ایک ایک کر کے لوگ نکل آئے دھوپ میں جلنے لگے تھے ج…

جلنے لگے تھے جیسے سبھی گھر کی چھاؤں میں
خاطر غزنوی کا یومِ وفات
July 07, 2008
محمدابراہیم بیگ نام اور خاطر تخلص ہے۔۱۹۲۵ء میں پشاور میں پید اہوئے۔تعلیم ایم اے (اردو)، ڈپلوما چینی زبان، آنرز (پشتو) ، سرٹیفکیٹ روسی زبان۔ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک رہے۔ کئی اخباروں اور رسالوں کے اڈیٹر رہے۔ پشاور یونیورسٹی میں چینی زبان کے استاد کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کے چند نام یہ ہیں: ’سرحد کی رومانی کہانیاں‘، ’سرحد کے رومان‘(لوک کہانیاں)، ’رزم نامہ‘(رزمیہ نظم)، ’جدید نظمیں‘(انتخاب)، ’ننھی منی نظمیں‘(بچوں کی نظمیں)، ’خوش حال خاں خٹک کا کلام‘(اردو ترجمہ)، ’مرزا محمود سرحدی۔ شخصیت وفن‘، ’خواب در خواب‘(شعری مجموعہ)۔ وہ ۷؍جولائی ۲۰۰۸ء کو پشاور میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172
فضا کا ذرہ ذرہ عشق کی تصویر تھا کل شب جہاں میں تھا
میں خود اپنی نظر میں صاحب توقیر تھا کل شب جہاں میں تھا
جسے دیکھا وہ دیوانہ تھا نقش دلنشیں کے حسن عادل کا
جسے سوچا فنا کے رنگ کی تفسیر تھا کل شب جہاں میں تھا
مرا دل میرے جس پہلو میں رقصاں تھا اسی پہلو میں جنت تھی
یہ منظر چشم وا کے خواب کی تعبیر تھا کل شب جہاں میں تھا
وہ کیا لو تھی کہ جس کی اک کرن میں سورجوں کی وسعتیں گم تھیں
مرا سارا جہاں تنویر ہی تنویر تھا کل شب جہاں میں تھا
عمارت جسم کی مسمار ہوتی جا رہی ہر نفس لیکن
دل ویراں کو زعم رفعت تعمیر تھا کل شب جہاں میں تھا
ہوا نے احترام محفل قدسی میں اپنائی روش گل کی
فدا اس خامشی پر جوہر تقریر تھا کل شب جہاں میں تھا
….
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے
اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے
وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے
یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے
اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے
کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے




گو ذرہ سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے
چلو اتنا تو ھوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے
خاطر غزنوی
ہم حزان سے نباہ کر لینگے
تم بہاروں کو ساتھ لیتا جا