منتخب غزلیں
دلی شہر کے اجڑنے کے بعد جب میر تقی میرؔ لکھنو پہنچ…
دلی شہر کے اجڑنے کے بعد جب میر تقی میرؔ لکھنو پہنچے اورایک محفل مشاعرہ میں شمع ان کے سامنے آئی، تو اہل لکھنو میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کون حضرت ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ میر صاحب نے ڈبڈبائی آنکھوں سے محفل کو دیکھا اور یہ قطعہ پڑھا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔
کیا بود و باش پوچھو ہو‘ پورب کے ساکنو!
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا ‘ عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں ‘ اسی اجڑے دیار کے
ان اشعار کے پڑھتے ہی عقیدت مندوں نے میرؔ صاحب کے ہاتھ چوم لئے۔ ( وجیہہ الدین کی کتاب "شہرِ لکھنؤ”سے اقتباس)
اِنتخاب:-حکیم خلیق الرحمٰن
المرسل::-:: فاروق کوہاوڑ (سفیدپوش)


میر کو دلی اجڑنے کا ساری زندگی بہت دکھ رہا اسی لئے میر نے اپنی شاعری میں جا بجا دلی کا ذکر کیا ہے۔۔۔
یہ والد صاحب نے بچپن میں بتایا تھا واقعہ جو اب یاداشت سے کافی حد تک نکل چکا تھا، بہت نوازش آپکی اس کو شیئر کرنے کے لیے 🙂
شکریہ
عجیب بات ہے کہ یہ قطعہ میر کے کلیات میں نہیں ہے اور محققین متفق ہیں کہ قطعہ میر کا نہیں البتہ یہ قصے آب حیات سے لیے گئے ہیں اب اس کی حقیقت اللہ ہی جانے
بہت خوب
اعلی انتخاب
خوب
شکریہ
دل بھر آیا۔۔۔۔۔۔????
اور یہ قطعہ فلبدیہ انھوں نے پڑھا تھا۔ پہلے سے لکھا ہوا نہیں تھا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں
تھا کل تلک غرور جنہیں تخت و تاج کا
Bhuli hoy batan taza ho gy thanks khaleek Rahman sb
کلیات میں کہیں نہیں ہے
Zaki Ahmad
Wahhhhh Wahhhhh
Bahot aala ???? , Kia kehne .
یہ واقعہ اسکول کی کتاب میں پڑھا تھا۔۔۔میر صاحب اس مشاعرہ میں اپنے روایتی لباس میں تھے جس پر لکھنو کے لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ۔۔تو میر صاحب نے فی البدیہہ یہ قطعہ سنایا۔۔۔
خرابی دل کی اس حد ھے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا
آبادی بھی یہاں تھی یا کہ ویرانہ ھے قدرت کا
کیا کہنے ❤
Urdu ka khuda tha Mir
Kamaaaaaaaaaaaaal
Wah keya bat
Basit Takhliya
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامئے دستار
میر تو میر تھے