مختصر کہانیاں

یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 4 واپسی پر ح…

یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش)
قسط نمبر 4

واپسی پر حیات خاموش سی تھی. اسکی خاموشی شیرافگن نےبھی نوٹ کی. ڈرائیو کرتے ہوئے اسنے ایک نظر حیات کودیکھا.
"کیابات ہے حیات آج اتنی خاموش کیوں ہو؟”اسکی بات پر حیات جیسے گہری سوچ سے چونکی تھی.”ہوں… کوئی بات نہیں افگن بھائی”وہ ہلکےسےمسکرائی پھر باہر دیکھنے لگی.شیرافگن بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا.حیات پھر سوچوں میں گم ہوئی .وہ شازمہ کی کہی باتوں کو سوچ رہی تھی.اسکی بکواس پر حیات کو بڑا غصہ آیا تھا.شیرافگن سے وہ کتنا بھی چڑتی پر وہ اچھے سے جانتی تھی کہ شیرافگن کے کردار میں کوئی جھول نہ تھا.اور نہ حیات خود غلط تھی تو وہ شازمہ کی باتوں پر کیوں اداس ہوتی.اسنے لمبی سانس کھینچ کر شیرافگن کو دیکھا پھرایک دم مسکرائی اسنے جلدی سے چہرہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی کہ اگر شیرافگن دیکھ لیتا تو اسے پاگل ہی کہتا.وہ لوگ گھر پہنچے تو دادو ، تائی امی واپس آچکی تھیں.حیات ، امل اور ایمان انہیں گھیر کر بیٹھیں تھیں.شادی کے بارے میں سوال پر سوال کر رہی تھیں.دادو اورتائی امی مسکرا کر جواب دیتی رہیں.ایک دم سے گھر میں جیسے ہلچل مچ گئی تھی. کچھ دیر بعد مجتبیٰ ، مریم کو لے آیا.وہ بھی ان تینوں کے ساتھ مل بیٹھی دادو سے سوال کرتیں رہیں.انھیں گاؤں کی شادی کے بارے میں جاننے کا تجسس تھا.مجتبیٰ انھیں پارٹی میں انوائٹ کرنے آیا تھا.جو نیا بزنس سٹارٹ کرنے کی خوشی میں رکھی گئی تھی.اگلے کتنے دن مصروفیت میں گزرے.حریم کی منگنی ہو گئی تھی. جسے ان سب دوستوں نے مل کر خوب انجوۓ کیا.وہ حریم کو چھیڑتیں رہیں.وہ سیلور رنگ کے کپڑوں میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی. حریم اور ہارون کی جوڑی بہت کمال تھی.حیات نے توکاجل سے اسکے کان کے پیچھےکالا ٹیکہ لگایا اور بڑی اماں کی طرح اسے دعائیں دیں تو سب زور زور سے ہنسی تھیں.حریم کی ان چڑیلوں نے خوب ہنگامہ کیا تھا کہ منگنی کی تقریب کو چار چاند لگ گئے تھے.
ایمان سیڑھیاں طےکرتی حیات کے کمرے کی طرف آئی .کافی وقت گزر چکا تھا.حیات نیچے نہیں آئی .ایمان کو اسکی فکر ہونے لگی کہ آج محترمہ اتنی خاموشی سے کمرے میں کیوں بیٹھی ہے.ایمان کمرے میں داخل ہوئی تو حیات بیڈ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی نظریں موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں.ایمان تیز قدموں سے چلتی بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھی. اسےلگاشاید کچھ برا ہو گیا ہے.
"حیات گڑیا کیا بات ہے رو کیوں رہی ہو؟” ایمان نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا تو اسنے بھیگی آنکھوں سے ایمان کو دیکھا.
"آپی ملیحہ مر گئی.وہ بھی اپنی شادی والے دن”بات کرتے ہوئے پھر اسکے آنسو بہنے لگے.ایمان کو افسوس ہوا.پر حیات کی دوستوں میں سے کسی کا نام ملیحہ نہیں تھا.پھرکون تھی ؟جسکے لئے حیات ایسے رو رہی تھی.”ملیحہ کیا تمہاری کلاس فیلو ہے؟”
"نہیں آپی”حیات نے نفی میں سر ہلایا
"توکیا یونی فیلو ہے؟”ایمان نے پھر سوال کیا
"نہیں آپی”حیات دکھ میں کچھ زیادہ ہی ڈوبی ہوئی تھی.
"تو آخر وہ ہے کون جسکے لئے تم ندیاں بہا رہی ہو” ایمان نے حیرت سے پوچھا
"وہ عشق آتش ناول کی ہیروئن ہے آپی”حیات نے دکھ سے بتایا. ایمان کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے.”اف حیات تمہاراکوئی حال نہیں” ایمان کو غصے کے ساتھ ہنسی بھی آئی.
