مختصر کہانیاں

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 5 وہ…

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک)
قسط نمبر 5

وہ عون کے آفس سے باہر نکلی تو انوشے اسے دیکھتے اسکے پیچھے لپکی۔”کیا بنا؟”وہ پریشان سے انداز میں اسے دیکھتی گئ۔ پھر اسکی خاموشی سے کچھ اخذ کرتے ہوئے بولی۔”کوئ بات نہیں مرحا یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔اللہ نے کچھ تو سوچ کے ہی رکھا ہو گا۔” اس نے تسلی دی۔ "مجھے جاب مل گئ ہے۔”اس نے بے تاثر چہرے کے ساتھ گویا افسوس سے کہا۔ ” تو کوئ بات نہیں ہے کہیں اور۔۔۔۔۔۔۔”انوشے بات کرتے کرتے ٹھٹکی۔پھر ذہن میں اسکا جملہ دہرانے لگی۔ "کیا تمہئں جاب مل گئ ہے”وہ چلائ۔اس کے انداز پر تقریبا سب نے ہی مڑ کر دیکھا۔ "اور تم ایسے منہ لٹکا کے کہہ رہی ہو جیسے کسی شہادت کا پیغام دے رہی ہو۔” انوشے نے دانت پیسے۔دفعتا آفس کا دروازہ کھلا اور کوئ باہر نکلاتو انوشے نے اسکی جانب نظریں دہرائیں تو جیسے ساکت رہ گئیں۔عون نے بھی اسکی طرف دیکھا لیکن سلام کرتا آگے بڑھ گیا۔ ” یہ دونوں ہر جگہ ساتھ ساتھ جاتی ہیں کیا”وہ محض سوچ کر رہ گیا۔ "مرحا "انوشے کو اپنی آواز کھائ سے آتی ہوی محسوس ہوئ۔ ” یہ کون ہیں۔؟” ” میرے باس” مرحا جیسے حواس میں بولی۔پھر دانت پیس کر بولی۔ "اللہ تم جیسی دوست کسی کو نہیں دے اور پھر ایسی کالی زبان توبالکل نہ دے۔”انوشے چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اپنی بات کر کے محظوظ ہوئ۔ "کاں تو ٹھیک ہے ڈاکٹر اسفند یار ٹائپ کا بندہ چاہیے تھا تمہیں۔” "ہائے نوشی اسفندیار کتنا سوئیٹ تھایہ تو مغرور سڑا کریلا ہے۔” وہ حسرت سے بولی۔ ” ہاں نا زوبیہ کو بھی شروع میں چنگیز خان ہی لگا تھا” وہ دوبدو بولی۔ "اللہ نہ کرے اسکا اور اسفندیار کا کیا مقابلہ۔ مرحا نے آنکھیں دکھائیں۔ "مجھے لگا تم اپنےاور زوبیہ کے مقابلے کی بات کی تردید کررہی ہو؟ واقعی تمہارا اور اسکا کیا مقابلہ۔” اس نے اطمنیان سے کہا۔تو مرحا نے اسے ایک دھپ کمر پر دی۔ "ہائے میں بھری جوانی ڈاکٹر اسفند یار کا انتظار کرتی رہوں گی۔میں نے سوچا تھا میرا باس بھی۔۔۔۔۔۔۔” مرحا نے ڈرامائ انداز میں سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
"مرحا بس بہت ہو گیا ہے یہ اسفندیار نامہ ۔اب حقیقی زندگی کی طرف لوٹ آو۔جو افسانوی سے بالکل مختلف ہے۔مشکلات اور پریشانیوں سے گھری۔افسانوی باتیں دل کو بھاتی ضرور ہیں۔لیکن ان پر چل کر کوئ زندگی نہیں گزار سکتا۔ ڈاکٹر اسفند یار یا کوئ بھی ثانوی کردار اسے اپنے حواس پر غالب مت آنے دو کہ "پرفیکٹ میں” ڈھونڈنے کے چکر میں خود کو رول دو۔ اللہ نے کسی کو مکمل نہیں بنایا۔اور اگر بنایا ہوتا تو دیگر رشتے انسان کے ساتھ نہ جوڑے جاتے۔جو فقط اسے مضبوط اور سہارا دینے کیلیے بنائے گئے ہیں۔” وہ سنجیدہ ہوئ۔ ” لیکن پھر بھی انوشے میری خواہش ہے کہ شوہر مکمل نہ سہی لیکن اس تک پہنچنے کی کوشش تو ضرور کرے۔” مرحا بحث پر آمادہ ہوئ۔انوشے نے گہری سانس لی۔: مرحا اگر وہ تم سے کبھی ایسی توقعات وابستہ رکھ لے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تمہیں یہ ژوایش ضرور رکھنی چاہیے۔کہ وہ باکردار ہو؛خیال رکھنے والا ہو لیکن کسی سے کاملیت کیبآس لگانا نری بے وقوفی ہے جو آپ نہیں کر سکتے۔وہ کوئ اور کیسے کر سکتا ہے” اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
