مختصر کہانیاں

یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 4 زاہد …

یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون)
قسط نمبر 4

زاہد کسی کو میرے روم میں نہیں آنے دینا مجھے کچھ کام نمٹانے ہیں اور میں نہیں چاہتا کے میرے کام کے وقت کوئی مجھے ڈسٹرب کرے بھلے سے کوئی بھی ہو سب کو بول دینا کے میں نے منع کیا ہے……حماد بخاری کے کہنے پے زاہد نے آھستہ سے سر کو خم دیا اور کمرے سے باہر جانے لگا…..
اور سنو خاور سے کہو میرے لئے کافی بنا دے تم ہی کافی لے کر میرے کمرے میں آ جانا ….
اوکے سر ….وہ یہ کہ کر کمرے سے باہر نکل گیا ….
حماد بخاری اپنے ڈاکمنٹس کی طرف متوجہ ہو گئے الیکشن سر پے تھے اور انہیں بہت سے کام پورے کرنے تھے کام بہت تھے وقت کم تھا نعمان بھی کام مکمل کروانے میں انکی مدد کر رہا تھا تھوڑی دیر میں زاہد کافی لے کر آ گیا حماد نے کافی کا کپ اسکے ہاتھ سے لے لیا وہ پھر باہر چلا گیا ….
اوہو آج پاپا سے پیسے لینے پڑیں گے میری ڈرگز ختم ہو گئی ہیں …زین نے ڈرگز کا شاپر خالی دیکھا تو دل ہی دل میں کہا وہ حماد بخاری کے کمرے کی طرف بڑھ گیا زاہد انکے کمرے کے دروازے پے ہی کرسی لگاۓ بیٹھا تھا اسنے اسے نظر انداز کیا اور دروازے کی طرف بڑھا لیکن زاہد نے اسے درمیان میں ہی روک لیا ….
سر اپنے کچھ ضروری کام نمٹا رہے ہیں اور انہوں نے کسی کو بھی کمرے میں آنے سے منع کیا ہے…
ہٹو راستے سے مجھے انسے ضروری بات کرنی ہے …زین نے اسے پرے ہٹایا ….
سوری سر اگر میں نے آپکو نہیں روکا تو حماد سر مجھے ملازمت سے فارغ کر دیں گے …
اور اگر تم نے مجھے انداز جانے سے روکا تو میں تمھیں ملازمت سے فارغ کر دوں گا تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں ایسا کر سکتا ہوں …..
سر پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ …….
تم سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا سوچو مجھے اندر جانے دو ورنہ تمھیں ملازمت سے فارغ کرا کر مجھے ذرا بھی دکھ نہیں ہوگا …..زین نے اسکا کندھا پکڑ کر تھپتتھپایا….
ایک منٹ سر میں انسے پوچھتا ہوں …
زاہد نے دروازے پے دستک دی ..
کیا ہے .اندر سے دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی ….
سر زین آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں…….
میں نے کہا ہے نہ کے میں اس وقت کسی سے بات نہیں کر سکتا مجھے کام کرنے دو اس سے کہ دو کے مجھسے بعد میں آ کر بات کرے ……
سن لیا آپ نے ….وہ زین کی طرف مڑا…..
اوہ ڈیڈ اوپن دی ڈور مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے …….
ابھی نہیں بعد………
ضروری بات ہے اس لئے ابھی کرنا ضروری ہے…..زین بھی اپنی ضد کا ایک ہی تھا ……..
ٹھیک ہے آ جاؤ….
سن لیا آپنے…..اسنے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پے سجاتے ہوئے کہا اور دروازہ دھکیل کر کمرے میں داخل ہو گیا …
ہونہہ ….اسنے زین کے جانے کے بعد منہ بنایا ….”ان دونوں باپ بیٹوں کے درمیان میں خواہ مخواه پس رہا ہوں”………..