"آپ میرے جذبات نہیں سمجھیں گی آپی کتنا پیار ہوجاتا ہے کریکٹرز کے ساتھ کہ ہم انکے ساتھ ساتھ ہنستے اور روتے ہیں”
"اچھامیری گڑیا میں سمجھ گئی.پر انھیں اتنا سر پر سوار نہ کرو کہ بیٹھی آنسو بہاتی رہو” ایمان نے اسکے آنسو صاف کئے.
"چلو آؤ نیچے سب اپنی لاڈلی کو مس کر رہے ہیں اٹھو شاباش”
"آپی ابھی مجھےناول ختم کرنا ہے”وہ جانا نہیں چاہتی تھی.
"بعد میں پڑھ لینا ابھی اٹھو جلدی جلدی” ایمان نے اسے بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ نیچے لے آئی.سب ہال میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہو رہے تھے.حیات صوفے پر بیٹھی ایمان نے اسے کپ پکڑیا.اسکی آنکھیں رونے کی وجہ سے گلابی ہو رہی تھیں.شیرافگن بھی ابھی آکر بیٹھا تھا.ایمان نے اسےبھی چاۓ کا کپ پکڑایا.”ان محترمہ کو کیا ہوا ہے؟”اسنے حیات کی طرف دیکھ کر ایمان سے پوچھا.
"جو ہر دکھی ناول پڑھنے کے بعد ہوتا ہے” ایمان نے مسکرا کر جواب دیا.
"پتہ نہیں آپی کو ناولز کیوں پسند ہیں. مجھےتو بالکل اچھے نہیں لگتے” امل جو شیرافگن کے ساتھ بیٹھی تھی منہ بنا کر بولی
"شش گڑیا آپکی بہن جی نے سن لیا تو اچھا نہیں ہوگا”شیر افگن نے حیات کو دیکھ کر سرگوشی کی تو ایمان اور امل ہنسنے لگیں. حیات نے ایک نظرانھیں دیکھاپھر چاۓ پیتے ہوئے بڑوں کی باتوں کی طرف متوجہ ہوئی.پر اسکے ذہن میں ناول ہی گوم رہا تھا.
حیات کی دکھی داستان وہ سن چکی تھیں کہ کیسے ملیحہ کی موت ہوئی اور وجدان کا اسکے لئے عشق کہانی سن کر سبین اور حریم کی آنکھیں بھی نم ہوئیں .جبکہ تابی اور مینا نے بس اظہارِ افسوس کیا .حیات نے تو ان دونوں کو پتھر دل قرار دیا کہ کیسے انکے آنسو نہ بہے اتنی دکھی کہانی پر لیکن انکاکہنا تھا. وہ افسوس کے علاوہ کربھی کیاسکتیں ہیں.انھوں نے کسی طرح حیات کو باتوں میں لگا کر اسکا دھیان ناول سے ہٹایا.انھیں پتہ تھا انکی یہ پاگل دوست بہت حساس ہے.ناولز کے معاملے میں تو کچھ زیادہ ہی تھی.
کلاسز لے کر وہ سب کینٹین کی طرف آئیں ٹیبل کے گرد بیٹھیں ساتھ چاۓ سموسے مزے سے کھانے لگیں.
"واہ کیا مزے کی پک ہے یار” تابی کے ہاتھ میں حریم کا موبائل تھا.جس پر وہ سب حریم کی منگنی کی تصویریں دیکھ رہیں تھیں.
"دکھاؤ ذرا” حریم کپ رکھ کے جلدی سے آگے ہوئی تو تابی نے موبائل پیچھے کیا.
"کیوں گھر میں سو بار تو دیکھیں ہونگی تم نے”اسکی بات پر حریم نے منہ بسورا تو سب اسکی شکل دیکھ کر ہنسنے لگیں.
"یاردکھادو ہوسکتا ہے اسکو جیجو یاد آرہے ہو” حیات نے شوخی سے کہا تابی نے موبائل حریم کے چہرے کےسامنے کیا "لوآنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاؤ”تابی نےآنکھ دبائی
"چپ کرو بدتمیز”حریم تصویردیکھ کر دھیمے سے ہنسی.وہ پک واقعی بہت پیاری تھی.حریم سر جھکاۓ بیٹھی تھی اور ہارون اسے دیکھتے ہوئے مدھم سا مسکرا رہا تھا.
"ہیلو میڈم واپس آجاؤ”مینا نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا.وہ ایک دم چونکی
"یہ تو گئی کام سے”حیات نے افسوس سے گردن ہلائی.حریم مسکرا نے لگی.
"سوچنے دو ناں اسے جیجو کے بارے میں” سبین نے شوخ لہجے میں کہا
"ہاں ہاں ضرور سوچے پر اکیلے میں رات کو کھڑکی میں کھڑی ہوکر چاند کو تکتےہوئے اس میں ہارون بھائی کامکھڑا تلاش کرے ساتھ کوئی رومینٹک سا گانا بھی لگا لے سوچو ذرا ہماری ہیروئن کیسی لگے گی”حیات نے مزے سے منظرکشی کی حریم کےساتھ باقی تینوں کے لبوں پر رکی مسکراہٹ ہنسی میں تبدیل ہوئی "سچی مجھے تو یہ چڑیل ہی نظر آرہی ہے” مینا منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی
"کیونکہ تم خود چڑیل ہو اسلئے تم اپنے مطابق ہی سوچو گی”حریم نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا مینا کچھ کہنے لگی تھی.
