہ کے چچا سیّد فرزند علی شاہ صاحب سے اور بعد ازاں سلسلۂ مصحفی کے استاد شاعر مولانا افسر صدیقی امروہوی اوراستاد تاجور نجیب آبادی سے مشورہ سخن رہا۔
برِصغیر پاک و ہند میں یزدانی صاحب کو اپنے دور کا اُستاد شاعر کہا جاتا ہے۔1933 میں ادبی جریدہ "غالب” کا اجرا کیا جس میں احسان دانش ، خاطر غزنوی اور عبدالحمید عدم ان کی معاونت کرتے تھے۔
کالج کی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں گزارا جہاں ان کی دوستی ساحر لدھیانوی سے رہی۔ اس دور کے ان کے ادبی دوستوں میں کیفی اعظمی اور جاں نثار اختر کے نام بھی شامل ہیں۔ اسی دوران انہیں خوشتر گرامی کے رسالہ”بیسویں صدی” کی ادارت کا موقع بھی ملا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یزدانی جالندھری پہلے کراچی مقیم رہے جہاں صہبا لکھنوی کےادبی مجلہ "افکار” کی مجلسِ ادارت کے رکن رہے۔ اور چند فلموں کے لیے گیت اور مکالمے بھی لکھے۔ ساٹھ کے عشرے میں کراچی سے مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں وہ ماہنامہ "نیا راستہ”، "امدادِ باہمی”،” انقلابِ نو”،”محفل”، "اداکار” اور ” اردو ڈائجسٹ” کے علاوہ روزنامہ سیاست کے ادارتی عملہ میں بھی شامل رہے۔ یزدانی جالندھری ادارۂ ادب کے سیکریٹری اور پاکستان رایٔٹرز گلڈ کے فعال رکن رہے۔ ان کی تخلیقات محفل ، فنون ، نقوش ، تخلیق ، شام وسحر ، افکار اور پنج دریا جیسے معیاری ادبی جرایٔد میں جگہ پاتی تھیں ۔
یزدانی جالندھری کا انتقال 23 مارچ 1990ء کو لاہورمیں ہوا۔

بزم وفا سجی تو عجب سلسلے ہوئے
شکوے ہوئے نہ ان سے نہ ہم سے گلے ہوئے
…..
عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ
کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں
…..
ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو
چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو
…….
شمع ہوگی صبح تک باقی نہ پروانے کی خاک
اہل محفل کی زباں پر داستاں رہ جائے گی
…..
زندگی کوہ بے ستوں گویا
ہر نفس ایک تیشۂ فرہاد


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/