بیٹھو….حماد نے فائل سے نگاہ ہٹائے بغیر کہا …
زین سنگل صوفے پر بیٹھ گیا….
"کہو کیا ضروری بات کرنی ہے”..وہ اب ایک رجسٹر میں کچھ لکھ رہے تھے انکا ہاتھ بڑی تیزی سے چل رہا تھا….
ڈیڈ وہ……اسنے بات ادھوری چھوڑ دی…
وہ کیا؟…..
ڈیڈ میری پاکٹ منی ختم ہو گئی اور آپ سے وہی لینے آیا ہوں…..
یہ ضروری بات ہے…..انکا تیزی سے چلتا ہوا ہاتھ رک گیا لیکن قلم انکے ہاتھ میں ہی تھا. ….
جی بہت ضروری …..زین نے سنجیدگی سے کہا…..
یہ تم مجھسے بعد میں بھی کہ سکتے تھے اس وقت مجھے ڈسٹرب کرنا ضروری تھا …..وہ اسے گھور رہے تھے…..
جی ڈیڈ ضروری تھا میری جیب میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے اس لئے مجھے ابھی پیسے چاہییں…..
اچھا ایک بات بتاؤ….
جی پوچھیں …
میں تمھیں مہینے میں کتنی دفع پاکٹ منی دیتا ہوں …..
ایک دفع …..
اور شاید میں نے تمھیں دو ہفتے پہلے ہی پاکٹ منی دی تھی ….
شاید نہیں یقیناً….
پھر اتنی جلدی پیسے کیسے ختم ہو گئے کہاں گئے اتنے پیسے…..
پتا نہیں ڈیڈ ڈھیروں کام ہوتے ہیں ہزاروں روپے روزانہ خرچ ہو جاتے ہیں اب میں ایک ایک روپیے کا حساب تو کرنے سے رہا ……
حساب نہیں کر سکتے لیکن طریقے سے تو خرچ کر سکتے ہو نہ ……
ڈیڈ میں طریقے سے ہی خرچ کرتا ہوں اگر میں فضول خرچی پے اتر آیا نہ تو ہر ہفتے آپکے لاکھوں روپے ایسے ہی زائع ہو جائیں …..
اچھا اور ابھی تقریباً کتنے پیسے خرچ کرتے ہیں آپ ہر ہفتے …..
ابھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں پیسے لاکھوں تک نہیں پہنچے …..
اور اگر آپ نے اپنا ہاتھ تنگ نہیں کیا تو انشاللہ بہت جلد یہ ہزاروں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ ہی جائے گی……
آمین اللّه تعالیٰ آپکی زبان مبارک کریں….
ڈھیٹ ……وہ دھیرے سے مسکرایا .”بہت”….
ڈیڈ پیسے……
ایک منٹ یہ کہ کر انہوں نے زاہد کو اندر بلایا …..
جی سر…..
یہ چیک بینک سے کیش کرا لاؤ اور تمام پیسے زین کو دے دو ….یہ کہ کر انہوں نے ایک چیک زاہد کی طرف بڑھایا
جی سر ..وہ انکے ہاتھ سے کیش لے کر چلا گیا…..
اچھا میں بھی چلتا ہوں….یہ کہ کر زین بھی کمرے سے باہر نکل گیا………
اپنا کام ہو گیا تو فورا چل پڑے…..حماد بخاری نے ہنس کر کہا اور اپنے موبائل سے کسی کو کال کرنے لگے……
دیکھنا ایک دن پوری دنیا کی زبان پے صرف ایک ہی نام ہوگا سیف سیف ہر کوئی میرے ہی گن گیا کرے گا دیکھنا ایک دن میں بہت ترقی کروں گا اور پوری دنیا پر چھا جاؤں گا …سیف اپنے کچھ دوستوں کے سامنے اپنے منہمیاں مٹھو بننے کی کوشش کر رہا تھا …..