"بس بس اب شروع مت ہو جانا”سبین نے جلدی سے اسے ٹوکا.
"چلو اٹھو گراؤنڈ میں چلتے ہیں”حیات نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا تو سب گراؤنڈ کی طرف آئی.
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی.حیات نے کانپ کر شال ٹھیک کی پھر ان سب کے ساتھ بیٹھ گئی.
"سنا تم نے سبین میڈم گاؤں جارہی ہے”حریم نے اسے دیکھا "ارے کیوں ..یوں اچانک” حیات نے سبین سے پوچھا
"بے جی بیمار ہیں.تایا ابو نے کال کی تھی بابا کو کہ بے جی مجھے یاد کررہی ہیں بس اسلئےجارہی ہوں. کچھ دنوں تک واپس آجاؤں گی”سبین نے تفصیل بتائی. "اچھا ..اللّه پاک انھیں صحت عطا کریں”حیات کی بات پر سب نے امین کہا. بے جی گاؤں میں تایا کے ساتھ رہتی تھیں. سبین فیملی میں ایک ہی لڑکی تھی.تایاکے دو بیٹے اورسبین کے بھی دو بھائی تھے.اسلئے بےجی کوسبین سے بہت محبت تھی.وہ بیمار تھیں اسلئے سبین کو اپنے قریب دیکھنا چاہتی تھیں.
ملک ہاؤس میں پارٹی عروج پر تھی.روشنیوں سے چکا چوند بڑا سا ہال اچھے سے ڈیکوریٹ ہوا تھا.سلو آواز میں میوزک بج رہا تھا.لوگ جگہ جگہ کھڑے باتوں میں مگن تھے.ایک طرف مجتبیٰ کے ساتھ شیرافگن اور ولید کھڑے ہاتھ میں مشروب کے گلاس پکڑے باتیں کر رہے تھے.وہاں سے دور حیات، ایمان، امل اور مریم کھڑیں تھیں.حیات سفید ، ایمان گرین، امل اور مریم دونوں بےبی پنک کپڑوں میں ملبوس تھیں. اس اتفاق پر وہ خوش ہو رہی تھیں.عباسی ہاؤس سے صرف وہ چاروں آۓ تھے.مریم ،امل کو اپنی باقی دوستوں سے ملانے لے گئی تو وہ دونوں اکیلی رہ گئیں.
"آپی میں یوں کھڑی رہ رہ کر تھک گئی ہوں” حیات نے ایمان کے قریب ہو کر سر گوشی کی ایمان نے اسکے چہرے کو دیکھا آج حیات نے سیدھی مانگ نکال کر بال کھلے چھوڑے تھے. جبکہ ایمان نے میسی جوڑا بنایا تھا. "توکیا کریں گڑیا کہاں جائیں” ایمان بھی بور ہورہی تھی.وہ تو پارٹی میں بھی نہیں آنا چاہتی تھی. پر حیات اسے زبردستی لے آئی . مجتبیٰ کی نظریں ایمان کو پریشان کرتی تھیں.اب بھی ایسا ہی ہورہا تھا.
"آئیں وہاں بیٹھتے ہیں”حیات نے ایک سائیڈ پر رکھیں کرسیوں کی طرف اشارہ کیا.جہاں زیادہ لوگ نہ تھے.دونوں وہاں بیٹھ گئیں.
"آپی اپنامنہ تو ٹھیک کریں صاف لگ رہا ہے. آپکو زبردستی لایا گیا ہے”حیات نے مسکرا کر کہا.ایمان کے چہرے سے بے زاری ٹپک رہی تھی "یہی بات سچ ہے”وہ اردگرد دیکھ کر بولی ہر کوئی اپنے آپ میں مگن تھا.سواۓ مجتبیٰ کے جو ایمان کو دیکھنا نہ بھولتا ایمان جھنجھلا رہی تھی.اسےغصہ آرہا تھا.
"آج تو آپ غصے میں ہیں آپی”وہ ایمان کے غصے کی وجہ جان کر آنکھوں میں شرارتی چمک لئےایک دم زور سے ہنسی. شیرافگن جو کچھ فاصلے پر موبائل کان سے لگاۓ کھڑا تھا.اسنے پلٹ کر اسے دیکھا حیات کی نظریں اس سے ملیں.شیرافگن نے اسے گھورا جیسے کہہ رہا ہو”بی ہیو”حیات نے جلدی سے ہنسی روک کر سر جھکا لیا.
"نو بج چکے ہیں.جانا کب ہے”ایمان نے گھڑی دیکھی اسے گھر جانے کی جلدی تھی.
"ابھی تو پارٹی عروج پر ہے.جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے.اب افگن بھائی ہی بتائیں گے کب جانا ہے”حیات نے ارد گرد نظر گھما کر جواب دیا.کچھ دیر بعد سعدیہ ملک انکے پاس آئیں اور ایمان کو اپنے ساتھ لے گئیں کہ وہ بور نہ ہو. حیات کو بھی ساتھ چلنے کا کہا پر اسنے انکار کر دیا وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھنا چاہتی تھی.
