منتخب غزلیں

دیپ سے دیپ جلاؤ تو کوئی بات بنے گیت …

دیپ سے دیپ جلاؤ تو کوئی بات بنے
گیت پر گیت سناؤ تو کوئی بات بنے

قطرہ قطرہ نہ پکارو مجھے بہتی ندیوں
موج در موج بلاؤ تو کوئی بات بنے

رات اندھی ہے گزر جائے گی چُپکے چُپکے
جال کِرنوں کا بچھاؤ تو کوئی بات بنے

سامنے اپنے ہی خاموش کھڑا ہوں کب سے
درمیاں تُم بھی جو آؤ تو کوئی بات بنے

داستاں چاند ستاروں کی سنانے والو
تم مرا کھوج لگاؤ تو کوئی بات بنے

منتظر میں تو بہ ہر گام ہوں ساحل کی طرح
صورتِ موج تم آؤ تو کوئی بات بنے

جھانکتا کون ہے اب دل کے شگافوں میں رشیدؔ
زخم چہرے پہ سجاؤ تو کوئی بات بنے

رشیدؔ قیصرانی۔۔۔!!


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/