سیف بیٹا دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دو …..زین نے اسکا کندھا تھپتھپایا…….
I always think positive mr. Zain….سیف نے ایک قہر آلود نگاہ اس پے ڈالی…
لیکن یہ کچھ زیادہ ہی پازیٹو نہیں ہو گیا بیٹا…..
یہ پازیٹو وازیٹو چھوڑو اور میری ایک بات کان کھول کر سن لو میرا نام سیف ہے اور مجھے بار بار بیٹا اور کسی دوسرے ناموں سے نہیں بلایا کرو……
مجھے بھی پتا ہے تمہارا نام سیف ہے اور بیٹا تو میں تمھیں پیار سے بولتا ہوں ویسے بھی میری زبان ہے میری مرضی میں جو کہوں تم میری زبان پر تالا نہیں لگا سکتے …..
تالا نہیں لگا سکتا لیکن زبان ہمیشہ کیلئے کٹوا تو سکتا ہوں…..سیف نے اسے دھمکی دے کر ڈرانے کی کوشش کی …..لیکن وہ بھلا ان گیدڑ بھبهكيوں میں کہاں آنے والا تھا …….
ٹھیک ہے کٹوا لو میں یہیں تو کھڑا ہوں ….زین نے ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے کہا سیف بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا …….
آنکھوں ہی آنکھوں میں کھانے کا ارادہ ہے کیا …زین نے ہنس کر کہا اور آگے بڑھ گیا آج بھی زین اسے اچھی خاصی سنا گیا تھا آدھے سے زیادہ کالج یہاں موجود تھا وہ ان سب کے درمیان سیف کی بے عزتی کر گیا تھا لیکن وہ بھی کیا کر سکتا تھا لاچار تھا مار پیٹ کی لڑائی میں زین سے جیتنا ناممکن تھا اور عقل کی لڑائی میں تو وہ سیف سے بہت آگے تھا اس لئے سیف بھی سر سلمان کی طرح صرف انگلیاں بھینچ کر رہ گیا …..
پرنسپل سر آپکو اپنے آفس میں یاد فرما رہے ہیں…….سیف نے بڑی سنجیدگی سے کہا ….
اچھا کس خوشی میں یاد فرما رہے ہیں وہ مجھے …..
پتا نہیں کوئی کام ہوگا شاید کسی کی زبان پے تالا لگانا ہو…..سیف نے طنزیہ لہجے میں کہا اور ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا ……
زین نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور پرنسپل سر کے آفس کی طرف قدم بڑھا دئے….
السلام و علیکم سر مے آئی کم ان …..زین نے ادب سے کہا…..
وعلیکم السلام کم ان.
زین آفس میں داخل ہو گیا آفس میں صرف پرنسپل ہی بیٹھے تھے……
جی سر …..زین نے ادب سے سر جھکا لیا…..
زین آپکی کچھ شکایتیں ملی ہیں مجھے …..
سوری سر کیسی شکایتیں….
سننے میں آ رہا ہے کے آپ سیف کے ساتھ لڑائی جھگڑا کر رہے ہیں……
کسنے کہا ہے سکر آپکو یہ……
آپکو اس سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے آپ بتائیں آپ نے سیف کے ساتھ لڑائی کی تھی یا نہیں …..
نہیں سر میں نے لڑائی نہیں کی صرف ہماری کچھ باتیں ہوئی تھیں جو شاید سیف کو ناگوار گزریں…
جب آپ دونوں کی آپس میں بنتی ہی نہیں تو پھر آپ بات ہی کیوں کرتے ہیں…..
سر میں کچھ بھی نہیں کرتا ہمیشہ بات سیف ہی شروع کرتا ہے یہ بات پورا کالج جانتا ہے…
آپ اتنے یقین سے کیسے کہ سکتے ہیں کے پورا کالج یہ بات جانتا ہے کیا میں پورے کالج میں سے کسی کو بھی بلا کر پوچھ لوں وہ یہ کہے گا کے بات ہمیشہ سیف کی طرف سے شروع ہوتی ہے …..زین انکی بات پے مسکرایا "جی سر آپ بلکل بلا لیں”….