"سسٹر یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں”مجتبیٰ اسکے سامنے بیٹھا
"بس تھک گئی تھی” وہ دھیمے سے مسکرائی
"آپکی آپی صاحبہ کہاں ہیں؟”اسنے اِدھراُدھر نظر گھما کر پوچھا
"آپ کیوں پوچھ رہے ہیں”اسنے سنہری آنکھیں اٹھاکر کہا تو مجتبیٰ نے اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا
"پتہ تو ہے آپکو سسٹر” وہ مسکرایا
"مجھےکچھ نہیں پتہ آپ بتائیں؟” حیات نے انجان بن کر ہنسی دبائی
"شیر افگن ٹھیک کہتا ہے کہ آپ پاگل ہیں” مجتبیٰ جھنجھلا گیا.حیات ایک دم سے ہنسی پھر شیرافگن کی گھورتی نظریں یاد کر کے ایک دم منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکنی چاہی.”آپ افگن بھائی کی بات نہ کریں وہ تو خود …”بات ادھوری چھوڑ کر وہ پھر ہنسی اور اس پاگل لڑکی کی بات سمجھ کرمجتبیٰ بھی ہنسنے پر مجبور ہو گیا.جبکہ کچھ فاصلے پر ولید کے ساتھ کھڑے شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے.دل ایک دم سے بے چین ہوا.پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ وہاں سے نکلے.سعدیہ ملک نے روکا تو اسنے "رات بہت ہوگئی ہے.گھر میں سب پریشان ہونگے” کہہ کر ان کو لیئےوہاں سے نکلا.کار میں امل،شیرافگن کے ساتھ آگے بیٹھی جبکہ حیات اور ایمان پیچھے تھیں. حیات اسکے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی کہ کیسے مجتبیٰ اسے ڈھونڈھتا رہا .
"حیات چپ کر جاؤ” ایمان نے تنگ آ کر اسے ڈانٹا "کیوں آپی آپ شرما رہی ہیں؟” حیات پر ذرا اثر نہ ہوا.
"ہاں شرما رہی ہوں”ایمان نے جھنجھلا کر کہا
توحیات زور سے ہنسی شیرافگن نے بیک میرر میں اسے گھور کر دیکھا.”آج زیادہ ہی ہنسی آرہی ہے کیا بات ہے؟”خشک لہجے میں پوچھا گیا تو حیات کی ہنسی کو بریک لگی.
"نن..نہیں کوئی بات نہیں”وہ جلدی سے بولی شیرافگن خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا. "انکومیں ہنستی اچھی نہیں لگتی”اسنے ایمان کی طرف جھک کر دھیمے سے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا کر مسکرائی”شکر اب تم خاموش رہوگی”ایمان نے شرارت سے کہا.حیات منہ پھلا کر بیٹھ گئی.پھر گھر پہنچنے تک حیات کی بولتی بند ہی رہی .
حیات ،دادو کے کمرے میں تھی.جب سعدیہ ملک کا فون آیا دادو انسے بات کر رہی تھیں. انکی باتوں سے اسےاندازہ ہو گیا کہ کیا بات ہو رہی ہے.”ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ آئیں پھر تفصیل سے بات کریں گےاللّه حافظ” دادو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا پھر فون رکھ دیا.
"دادو کیا کہا انہوں نے ؟”حیات نے دادو کے قریب ہو کر پوچھا تو دادو نے اسے گھورا.
"اے لڑکی تم کیوں بڑی بن رہی ہو.جاؤ اپنا کام کرو” دادو نے چشمہ سائیڈ پررکھتے ہوئے کہا
"پلیز دادو بتا دیں ناں”اسنےدادو کے ہاتھ تھام کر معصومیت سے آنکھیں جھپکیں تو دادو نے مسکرا کر اسکے سر پر چپت لگائی.
"وہ لوگ ایمان کے رشتے کے لئے آنا چاہ رہے ہیں”دادو نے دھیمےسے بتایا
"واہ سچ میں دادو…. اف کتنی اچھی لگے گی آپی اور مجتبیٰ بھائی کی جوڑی”اسنے خوشی سے ہنس کربیڈ سے نیچے چھلانگ لگائی.
"سنبھل کر لڑکی اور ابھی بات پکی نہیں ہوئی اسلئے چپ رہو اور جاؤ یہاں سے مجھے تنگ نہ کرو” دادو کی بات پر وہ انکے قریب آئی اور انکے گال پر پیار کیا.
"اوکے جاتی ہوں پیاری دادو”وہ ہنس کر وہاں سے بھاگی اسکےجاتے ہی دادو ہنسی تھیں.
وہ تیزی سے سیڑھیاں طےکر رہی تھی.اسے ایمان کو بتانے کی جلدی تھی.جب وہ اپر پہنچی تو شیرافگن اپنے کمرے سے نکل رہا تھا.”حیات” شیرافگن کی پکار پر اسنے بریک لگائی "جی”وہ ہانپ رہی تھی.
