منتخب غزلیں
نظر میں ڈھل کے اُبھرتے ہیں دِل کے افسانے یہ اور …

نظر میں ڈھل کے اُبھرتے ہیں دِل کے افسانے
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے
وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے
یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ
فسردہ میکدے والے اُداس مے خانہ
مرے ندیم تری چشمِ التفات کی خیر
بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے
یہ کس کی چشمِ فسوں ساز کا کرشمہ ہے
کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دِل کے بُت خانے
صوفی غلام تبسمؔ
المرسل: فیصل خورشید



Waah
God bless him
????
Wah
واہ
بہت عمدہ
Very good
صوفی تبسم جیسی شخصیات بہت مدتوں بعد پیدا ھوتی ہیں اور ناقابل فراموش ھوتی ھیں ادب کی دنیا اہل ادب کے مرہون منت ہے اہل ادب نے ھر دور میں ایک نٸی روح پھونکی اور اسے تازہ دم کردیا صوفی صاحب بلند پایا شاعر اور بہت قابل مترجم تھے ان کا کلام بازبان عام ھے
Ahlaa
جناب غلام مصطفی تبسم نے جناب اسدؔ اللہ خان غالب رح کے بہت سے فارسی اشعار کا بےنظیر منظوم ترجمہ کیا ۔۔۔علاوہ ازیں صوفی صاحب نے بچوں کے لئے بہترین "ادَب” تحریر کیا۔۔۔آپ کا تخلیق کردہ ایک کردار "ٹوٹ بٹوٹ” تو آج بھی بچوں کو ازبر ہے ٹوٹ بٹوٹ کے کردار میں صوفی صاحب نے بچوں کی تربیت کے بہترین تخیّلات تخلیق کئے۔ صوفی صاحب نے فارسی پوربی اور اردو کے انمٹ شاعر اور بزرگ طوطیءِہِند حضرَت امیر خسرو رح کی شاعری کو اردو کے بہترین قالب میں ڈھالا یہ اردو شاعری پی ٹی وی پہ سُربہار کے نام سے بہت دیر تک مشہور گلوکاروں نے پیش کی اس پروگرام میں جناب امیر خسرو رح کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ منسلک ناقابِلِ فراموش واقعات سے بھی آگاہ کیا جاتا تھا۔ صوفی صاحب جب بھی گفتگو فرماتے وہ حکیم الامت حضرت علاّمہ اقبال رح سے پہلی ملاقات کا ایک واقعہ فخر سے سناتے ۔
وہ ابھی زیرِ تعلیم تھے ان دنوں میں حضرَت علاّمہ کی شاعری ہر خاص و عام کو متوجہ کر رہی تھی۔۔صوفی صاحب بھی اندر ہی اندر جناب علاّمہ کے معتقد ہو چکے تھے حضرَت علاّمہ کی زیارت کا شوق جب بےچین کرنے لگا تو ایک بڑی شخصیت کی معیت میں حضرَت علاّمہ کے دولت خانے پہ جا پہنچے۔ یہ حضرت علاّمہ سے صوفی صاحب کی زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ صوفی صاحب کا تعارف جناب اقبال رح سے غلام مُصطفیٰ کے نام سے کروایا گیا علاّمہ نے نگاہیں اٹھائیں اور چونک کر دیکھا۔۔۔۔صوفی صاحب فرماتے ہیں کہ مَیں ان نگاہوں کی تاب نہیں لا سکا۔۔۔۔۔اور یہ حضرَت علاّمہ کی باوضو نگاہوں کا فیض ہے کہ صوفی غلام مُصطفیٰ تبسم آج بھی زندہ ہیں۔
"افسوس تم کو مِیر سے صحبت نہیں رہی”۔۔۔۔۔
جناب صوفی غلام مُصطفیٰ تبسم کے یہ اشعار آج بھی غلام علی خان کی آواز میں واقعی شوق سے سنے جاتے ہیں
میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں ۔۔۔۔۔
یہ پنجابی ترجمہ ہے جناب غالِب کی ایک فارسی غزَل کا۔۔۔صوفی صاحب کے ترجمے نے جناب اسدؔ اللہ خان غالب رح کے اس فارسی کلام کو امر کر دیا۔ حکیم خلیق الرحمٰن