ٹھیک ہے آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی کسی بھی سٹوڈنٹ کو بلا کر لے آتا ہوں…..یہ کہ کر وہ کھڑے ہو گئے …..
سوری سر آپ نہیں جا سکتے …پرنسپل سر رک گئے …
کیوں؟میں کیوں نہیں جا سکتا…..
سر آپ چلے جائیں گے اور کسی بھی سٹوڈنٹ کو سکھا پڑھا کر لے آئیں گے کے وہ میرے خلاف گواہی دے اور اس طرح میں بے گناہ فضول میں پھنس جاؤں گا …..
یہ کس طرح بات کر رہے ہیں آپ زین مجھے کسی کو پٹی پڑھانے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی اس بات پے کے وہ آپکے خلاف گواہی دے بھلا یہ بھی ممکن ہے ……
سر یہ ناممکن بھی نہیں ہے…..وہ سنجیدہ تھا …
ٹھیک ہے یہ کہ کر وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئے اور اپنے موبائل سے کسی کو کال کرنے لگے ….
ہیلو سر نجیب جی جی میں ہی ہوں….
آپ اس وقت کونسی کلاس میں ہیں….
ٹھیک ہے سیکنڈ ایئر کی کوئی قابل اور سچی (یہ کہتے ہوئے انہوں نے زین کو گھورا تھا) سٹوڈنٹ کو میرے آفس میں بھیجیں جو بلکل سچ بولے یہ کہ کر وہ دوسری طرف کی بات سننے کیلئے رکے..
"اوہ اچھا حافظ قرآن بھی ہے پھر تو بھیج دیں جلدی” یہ کہ کر انہوں نے کال اینڈ کر دی تقریباً پانچ منٹ بعد ہی ایک لڑکی آفس میں آئی …
پردہ میڈم…زین نے زیر لب کہا اور دھیرے سے مسکرایا ……
آئیں بیٹھیں….پرنسپل سر نے کافی ادب سے کہا…
وہ انکے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی…
جی سر آپ نے کیوں بلایا مجھے …وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح ابائے میں تھی اور نقاب بھی لگا ہوا تھا صرف اسکی آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں……
آپ سے مجھے کچھ بات کرنی ہے….
جی کہیں…
آپکو یہ تو پتا ہی ہوگا کے کالج میں زین اور سیف کی کتنی لڑائیاں ہوتی ہیں کیا آپ کچھ بتا سکتی ہیں کے ان دونوں میں سے لڑائی میں زیادہ قصور وار کون ہوتا ہے اور لڑائی کسکی وجہ سے ہوتی ہے…….
وہ سوچنے لگی….”سر یہ تو مجھے نہیں پتا کے قصور وار کون ہوتا ہے لیکن جب بھی میں نے ان دونوں کی لڑائی دیکھی ہے تب ہمیشہ زیادہ تر بات زین کی طرف سے ہی ہوتی ہے ایسی بات نہیں ہے کے سیف بے قصور ہے بعض دفع وہ بھی بلاوجہ لڑائی کرتا ہے لیکن زیادہ تر زین ” وہ اتنا کہ کر خاموش ہو گئی….
لڑکی واقعی سچ بولتی ہے….زین نے دھیمى آواز میں کہا ……
کائنات کی بات سن کر پرنسپل سر نے ایک طنزیہ نگاہ زین پے ڈالی……
کائنات آپ چلی جائیں…..انہوں نے کائنات کو جانے کا اشارہ کیا بولا تو اسنے سب سچ تھا زیادہ تر لڑائیاں زین کی وجہ سے ہی ہوتی تھیں وہ خود ہی سیف سے پنگے لیتا رہتا تھا ……
اب آپ کیا کہتے ہیں مسٹر زین .وہ زین کی طرف متوجہ ہو گئے….