"کافی بنا کر لاؤ میں دادو کے کمرے میں ہوں” وہ حکم دے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا. حیات نےغصے سے اسکی پشت کو گھورا
"اف مجھے آپی سے بات کرنی ہے” وہ کچن کی طرف آئی کہ پہلے جلدی سے کافی بنالے ورنہ افگن صاحب سے اسے کون بچاۓ گا.
کافی لے کر وہ دادو کے کمرے میں آئی.دادو اٹھ کر واش روم چلی گئیں.شیرافگن بھی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا.
"یہ کافی”حیات نے کپ اسکی طرف بڑھایا.
"اب میرا دل نہیں کر رہا لے جاؤ” وہ جھنجھلا کر کہتا باہر نکل گیا.حیات کو بڑا غصہ آیا
"جیسےمیں نوکر ہوں انکی ہونہہ” وہ کافی لئے جلدی سے ایمان کے کمرے کی طرف بڑھی.
اسےایمان کو بریکنگ نیوز دینی تھی.جبکہ شیرافگن کار لئے گھر سے نکلا.دادو کی باتیں اسکے ذہن میں گھوم رہی تھیں.”سعدیہ ملک رشتے کے لئے آنا چاہتی ہیں.مجتبیٰ بہت اچھا لڑکا ہے.بچوں سے بات کر کے رشتے کے لئے ہاں کہہ دینگے”دادو ادھوری بات کر کے واش روم میں چلی گئیں.شیرافگن کے دل کو کچھ ہونے لگا.ایک دم آنکھوں کے سامنے جیسے اسکرین پر پارٹی کی رات حیات اور مجتبیٰ کے مسکراتے چہرے لہراۓ.”حیات اور مجتبیٰ” اسکا دل جلنے لگاتھا.اسنےکار کو ایک دم بریک لگائی.”ڈیم اٹ” اسٹیرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارا پھر سیٹ کی بیک سے ٹیک لگاکر آنکھیں بند کر لیں.”آئی ڈونٹ کیئر …ویسے بھی مجتبیٰ اچھا لڑکا ہے.حیات اسکے خوش رہے گی..یس آئی ڈونٹ کیئر” وہ بڑبڑاتا رہا خود کو یقین دلانا چاہ رہا تھا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا پر اسے فرق پڑ رہا تھا.اسکے پورے وجود میں عجیب قسم کی بے چینی چھائی تھی.جسے وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتا تھا.دوسری طرف حیات،ایمان کے کان کھا رہی تھی.ایمان بیچاری خاموش بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھی.”دیکھاآپی میں نے کہا تھا ناں”وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی
"اچھابس ابھی بات نہیں ہوئی تم پہلے شروع ہو گئی” اسنے حیات کو ٹوکا
"سچی آپی مجتبیٰ بھائی بہت اچھے ہیں اور آپ انسے زیادہ اچھی ہیں.اف آپ دونوں ایک ساتھ کتنے اچھے لگے گیں” وہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالے بولتی چلی جارہی تھی. ایمان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روک رکھی تھی.
وہ لوگ کلاس لے کر نکلیں.انکا رخ کینٹین کی طرف تھا.جب انکی نظر دور کھڑے احمر جمالی ، شازمہ اور انکےساتھ کھڑی لڑکی پر پڑی.وہ لڑکی جینز ، شرٹ پہنے بال اونچی پونی میں باندھے ببل چباتی احمر جمالی کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی مسکرا کر اس سے کوئی بات کررہی تھی.
"اب یہ نئی نمونی کون ہے؟”حریم نے پوچھا
"حرکتوں سے تو کوئی قریبی رشتہ لگتا ہے” حیات نے انھیں دیکھا اب وہ لڑکی احمر جمالی کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی.
"محترمہ کزن ہوتی ہیں ان صاحب کی” تابی نے انھیں بتایا.
"اچھا…چلو یار بھوک لگی ہے”مینا نے کہا.وہ لوگ آگے بڑھ گئیں.کینٹین میں اپنی جگہ سنبھالی.سبین کی جگہ خالی تھی.”بات ہوئی تھی سبین سے؟” حیات نے پوچھا
"ہاں پہنچ گئی اور کہہ رہی ہے تائی اماں نے بڑے پیار سے استقبال کیا محترمہ کا” تابی نے ہنس کر بتایا اسے ہر بات کی خبر ہوتی تھی.
"واہ تائی اماں قربان جارہی ہیں.یہ نہ ہو انکا بیٹا جی بھی قربان ہو جائے”حریم نے ہنس کر کہا.حیات اور تابی مسکرانے لگیں جبکہ مینا برگر ٹھوسنے میں مصروف تھی.