"افسانوی کرداروں سے محبت تو کوئ انکار نہیں نا” مرحا نے مزید کہا۔” محبت۔۔۔۔۔۔مرحا زندگی میں جوکہ حقیقی ہواس میں یہ محبت صرف ایک شخص سے مشروط رہنا ناقابل یقین ہونے کے ساتھ ساتھ ناممکن بھی ہے۔اصل زندگی میں اور بھی بہت سے رشتے ہوتے ہیں۔ جس میں توازن رکھنا انسان کی ذمہ داری ہے۔لیکن جہاں تک میرا خیال افسانوی کردار صرف میاں بیوی کی محبت سے آگے نہیں دیکھتے۔” مرحا نے سمجھنے والے انداز میں سر دھنا۔ "اچھا چلو اب آئسکریم کھلاو۔اتنی سنجیدہ گفتگو مجھے ہضم نہیں ہوئ۔”مرحا نے کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے گاڑی آئسکریم پارلر کی طرف موڑ دی۔
5 فروری کل تھا۔ مقبوضہ کشمیر کیلیے شاید یہی وہ دن ہے۔جب ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائ جاتی ہے۔ امت مسلمہ کے وجود میں اپنے مسلمان بہن،بھائیوں کے لیے تکلیف کے آثار جاگتے ہیں۔اور پھر اگلے ہی روز زندگی اپنے ہی ڈگر پر روڑنا شروع ہوتی ہے۔انوشے کو بھی کشمیر کے حوالے سےایک پروگرام کرنا تھا۔جن میں حریت رہنما اور ایک انڈین آرمی آفیسر شامل ہو رہے تھے۔انوشے اپنی کیبن میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر کشمیر میں ہوئ بربریت کے متعلق ڈھونڈ رہی تھی۔ گوگل( google) پر سرچنگ کے دوران اسکی نظر اپنے ہی تین سالہ پرانے پروگرام پر پڑی۔جو کہ کشمیر کے لیے آواز اٹھانے پر ٹاپ آف دا لسٹ جا رہا تھا۔اسکی سوچ کے پروانے ماضی کی سمت اڑنے لگے۔
وہاج کے آفس میں وہ اس مو ضوع پر غور کررہی تھی۔”مس انوشے یہ کافی حساس معاملہ ہے۔آر یو شیور آپ یہ کر لیں گی۔” وہاج سنجیدگی سے گویا ہوا۔ "جی سر”اسکا اعتماد قابل دید تھا۔ پروگرام کا آغاز ہوا تو حریت رہنما کے بعد انڈین آرمی آفیسر کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ "آپ پہلے بلو چستان کے متتعلق تو فیصلہ کریں۔ وہ ہمارا ہے آپ اسے چھوڑ دیں۔”
[: اسکی بات نے صرف انوشے ہی نہیں بلکہ صدیقی صاحب کا دماغ بھی گھمادیا۔اسکے مزید کچھ بولنے سے پہلے ہی انوشے بول پڑی۔ "ویٹ آپ بات کو غلط رخ پر لے کر جا رہے ہیں۔میں ایک territory disputed متنازعہ علاقہ کشمیر کے متعلق بات کرریی ہوں۔ بلوچستان تو متنازعہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی ساتھ بولنا شروع ہو گیا۔ "نہیں تو آپ بلوچستان ہمیں دے دیں۔” انوشے کا سر چکرا گیا۔” واٹ داہیل! مسڑ رنبیر سنگھ بلوچستان پاکستان کا صوبہ ہے۔جو آزاد ہے اس پر کوئ تنازعہ نہیں ہے۔میں آپ سے کشمیر کے متعلق پوچھ رہی ہوں۔ بہتر ہو گا کہ آپ سوال کا جواب دیں” وہ دانت پیس کر بولی۔یہ پہلی بار تھا کہ جب انوشے کسی شو میں اپنا ٹیمپر لوز کررہی تھی۔