میں کیا کہ سکتا ہوں سر….
کائنات نے تو کہا ہی کے زیادہ تر لڑائی جھگڑے آپکی وجہ سے ہی ہوتے ہیں…
لیکن اسنے یہ بھی کہا ہے کے ہر بار قصور میرا ہی نہیں ہوتا بعض اوقات غلطی سیف کی بھی ہوتی ہے …..زین اپنی صفائی دے رہا تھا …..
جی ہاں مجھے پتا ہے اور اس ہی لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کے آپ دونوں کے گھر ایک ایک کال کی جائے تاکے آپکے کارناموں کے بارے میں آپکے گھر والوں کو بھی آگاہ کیا جا سکے اب آپ جا سکتے ہیں….یہ کہ کر انہوں نے اپنا موبائل ہاتھ میں لے لیا وہ آفس سے باہر نکل آیا وہ ذرا بھی گھبرایا ہوا نہیں تھا یہ اسکے لئے نئی بات نہیں تھی ہر ہفتے ہی اسکی كمپلینز اسکے گھر والوں کو ملتی ہی رہتی تھیں اسے تو کائنات پے غصّہ آ رہا تھا اسے زین کے بارے میں ایسا بولنے کی کیا ضرورت تھی بولا تو اسنے بلکل سچ تھا لیکن اسے سچ بولنے کی ضرورت ہی کیا تھی وہ جھوٹ بھی تو بول سکتی تھی یہی سوچتا ہوا وہ کلاس روم کی طرف بڑھ گیا…….
موم..وہ ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے جب زین نے سمرین کو مخاطب کیا …..
"یس”.
آج گھر میں اتنی تیاریاں کیوں ہو رہی ہیں کوئی آ رہا ہے کیا…..
ہاں حماد کے دوست آ رہے ہیں عاصم ہاشمی ….
اوہ عاصم ہاشمی میں لاسٹ ٹائم جنکی پارٹی میں گیا تھا وہی نہ…..
ہاں وہی آج رات کو آ رہے ہیں…..
کیوں ؟..
کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی انہیں ڈنر پے انوائٹ کیا ہے ….
اچھا صرف وہی آ رہے ہیں یا ڈیڈ کے کوئی اور دوست بھی آ رہے ہیں…..
نہیں صرف وہی آ رہے ہیں…یہ کہ کر وہ کرسی سے اٹھ گئیں ماریہ جب زین ناشتہ کر لے تو یہاں سے سارے برتن وغیرہ سمیٹ لینا ماریہ انکی ملازمہ تھی یہ کہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں زین خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا آج اسنے کالج کی چھٹی کی تھی وہ ناشتے کے بعد اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اسکے گھر کالج کے پرنسپل نے کال کردی تھی حماد بخاری نے اسے تھوڑا بہت ڈانٹا اسنے ہمیشہ کی طرح تھوڑی دیر کیلئے مصنوعی شرمندگی ظاہر کی اور پھر نارمل ہو گیا اسنے موبائل جیب سے نکالا .کامران کا ٹیکسٹ سکرین پر ابھرا ” کالج کیوں نہیں آیا”….
جواب دیا گیا بہت سادہ سا "ایسے ہی موڈ نہیں تھا”…
آج رات کا کیا پلان ہے …
وہی جو ہر دفع ہوتا ہے زین نے میسج کے اینڈ میں ایک شریر مسکراہٹ والی یموجی اسے سینڈ کری…..
"آج کسکے گھر پے کرنی ہے”..
"یار میرے گھر میں آج پاپا کے دوست آ رہے ہیں اس لئے میرے گھر میں پوسسیبل نہیں”زین کے اس ٹیکسٹ میں ایک پریشانی سی تھی ..