"ہو جائیں تو برا کیا ہے یار اسکی بے جی خوش ہوجائیں گی کہ اب پوتی صاحبہ انکی نظروں کے سامنے رہےگی”حیات نے شرارت سے کہا "بالکل ٹھیک کہا”حریم نے اسکا شانہ تھپکا”اس بھوکی کو دیکھو ایسے ٹھوس رہی ہے جیسے آخری بار کھا رہی ہو”تابی نے مینا کو گھورا.مینا نے بھی جواباً اسے گھورا
"چپ کرو کھانے دو بیچاری کو”حیات نے ہنس کر تابی کو ٹوکا.مینانے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا بولی پھر بھی نہیں
"آج تو اسکی بولتی بند ہو گئی”حریم کو صدمہ لگا.مینانے برگر کھا کر پانی پیا
"ہاں بولو کیا سننا ہے مجھ سے جو ٹھیک سے کھانے بھی نہیں دیا” مینا نے گھور کر تابی اور حریم کو دیکھا.
"ٹھیک سے نہیں کھایا ابھی تم نے؟” تابی نے آنکھیں پھاڑکر پوچھا
"جی نہیں”وہ منہ بسور کر کہتی اٹھ کر جانے لگی.”ارےکہا جارہی ہو؟” حیات نے اسے دیکھا
"خودکشی کرنے” اسنے جھنجھلا کر جواب دیا
"نہیں نہیں میں تمہیں مرنےنہیں دونگی”حریم نے جلدی سے اٹھ کر اسکا بازو پکڑا
"اوۓ چھوڑو مجھے” اسنے خود کوچھڑایا
"ایسامت کرو مینا ڈارلنگ” تابی نے ڈرامئی انداز میں تڑپ کر کہا
"برگرلینے جارہی ہوں چڑیلوں”اسنے دانت پیسے پھر وہاں سے چلی گئی.پیچھے تینوں نے قہقہہ لگا کر ہنسنا شروع ہوئیں. "آج مینا کو واقعی زیادہ ہی بھوک لگی ہے” حیات نے ہنسی روک کر کہا
"ہاں یار کیسے کھا جانے والا انداز تھا محترمہ
کا شش…آ رہی ہے” تابی نے مینا کو سامنے سے آتے دیکھ کر کہا وہ ایک اور برگر لے آئی اور بیٹھ کرکھانے لگی.انھوں نے اب اسے نہ چھیڑا بلکہ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگیں.
•••••••••••••••
شیرافگن تھکا سا آنکھیں بند کئےصوفے پر نیم دراز تھا.آج اسکا کام میں بالکل دل نہیں لگ رہا تھا.اسلئے آفس سے جلدی آگیا.اسنے ہاتھ سے پیشانی مسلی.حیات گنگناتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی.ابھی کچھ دیر پہلے مجتبیٰ کی کال آئی تھی.وہ ایمان سے بات کرنا چاہتا تھا.اسنے بہت سنجیدہ انداز میں اس سے پوچھا تھا. انکے رشتے کی بات ہورہی ہے. کیا ایمان اس رشتے سے خوش ہے؟ جواباً ایمان نے بھی اچھی بیٹیوں کی طرح کہہ دیا جو اسکے بڑوں کا فیصلہ ہوگا وہ اسے منظور ہوگا.حیات موبائل سے کان لگاۓ بیٹھی رہی فون بند ہوا تو اسنے مسکرا کر ایمان کو دیکھا "اہمم بڑوں کا جواب تو ہاں ہی ہوگا انشاءاللّہ” اسنے شرارت سے ایمان کو دیکھا
"توپھر میرا جواب بھی ہاں” ایمان نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسکے کان میں سرگوشی کی تو وہ کھلکھلا کر ہنسی.
"اسی خوشی میں کافی بناکر لاتی ہوں”وہ کمرے سے نکل کر نیچے آئی.وہ اپنے خیالوں میں مسکرا رہی تھی.
شیرافگن نے گنگنانے کی آواز پر آنکھیں کھول کر دیکھا.حیات لبوں پر مسکراہٹ لئے اپنے خیال میں کچن کی طرف بڑھ رہی تھی.اسے دیکھ کر شیرافگن سیدھا ہو بیٹھا. "حیات”اسنے پکارا.وہ ایک دم رکی پھر پلٹ کر اسے دیکھا "افگن بھائی آپ آج جلدی آگئے”اپنے دھیان میں وہ اسے دیکھ نہیں پائی تھی.اسکی بات پر شیرافگن نے سر ہلایا.کچھ بولا نہیں تو حیات جانے لگی.”تم اس رشتے سے خوش ہو؟”اچانک خشک انداز میں پوچھا گیا. "جی بالکل…کیوں آپ خوش نہیں ہیں؟” اسنے مسکرا کر سوال کیا.
"ہاں خوش ہوں اوکے جاؤ تم” اسنے روکھے لہجے میں کہا.حیات نے حیرت سے اسے دیکھا پھر سوچا شاید ایمان آپی کے جدا ہو جانے کا سوچ کر پریشان ہیں.پھر کندھے اچکا کر کچن کی طرف بڑھ گئی.
شیرافگن نے سر ہاتھوں میں تھاما.حیات خوش ہے.ہاں وہ بہت خوش ہے.تو پھر اسے کیوں فرق پڑ رہا تھا؟شیرافگن کا سر درد سے پھٹنے لگا.وہ ایک دم صوفے سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
حیات کافی بنا کر کمرے میں لے آئی.
