منتخب غزلیں

حبیب اشعر دہلوی کا یومِ وفات June 14, 1971 تری دی…

حبیب اشعر دہلوی کا یومِ وفات
June 14, 1971

تری دید جانِ طرب چاہتا ہوں
مگر ضد یہ ہے بے طلب چاہتا ہوں
…..
کیسا مقابلہ ترے حسن و شباب کا
اک دن نہ جل سکے گا چراغ آفتاب کا

صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتی
ٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہا
…..
یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومی
وہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہا
….
پہلو میں اک نئی سی خلش پا رہا ہوں میں
اس وقت غالباً انہیں یاد آ رہا ہوں میں

کیا چشم التفات کا مطلب سمجھ گیا
کیوں ترک آرزو کی قسم کھا رہا ہوں میں

کیا کچھ نہ تھی شکایت‌ کوتاہیٔ نظر
اب وسعت نگاہ سے گھبرا رہا ہوں میں

تو یہ سمجھ رہا ہے کہ مجبور عشق ہوں
کچھ سوچ کر فریب وفا کھا رہا ہوں میں
….
طور بے طور ہوئے جاتے ہیں
اب وہ کچھ اور ہوئے جاتے ہیں

چھلکی پڑتی ہے نگاہ ساقی
دور پر دور ہوئے جاتے ہیں

تو نہ گھبرا کہ ترے دیوانے
خوگر جور ہوئے جاتے ہیں

عشق کے مسئلہ‌ ہائے سادہ
قابل غور ہوئے جاتے ہیں

Related Articles

2 Comments

  1. جبیب اشعر۔۔۔۔۔۔۔۔
    جناب حبیب اشعر ماہر مستند طبیب تھے۔1919 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔مسیح الملک حکیم اجمل خان صاحب کے خاندان سے قلبی رشتہ تھا۔پاکستان کے قیام کے بعد لاہور آ گئے۔حکیم محمد اجمل صاحب کے پوتے اور اجمل لیبارٹریز کے مالک جناب حکیم نبی خان جمال سویدا سے گہرے مراسم تھے۔ (حکیم نبی خان جمال سویدا مسیح الملک حکیم محمد اجمل خان کی قائم کردہ حکماء کی قدیم نمائندہ طبی تنظیم طبی کانفرنس کےصدر بھی تھے )معروف نثر نگار انتظار حسین نے حکیم حبیب اشعرکو درویش طبیب قرار دیا ہے۔حبیب اشعر اردو کے شدید دلدادہ تھے۔ان کے پاس آنے والے مریضوں کو دہلی کے مخصوص ذائقے کی یادگار چائے یا خالص شربت ضرور پیش کیا جاتا۔ اور ساتھ ہی اردو کے بہترین اشعار سے روح کی تواضع بھی کی جاتی۔شعراء کرام سے دواء کی قیمت لینا زیادتی اور خطاء قرار دیتے تھے۔۔ شاعری کی آمد کا عالم یہ تھا کہ نسخہ تحریر کرنے کے لئے قلَم اٹھاتے تو اشعار اترنے لگتے۔ مہمان نوازی کا جذبہ اتنا گہرا کہ شعراء کو چائے اپنے ہاتھ سے بنا کر پلاتے ماہنامہ "حاذق” لاہور کے مدیر اور لاہور سے چھپنے والے "فنون” کے شریک مدیر بھی رہے دو کتابیں۔۔۔ "راز و نیاز”، اور "اُردُو غزل کا مُستقبِل” بھی تحریر فرمائیں۔۔
    نسبی جانشین نہ ہونے کے باعث بہت سا کلام منظر عام پر نہ آسکا۔۔۔۔البتہ یہ بھی ٹھیک ہی ہُوا ورنہ کسی ناشر کے ہاتھ لگ جاتا تو اس کی چاندی ہو جاتی کیونکہ ساغر ، اور اقبال ساجد کا کلام آج بھی ناشرین کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔
    "زمیں کھا گئی آسماں کَیسے کَیسے” (حکیم خلیق الرحمٰن)

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/