"لاسٹ ٹائم میرے گھر پے ہوئی تھی اس لئے اس دفع کم از کم میری طرف تو نہیں کامران کے” ٹیکسٹ میں صاف صاف انکار تھا…
پھر کہاں؟..
جم کے گھر.
وہ مانے گا..
ضرور اسکا تو باپ بھی مانے گا…
اوکے پھر آج رات تم جم کے گھر پہنچ جانا میں اسے ابھی بتا دیتا ہوں بس تم یاد سے آجانا ..زین نے کامران کا یہ ٹیکسٹ پڑھا اور موبائل سائیڈ پے رکھ دیا ……
رات کے10 بج رہے تھے حماد بخاری کے بنگلے میں عاصم ہاشمی کا انتظار ہو رہا تھا اور زین جم کے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا….
کہاں جا رہے ہو تم…سمرین نے اسے تیار ہوتے دیکھا تو تفشیشی انداز میں پوچھا …..
جم کے گھر ….اسنےگھڑیباندھتے ہوئے کہا …
کیوں؟.
ایسے ہی ٹائم پاس کرنے کیلئے کامران بھی جا رہا ہے اور میں بھی ….اب وہ پرفيوم لگا رہا تھا….
کیا مطلب ؟ایسے ہی ٹائم پاس کرنے یہ کیا بات ہوئی تمھیں پتا نہیں ہے کیا گھر میں مہمان آ رہے ہیں…..سمرین نے ابرو اوپر کر لیں….
مہمان آ رہے ہیں تو میں کیا کروں کیا انہوں نے یہ کہا ہے کے زین اگر گھر پر نہیں ہوا تو ہم واپس چلے جائیں گے ….سمرین گڑبڑا گئیں .”نہیں ایسا تو نہیں کہا”…..
"بس پھر میرا رکنا اتنا ضروری نہیں ….
زین اگر رک جاؤ گے تو کیا ہو جائے گا حماد کو بھی برا لگے گا …..
انہیں کیوں برا لگے گا میرے جانے یا نہ جانے سے …..
سمجھا کرو بیٹا ….
ٹھیک ہے بٹ میں زیادہ دیر تک نہیں رکوں گا ان سے مل کر چلا جاؤں گا ..
ہاں یہ ٹھیک ہے ….یہ کہ کر وہ اسکے کمرے سے نکل گئیں….
سر مہمان آ گئے ہیں آپ بھی آ جائیں سمرین میڈم آپکو بلا رہی ہیں…تھوڑی دیر بعد زاہد نے آ کر بتایا ….
ٹھیک ہے تم جاؤ میں آتا ہوں….زین نے کہا تو زاہد چلا گیا ..
تھوڑی دیر بعد زین بھی باہر چلا گیا عاصم ہاشمی سے گرم جوشی سے ملا….
ہیلو زین…
زین نے مڑ کر دیکھا وہ آئینہ تھی زین نے بھی ” ہیلو آئینہ” کہا.
تم لوگ پہلے بھی مل چکے ہو …حماد بخاری نے خوشگوار حیرت سے کہا …..
جی ہاں ڈیڈ کی پارٹی میں ملے تھے نہ ہم لوگ …..زین نے سکون کا سانس لیا کے اسنے یہ نہیں بتایا کے ہم بار میں ملے تھے ….
اچھا تم پارٹی میں آئے تھے عاصم ہاشمی نے کہا …
جی ہاں .
ہممممم میں نہیں مل سکا تم سے بیزی تھا نہ اس لئے دھیان نہیں رہا ….
اچھا..
زین آج میں پہلی دفع تمہارے گھر آئی ہوں کیا تم مجھے اپنا گھر نہیں دکھاؤ گے ..آئینہ اسکے قریب گئی …..