اسی دوران بریک لینی پڑی۔اور بریک کے دوران اسے صدیقی صاحبنے بلاوا بھیجا۔اسے بھی احساس ہو گیا تھا کہ یوں آن ائیر کوئ بھی غیر مناسب بات معاملہ کو بگاڑ سکتی ہے۔وہ اب انکے سامنے تھی۔انوشے مجھے آپ سے ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی امید نہیں تھی۔اسطرح غصہ میں آجانا۔۔۔۔۔۔وہ سخت لہجے میں بول رہے تھے۔ وہاج بھی ساتھ والے صوفے پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔وہ غصہ میں بول بھی نہیں پارہے تھے۔اسے ازحد شرمندگی محسوس ہوئ۔لیکن اب کیا کیا جائے کہ ان سے نکلا تیر اور منہ سے نکلی بات لوٹتی نہئں۔لیکن انوشے کو محسوس ہوا کہ اسے دبیر سنگھ کو جوب دینے پر ذرا افسوس نہیں۔یہ سارا افسوس تو صرمدیقی صاحب کے سامنے شرمندگی کا ہے۔ انکے مان کو توڑنے کا ہے۔”جائیں آپ کے پروگرام کا وقت ہو گیا ہے۔لیکن اب پلیز احتیاط کیجیئے گا۔”صدیقی صاحب نے ضبط کرتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے باہر نکل گئ۔ پروگرام کے اخرترام پر اس نے یہ ضرور کہا تھا۔ "قائداعظم کا قول ہے کشمیر ہماری شہہ رگ ہے۔اور شہہ رگ کبھی بھی پاکستان سے جدا نہیں ہوئ۔ کوئ مانے یا نا مانے کشمیر پاکستان کا ہے۔پاکستان کا حصہ ہے۔ مسلمان ھلد یا بددیر اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا۔
(ساحر لو دھیانوی)
لیکن ہمارا المیہ تو دیکھیےایک شخص ہمارے ملک کے قومی چینل(national channel ) پر بیٹھ کر میرے ملک کے خلاف بولتا ہے۔اور ہم افسوس کر کے خاموشی سے ہنستے رہتے ہیں۔آخر ہم کب جاگیں گے۔”وہ شو ختم کرنے کے معزرت کرنے کی غرض سے صدیقی صاحب کے کیبن کی طرف بڑھی۔مجھے لگتا ہے میں نے اسے جاب دے کر غلطی کی ہے وہاج وہ کم عمر یے۔لیکن تجربہ کار بالکل بھی نہیں ہے۔اس میں غصہ بھی زیادہ ہے۔” صدیقی صاحب پریشانی سے کہہ رہے تھے۔ "وہ شخص ہمارے چینل پر اول فول بکے گا تو کون سنے گا۔میں بھی اگر انوشے کی جگہ ہوتا تو شاید یہی کرتا۔”وہاج نے انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔انوشے مزید شرمندہ ہوی تو ناک کرکے اندر چلی گئ۔”
۔” سر آئ ایم سوری۔آئ نو میری اس حرکت سے آپ ہرٹ ہوئے ہیں۔اور شاید کچھ تحفظات کا شکا ر بھی ہوئے ہیں۔”وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئ۔پھر چند لمحے کے توقف کے بعد بولی۔
"لیکن اگر پھر کسی بے میرے ملک کے بارے میں اسی طرح کہا تو میں اسی طرح پیش آوں گی۔یہ جذباتی عمل نہیں تھا۔”وہ منتظر نگاہوں سے انکی طرف دیکھتی رہی۔وہاج کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔جبکہ صدیقی صاحب کے چہرے پر سوچ کے تاثرات۔ "ہوں۔۔۔۔۔۔ انوشے آپکی حن الوطنی ہماری سمجھ میں تو آجائے گی ۔لیکن باقی لوگ۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے۔لیکن وہ دونوں اچھے سے جانتے تھے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ ” سر پاکستان کا ہر شہری محب وطن ہے۔