"یہ لیں آپی” اسنے ایمان کی طرف کپ بڑھایا
"شکریہ” وہ مسکرائی. حیات اسکے ساتھ بیٹھی پھر دونوں باتوں میں لگ گئیں.
مسٹراور مسسز ملک عباسی ہاؤس میں ایمان کا ہاتھ مانگنے آۓ .دادو کے کمرے میں کب سے سب بڑوں کی میٹنگ چل رہی تھی.حیات کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے کہ اندر کیا فیصلہ کیا گیا ہوگا.ایمان اور امل بیڈ پر بیٹھیں تھیں.حیات اِدھر سے اُدھر مارچ کر رہی تھی.
"بس کرو حیات بیٹھ جاؤ اب” ایمان نے اسے دیکھ کر کہا "نہیں آپی اب میں ذرا نیچے جا کر خبر لوں” وہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی.پھر اچانک انکی طرف پلٹی اور چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی.
"آپ دونوں بھی میرے ساتھ چلیں ناں ورنہ افگن بھائی نے مجھے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا” اسنے معصوم سی صورت بنائی
"بھائی بھی دادو کے کمرے میں ہیں.تم آرام سے جاسوسی کرو” ایمان نے مسکرا کر کہا
"پلیز آپی”اسنےمنت کی
"میں توبالکل نہیں جاؤں گی”وہ صاف مکرگئی "امل تم تو ضرور چلو گی میرے ساتھ اٹھو” اسنے امل کا بازو کھینچا
"نہیں ناں آپی”امل نہ نہ کرتی رہی پر حیات اسے کھینچ کر نیچے لے آئی.ابھی وہ لوگ دادو کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ کمرے کا دروازہ کھلا.الماس بیگم مسکراتی ہوئیں باہر نکلیں.حیات جلدی سے انکی طرف بڑھی
"مبارک ہو” انہوں نے حیات کے ہاتھ تھام کر کہا "اوہ اماں مطلب آپی کا رشتہ پکا ہوگیا” وہ خوشی سے اچھلی ، امل کا بھی یہی حال تھا.
"نہ صرف رشتہ پکا ہوا بلکہ شادی کی تاریخ بھی جلد رکھی جانے والی ہے”انہوں نے مسکرا کر بتایا.”کیا….” وہ حیران تھی اور بہت خوش بھی امل تو بات سنتے ہی اپر کی طرف بھاگی اسے آپی کو یہ خبر سنانے تھی جبکہ حیات اماں کے گلے لگی.”اچھاجاؤ جلدی سے میٹھائی لے کرآؤ” وہ اسے خود سے جدا کرتیں اندر بڑھ گئیں.حیات جلدی سے کچن کی طرف بھاگی. اسے جلدی تھی میٹھائی دے کر آپی کے پاس جانا تھا.وہ بہت خوش تھی.پر آپی سے جدا ہو جانے کا سوچ کر اداس بھی ہو رہی تھی.جب وہ میٹھائی لے کر دادو کے کمرے میں داخل ہوئی.شیرافگن اٹھ کر باہر جارہا تھا.حیات کو ایسا لگا اسکے لبوں پر مدھم سی مسکان تھی.پھر سرجھٹک کر سب کی طرف متوجہ ہوئی.وہاں مبارکباد کا سلسلہ چل رہا تھا. شیرافگن وہاں سے اپنے کمرے میں آیا.لبوں پر ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ چمکی.سر پر ہاتھ پھیر کر وہ صوفے پر بیٹھا.ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر رکھی اور جو کچھ دادو کے کمرے میں ہوا اسے سوچنے لگا.سعدیہ ملک نے جب رشتے کی بات شرو ع کی تو اسکا دل چاہا وہ وہاں سے کہیں دور بھاگ جائے.وہاں سب میں باتیں ہوتی رہیں پر وہ اپنے خیالوں میں مگن تھا.جب سعدیہ ملک نے جلد شادی کرنے کا کہا تو اس بات سے سبکو انکار تھا.بھلا اتنی جلدی بھی کیا ہے.ان میں سے کوئی نہیں مان رہا تھا پر آخر میں دادو نے کہہ دیا کہ شادی ہونی تو ہے بھلے آج ہو یا کل تو دادو کی بات پرسب مان گئے.سعدیہ ملک نے دادو کو گلے لگایا”میں ایمان کو بالکل بیٹی بنا کر رکھوں گی ماں جی”سب گلے مل کر خوشی سے اس نئے رشتے کی ابتدا کر رہے تھے. شیرافگن بالکل حیران بیٹھا تھا.ایمان؟ کیا اسنے صحیح سنا تھا؟ وہ سمجھ نہ پایا کیا مجتبیٰ کے ساتھ ایمان کا رشتہ ہو رہا تھا؟پھر حیات؟ اف کیا وہ غلط سمجھا تھا؟اسنے جلدی سے منہ پر ہاتھ پھیرا”مبارک ہو بیٹا”زمان ملک نے اسے گلے لگایا.”آپکو بھی” وہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہا تھا.کچھ دیر بعد حیات میٹھائی لے کر آئی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا.حیات کے پاس سے گزرتے ہوئےخوبخوداسکے لبوں پرمسکان بکھر گئی .جسے چھپاتاوہ جلدی سے اسکے قریب سے گزرا.ایک دم سے جیسے چاروں طرف رنگ بکھر گئے.وہ خود کو ہلکا پھکا محسوس کر رہا تھا.لمبی سانس کھینچ کر صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھا "مجتبیٰ ٹھیک کہتا ہے.حیات نہیں میں بھی پاگل ہوں”وہ بھورے بالوں پہ ہاتھ پھیر کر ہنسا سیاہ آنکھیں چمک اٹھیں.اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور امل ہاتھ میں میٹھائی کی پلیٹ لئے اسکی طرف آئی.