میرا گھر تمھیں اور بھی بہت سے لوگ دکھا سکتے ہیں میرا دکھانا ضروری ہے …زین نے ناگوارى سے کہا..سمرین نے اسے گھور کر دیکھا …
چلو میں ہی دکھا دیتا ہوں ویسے بھی مجھے کونسا کوئی کام ہے زین نے کہا اور اسے اپنا گھر دکھانے لگا گھر کیا پورا محل تھا پورا گھر دکھانے میں اسے تقریباً ایک گھنٹہ لگتا لیکن وہ بھی کیا کر سکتا تھا مجبوراً اسے آئینہ کو گھر دکھانا ہی پڑا جب وہ لوگ واپس لاؤنج میں آئے تو 11:30 بج رہے تھے زین جم کی طرف جانے لگا تو سمرین نے یہ کہ کر روک لیا "کھانا کھا کر ہی چلے جانا”…
اوکے…زین یہ کہ کر پھر رک گیا کھانا وغیرہ کھانے کے بعد جب اسنے ٹائم دیکھا بارہ بج رہے تھے ……
سارا ٹائم تو برباد ہو گیا اب جا کر کیا اچار ڈالوں گا زین نے غصّے سے کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ….
کیا یار تو کل آیا نہیں پتا ہے ہمارا کتنا نقصان ہوا …..کامران نے اگلی صبح کالج میں کہا…..
کیا نقصان ہوا ؟..زین نے کہا تو اسکے جواب میں پاس کھڑے جم نے کہا” یار تیری ساری ڈرنک ضائع ہو گئی”.
میں نہیں مانتا …زین نے مسکراتے ہوئے کہا …..
کیا نہیں مانتا؟…
یہی کے ڈرنک ضائع ہو گئی ایسا نہیں ہو سکتا……
کیوں؟…
میرے حصّے کی بھی یقیناً کامران نے یا تو نے پی لی ہوگی…..
اسنے پی
جم نے کامران کی طرف اشارہ کیا …
مجھے پتا تھا یہ ضرور پی لے گا میرے حصّے کی بھی …زین نے ہنس کر کہا پھر کہیں اور متوجہ ہوا ….
اوہ پردے والی میڈم….اسنے زور سے آواز لگائی…
وہ پیچھے مڑی اور پھر واپس آگے بڑھ گئی .
ارے ارے پردے والی میڈم آپکو پتا نہیں آپکی وجہ سے مجھے میرے ڈیڈ سے کتنی ڈانٹ پڑی ….وہ یہ کہتا ہوا اسکے پیچھے لپكا…….
اچھا ہوا تم جیسے کے ساتھ ہونا بھی یہی چاہیے وہ چلتے چلتے کہے جا رہی تھی …
تم جیسے کے ساتھ کیا مطلب مجھ جیسا سے کیا مراد ہے آپکی…..زین ہنستا ہوا اسکے آگے آ گیا….
پلیز سائیڈ میں ہو تم ہمیں جانا ہے….اسکے انداز میں سختی تھی زین سائیڈ میں ہو گیا لیکن جاتے جاتے اپنی ٹانگ اڑا گیا کائنات گری تو نہیں البتہ لڑكهڑا گئی…
جاہل…اسکے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا…..
میں تھرڈ ایئر میں ہوں اور آپ جاہل کہ رہی ہیں میں آپکا سینئر بھی ہوں آپ نے مجھے جاہل کہ دیا…..اسنے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئی زین صرف ہنس کر رہ گیا ……
زین آگے پڑھائی کا کیا پلان ہے کچھ مہینوں بعد ہی تم تھرڈ ایئر کے ايگزيمز دو گے اور میں چاہتا ہوں کے آگے کی پڑھائی تم کسی غیر ملکی یونیورسٹی میں کرو مجھے یقین ہے کے میں تمھیں جس یونیورسٹی میں بھی بھیجوں گا تم وہاں انٹری ٹیسٹ پاس کر ہی لو گے…..حماد بخاری نے کہا وہ لوگ اس وقت ڈنر کر رہے تھے.
