منتخب غزلیں

پڑھ کے پیغـامِ محبـت جو بگڑ سکتا ہے پھر تو قاصد کے…

پڑھ کے پیغـامِ محبـت جو بگڑ سکتا ہے
پھر تو قاصد کے بھی دو چار وہ جڑ سکتا ہے

یہ تو ہم ہیں جو دِکھا دیتے ہیں آنکھیں ورنہ
ہجر کے آگے بھلا کون اکڑ سکتا ہے

ایک جھٹکے میں تسلی سے بھرا ہاتھ نہ کھینچ
میرا بخیے کی طرح ضبط اُدھڑ سکتا ہے

ذہن گرچہ ہے رفیق اِس کا، مگر تیرے لیے
یہ دل اپنے ہی طرفدار سے لڑ سکتا ہے

ایسے دلکش ہیں مناظر کہ بندھا جائے ہے
دھیان مُبہِم جو مرے دل کو جکڑ سکتا ہے

روبرو سب کے کیا کر نہ اِن آنکھوں سے کلام
دیکھنے والا شش و پنج میں پڑ سکتا ہے

حِـدّتِ لمـس مہیـا کـرو اُس کو، آخـر
کب تلک ٹھنڈ میں وہ ہاتھ رگڑ سکتا ہے

آ کے نزدیک مرے بیٹھ گئے تم جو، کوئی
اپنے بارے میں غلط قصہ بھی گھڑ سکتا ہے

فہیم رحمان آذرؔ


Related Articles

25 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/