ابھی وہ مریم سے بات کر کے آرہی تھی.مریم نے اسے کال کی تھی کہ کیا فیصلہ ہوا تو امل نے اسے خوش خبری سنائی مریم چیخ اٹھی اسے ایمان بہت اچھی لگتی تھی.وہ فون رکھ کر بھائی کو بتانے کے لئے بھاگی.جو اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا.ساتھ ہی ماما کو کال ملا رہا تھا پر وہاں سے کوئی جواب نہ ملا.مریم نے اسے خبر دی تو وہ خوشی سے کِھل اٹھا.جبکہ مریم پھر سے امل سے گپیں لگانے لگی.فون بند ہوا تو وہ میٹھائی لے کر شیرافگن کے کمرے کی طرف آئی.
"بھیا آپ یہاں کیوں چُپ کر بیٹھے ہیں؟ نیچے سب نے محفل جمائی ہوئی ہے .حیات آپی نے بتایا کہ آپ نے منہ میٹھا بھی نہیں کیا یہ لیں آپکے لئے لائی ہوں” وہ اسےدیکھ کر بولتی چلی گئی پھر پلیٹ اسکی بڑھائی
"اچھا لاؤ یہاں” اسنے ایک گلاب جامن اٹھایا.
"ویسے تمہاری بہن صاحبہ کہا ہے؟”
"آپی تو ایمان آپی کو تنگ کرنے میں مصروف ہیں.کبھی بہت خوش ہوتی ہیں کہ گھر میں پہلی شادی ہوگی تو کبھی اداس کہ انکی پیاری آپی انسے جدا ہوجائیں گیں” وہ مسکرا کر بتانے لگی.شیرافگن ہنسنے لگا.اسکی ساری بے زاری ہوا ہو گئی تھی.”گڑیا تمہاری آپی تو بالکل پاگل ہے” اسنے ہنسی دبا کر کہا
"آپ ایسا نہیں کہہ سکتے وہ میری بہن ہیں.” امل نے اپنی ناک کھینچ کر کہا تو شیرافگن قہقہہ لگا کر ہنسا.
"ارے واہ گڑیا آج لگتا ہے آپی نے تنگ نہیں کیا”
شیرافگن صوفے سے اٹھتے ہوئےبولا
"وہ مجھے کچھ بھی کہیں پر آئی لو ہر” اسنے ہنس کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا.شیرافگن نے اسکا سر تھپکا”می ٹو”اسنے دل میں کہا پھر مسکرا کر اسے دیکھا "چلو گڑیا ہم بھی محفل میں شامل ہو جائیں” دونوں کمرے سے نکلے.
دوسری طرف ایمان کی خیر نہیں تھی.حیات کب سے اسے تنگ کررہی تھی.کبھی الٹے سوال کرتی تو کبھی کوئی گانا گنگنانے لگتی.
"میری آپی کی آۓ گی بارات
رنگیلی ہوگی رات
مگن میں ناچوں گی
وہ دوپٹہ لہرا لہرا کر گانے کو اپنے مطابق گا رہی تھی.ایمان سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی.اچانک حیات کا موبائل بجنے لگا.
حیات نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا.
"لیں جی میری چڑیل کا فون ہے”اسنے ایمان کو دیکھ کر کہا جو ڈر سی گئی.اب تو یہ لوگ اسے چھوڑنے والی نہ تھیں.حیات نے موبائل اسپیکر پر ڈالا "جلدی بولو کیا بنا… آپی کا رشتہ پکا ہوگیا؟” دوسری طرف سے مینا بے تابی سے بولی حریم بھی اسکے ساتھ بیٹھی تھی.”ہوگیا "حیات نے خوشی سے بتایا
"افف … آپی سے بات کراؤ جلدی” وہ دونوں خوشی سے چیخیں
"بات کرو یار آپی سن رہی ہے.زیادہ تنگ مت کرنا میری آپی کو” حیات نے ہنس کر ایمان کے گلابی چہرے کو دیکھا.پھر حیات نے اپنی بات بھلا کر ان دونوں کے ساتھ مل کر ایمان کااتنا سر کھایا کہ وہ رشتہ طے ہونے پرپچھتانے لگی.

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/