منتخب نظمیں

اسے معلوم نہ تھا کہ جس باپ کی خاموشی کو وہ دوری س…

🔥 اسے معلوم نہ تھا کہ جس باپ کی خاموشی کو وہ دوری سمجھتا رہا، وہ خاموشی دراصل اس کی ہر چھوٹی جیت کا نوحہ لکھ رہی تھی۔ 🔥

میرا نام مائیکل ہے۔ میری عمر سینتالیس برس ہے، مگر اس اتوار کی صبح، اپنے باورچی خانے کی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے خود کو نو سال کا وہ بچہ محسوس کیا جس کے گھٹنے سائیکل سے گر کر چھل گئے تھے۔

میرے والد، جم، پچھتر سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ ایک فیکٹری کے فورمین رہے—سخت کوش، نظم و ضبط کے عادی، اور جذبات کے معاملے میں اتنے ہی کنجوس جتنے وہ اپنی محنت کی کمائی میں تھے۔ ان کے نزدیک محبت کا اظہار لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔ اگر آپ اداس ہیں، تو وہ آپ کے کندھے پر ایک مضبوط ہاتھ رکھ دیں گے یا چائے کے ساتھ بسکٹ پیش کر دیں گے۔ بس، ان کی لغت میں ‘آئی لو یو’ کا یہی ترجمہ تھا۔

ہم نے سینتالیس سالوں میں شاید صرف چار بار ایک دوسرے سے کھل کر محبت کا اظہار کیا ہوگا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیں کبھی اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ جم تھے، اور میں ان کا بیٹا—ہماری خاموشیاں ایک دوسرے کا پتہ جانتی تھیں۔

تین ماہ قبل، انہوں نے مجھے بلایا۔ بہانہ ایک پرانی الماری سرکانے کا تھا، جس میں بمشکل آٹھ منٹ لگے۔ جب کام ختم ہوا، تو وہ کچن کی دراز سے ایک لفافہ نکال لائے۔ اس پر میرا نام ان کی کٹی پھٹی، مگر پختہ تحریر میں درج تھا۔

"اسے ابھی مت کھولنا،” انہوں نے کہا۔
"کب کھولوں؟” میں نے پوچھا۔
"میں خود بتاؤں گا۔”

بس۔ کوئی وضاحت نہیں، کوئی جذباتی پس منظر نہیں۔ میں نے وہ لفافہ لیا اور اپنی میز کی دراز میں ڈال دیا۔ کئی ہفتے گزر گئے۔ میں نے اسے کئی بار دیکھا، چھوا، مگر کھولا نہیں۔ وہ لفافہ میرے لیے ایک ایسی پہیلی بن گیا تھا جس کا جواب خود سوال کے پاس تھا۔

پھر پچھلے اتوار کی صبح، جب ابھی سورج نے پوری طرح آنکھ بھی نہیں کھولی تھی، میرا فون بجا۔
"اب تم اسے کھول سکتے ہو،” دوسری طرف سے جم کی آواز آئی۔
"ابھی؟ اسی وقت؟”
"ہاں، اگر چاہو تو۔”

میں کچن میں گیا، چائے بنائی اور کانپتے ہاتھوں سے وہ لفافہ چاک کیا۔ اندر ایک کاغذ تھا، جس کے دونوں اطراف ابا کی ہینڈ رائٹنگ سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ تحریر خوبصورت نہیں تھی، یہ ایک ایسے انسان کی تحریر تھی جسے لفظوں کی سجاوٹ سے زیادہ ان کے معنی سے غرض تھی۔

وہاں میری زندگی کے ‘بڑے دن’ نہیں لکھے تھے۔ وہاں میرا گریجویشن، میری ترقی، یا میری شادی کا ذکر نہیں تھا۔ وہاں وہ گیارہ لمحات درج تھے جو میں خود بھول چکا تھا، یا مجھے لگا تھا کہ ابا نے کبھی نوٹ ہی نہیں کیے۔

*”مجھے یاد ہے جب تم نو سال کے تھے، تم سائیکل سے بہت بری طرح گرے تھے۔ تمہارا سارا جسم لہولہان تھا، مگر تم اسی شام دوبارہ سائیکل پر بیٹھ گئے کیونکہ تم نہیں چاہتے تھے کہ تمہاری چھوٹی بہن گرنے کو ‘ہار ماننا’ سمجھ لے۔”*

*”تمہیں یاد ہے جب تمہاری پہلی نوکری چھٹ گئی تھی؟ تم نے مجھے فون کیا تھا۔ تم مشورہ نہیں مانگ رہے تھے، تم بس بات کرنا چاہتے تھے۔ تم نے آخر میں ‘شکریہ’ کہا تھا۔ اس رات مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں صرف ایک باپ نہیں، ایک اچھا سامع بھی بن سکتا ہوں۔”*

*”جب بھی میں تمہیں فون کرتا ہوں، تم سب کچھ چھوڑ کر چلے آتے ہو۔ تم نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں تم پر بوجھ ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو کہ میں نے تمہاری اس قربانی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا ہے۔”*

وہ گیارہ معمولی سے لمحات، جو سینتالیس سالوں کے ملبے تلے دب چکے تھے، ابا نے انہیں اپنی خاموشی کی تسبیح میں پرو کر رکھا تھا۔

کاغذ کے آخر میں صرف ایک سطر لکھی تھی:
**”میں یہ سب زبان سے نہیں کہہ پاتا۔ کبھی کہہ بھی نہیں سکا۔ مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے جانے کے بعد تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ میں تم پر کتنا فخر کرتا ہوں۔”**

میری چائے ٹھنڈی ہو گئی، مگر میری آنکھیں تپ رہی تھیں۔ میں نے انہیں فون کیا۔
انہوں نے دوسری ہی گھنٹی پر فون اٹھا لیا۔
"پاپا۔۔۔” میری آواز گلوگیر تھی۔
"میں جانتا ہوں، بیٹا،” انہوں نے بس اتنا کہا۔

اس ایک جملے میں کائنات بھر کا سکون تھا۔

آج میں نے اپنی بیٹی کے لیے ایک نیا سفید لفافہ خریدا ہے۔ وہ ابھی انیس سال کی ہے۔ میں اس میں وہ سب لکھ رہا ہوں جو میں کبھی کہہ نہیں پایا۔ میں اسے یہ لفافہ آج ہی دے دوں گا، مگر اسے بھی انتظار کرنا ہوگا۔

صحیح وقت کا۔ اور وہ وقت کب آئے گا؟ مجھے معلوم ہے، کیونکہ میں جم کا بیٹا ہوں۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/