منتخب غزلیں

ناصرؔ کاظمی جب ذرا تیز ہَوا ہوتی ہے کیسی سُنسان …

ناصرؔ کاظمی

جب ذرا تیز ہَوا ہوتی ہے
کیسی سُنسان فِضا ہوتی ہے

ہم نے دیکھے ہیں وہ سنّاٹے بھی !
جب ہر اِک سانس صَدا ہوتی ہے

دِل کا یہ حال ہُوا تیرے بعد
جیسے، وِیران سَرا ہوتی ہے

رَونا آتا ہے ہَمَیں بھی، لیکن
اِس میں توہینِ وَفا ہوتی ہے

مُنہ اندھیرے کبھی اُٹھ کر دیکھو
کیا تر و تازہ ہَوا ہوتی ہے

اجنبی دھیان کی ہر مَوج کے ساتھ
کِس قدر تیز ہَوا ہوتی ہے

غم کے بے نُور گُزر گاہوں میں
اِک کِرَن ذَوق فزا ہوتی ہے

غم گُسارِ سَفَرِ راہِ وَفا
مژۂ آبلہ پا ہوتی ہے

گُلشَنِ فِکر کی مُنہ بند کلی
شَبِ مہتاب میں وا ہوتی ہے

جب نِکلتی ہے نِگارِ شَبِ گُل
مُنہ پہ شبنم کی رِدا ہوتی ہے

حادثہ ہے، کہ خزاں سے پہلے
بُوئے گُل، گُل سے جُدا ہوتی ہے

اِک نیا دَور جَنَم لیتا ہے
ایک تہذیب فَنا ہوتی ہے

جب، کوئی غم نہیں ہوتا ناصرؔ !
بَیکلی دِل کی، سوا ہوتی ہے

ناصرؔ کاظمی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/