اتنا یقین بھی اچھا نہیں ڈیڈ میں اتنا قابل سٹوڈنٹ نہیں ہوں…..زین نے پانی گلاس میں انڈيلتے ہوئے کہا……..
لیکن اتنے ناکارہ بھی نہیں ہو تم پڑھائی میں بہت اچھے ہو بس تم زیادہ دھیان نہیں دیتے نہ اس لئے پیچھے رہ جاتے ہو ……
بٹ اتنا پیچھے تو نہیں رہتا …..
میں بھی تو وہی کہ رہا ہوں یو آر ویری جینيس….انہوں نے تعریف آمیز نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا…….
ڈیڈ آج اسکی اتنی تعریف کس خوشی میں کی جا رہی ہے ….نعمان نے کہا .
آپکی تعریف تو ڈیڈ ہر وقت کرتے ہی رہتے ہیں آج میری تھوڑی تعریف ہو گئی تو آپ جیلس ہو گئے……زین نے ہنستے ہوئے کہا…..
نعمان کسی سے جلتا نہیں ہے……
اچھا میں نے کھانا کھا لیا ہے اس لئے میں تو چلا اپنے کمرے میں یہ کہ کر زین اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا .
وہ اپنے موبائل میں ایک کار ریسنگ گیم کھیل رہا تھا کبھی کار کو ادھر کرتا کبھی ادھر وہ رئیل لائف میں بھی ایسی ہی فاسٹ ڈرائیونگ کرتا تھا اکثر اسکے دوست بھی اسکے ساتھ بیٹھنے سے کتراتے تھے کارز کا اسے کوئی خاص شوق نہیں تھا اسے بس آوارہ گردیوں کا شوق تھا دوستوں پر پیسے لٹانے کا شوق تھا پیسے کو تو وہ پانی کی طرح بہاتا تھا بلکے وہ ہی نہیں انکے گھر کے سب افراد ایسے ہی تھے فضول خرچی کرنا انکا بہترین مشغلہ تھا بس حماد بخاری ہی تھے جو طریقے سے خرچ کرتے تھے ورنہ اور کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی تھی چاہے کچھ بھی ہوتا رہے یہ گھر بھی انہی کی وجہ سے سنبھلا ہوا تھا ورنہ اگر وہ نہیں ہوتے تو یہ لوگ تو کب کے برباد ہو چکے ہوتے سمرین بھی اتنی زمیدار نہیں تھیں انہیں اپنے فیشن سے ہی فرست نہیں ملتی تھی اپنی بہو کشمالہ کے ساتھ ہر وقت شاپنگ کرتے رہنا اور میک اپ وغیرہ کرنا انکا بہترین مشغلہ تھا …..
زین جب گیم کھیل کھیل کر تنگ آ گیا تو اسنے فیس بک آن کرلی کوئی بھی آن لائن نہیں تھا اسنے نیوز فیڈ چیک کی اور موبائل سائیڈ پے رکھ دیا اسکی زندگی اب بہت بور ہو گئی تھی وہ چاہتا تھا کے اسکی زندگی میں کوئی بڑی پرابلم ہو جائے وہ کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہو جائے عام طور پر لوگ پروبلمس سے جان چھڑاتے ہیں لیکن اسے تو خود پریشانیاں مول لینے میں مزہ آتا تھا لوگ چاہتے ہیں کے انکی زندگی خوشیوں سے بھر جائے اور وہ چاہتا تھا کے اسکی زندگی میں پریشانیاں ہی پریشانیاں ہوں وہ عجیب تھا بہت عجیب وہ اتنا عجیب تھا کے آج تک وہ خود بھی اپنے آپ کو نہیں سمجھ پایا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا آنے والے چند سالوں میں اسکی زندگی غموں اور پریشانیوں سے ہی بھرنے والی تھی .

(جاری ہے )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/