ہمارے ایک دوسرےسے سو اختلافات ہی سہی لیکن ہمیں یہ منظور نہیں ہے کہ کوئ بھی باہر سے آکر ہمارے ملک میں نقطہ چینی کرے۔ اور پھر یہ تو میرے ہی ملک مے ایک صوبے کی سالمیت کی بات ہے۔میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔کی ایک غیر ملکی آرمی آفیسر جو کہ دشمن ملک ہے۔میرے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھے۔میان اگر اسکی آنکھیں نوچنے کی صلاحیت رکھتی تو وہ بھی کر ڈال دیتی۔ فی الحال صرف زبان سے ہی روکا۔” انوشے پر عزم تھی۔اور اسکے عزم کو دیکھ کر تو وہ دونوں وش عش کر اٹھے۔ "ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں”صدیقی صاحب خاموش ہو گئے۔وہ واپس حال میں لوٹ آئ۔ اگلے ہی چند دنوں میں اسکا یہ شو معروف ترین بن گیا۔جسے یو ٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھاگیا۔لیکن اب اسے اسکی جزباتیت کی بنیاد پر پروگرام کرنے کی اجازت دی گئ تھی۔صرف ریٹنگز(ratings) بڑھانے کیلیئے۔جس سے انوشے کا کوئ تعلق نہیں تھا۔
وہ اپنا پروگرام کرکے گھر لوٹی تو فرح بیگم کو لاونج میں صوفے پر ٹی وی دیکھتے ہوئے پایا۔وہ اپنے شغل میں اتنی مصروف تھی کہ انوشے کی آمد کا نوٹس بھی نہیں لیا۔وہ حیران ہوئ ٹی وی کی جانب دیکھا جس پر وہاج صدیقی بیٹھا تھا۔کشمیر ڈے کی سپیشل ٹرانسمیشن کررہا تھا۔اس بار بھی انڈین آرمی آفیسر کا وہی موقف تھا۔ "بلوچستان ہمارا ہے”انوشے کا دل کیا اسکا جاکے حشر کردے۔لیکن فی الحال وہ لب بھینچنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی۔ "سر آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں۔میں کشمیر کے متعلق بات کررہا ہوں۔جو متنازعہ علاقہ ہے۔آپ بلوچستان کو بغیر کسی وجہ کے گھسیٹ رہے ہیں۔”وہاج کی بھرپور کوشش تھی کہ خوش اخلاقی کا دامن اسکے ہاتھ سے نہ چھوٹے۔وہاں موجود حریت رہنما کی بیوی نے پرزور مخالفت کی تھی۔ جس کے متعلق وہاج نے یہ کہا تھا کہ "اگرچہ آپ ایسا ہی لہجہ ڈیزرو کرتے ہیں۔لیکن ایک اینکر ہو ے کی حیثیت سے میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ عمل بہر حال انسانیت سے بھی نیچے درجہ کا ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں سے چھنی کردیں۔22 نوجوان تھے جو فقط ایک اذان دینے کی پاداش میں شہید کردیے گئے۔ ایک کو شہید کیا گیا دوسرا گیا اسطرح 22 نو جوان نے نا صرف اذان مکمل بلکہ شہید بھی ہوگئے۔ آخر آپ کب تک قتل کرتے رہیں گے۔آخر آپ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ
شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائ
(علامہ اقبال)
پروگرام ختم ہو چکا تھا۔فرح بیگم نے گہری سانس بھری۔انوشے کو دیکھ کر چونک گئ۔وہ ابھی تک ابایہ میں تھی۔کندھے پر بیگ لٹک رہا تھا۔جس زے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئ ہے۔ "تمہیں کیا ہوا؟” انہوں نے اس سے پوچھا۔” کچھ نہیں” وہ چونکی۔پھر بڑبڑاتی ہوئ کمرے کی طرف بڑھ گئ۔ "یہ بھی پوچھنا تھا کہ کبھی ہنددوں کو پوجا کرنے سے بھی مسلمانوں نے روکا ہے۔اور پھر یہ humbly request کرنے کی کیا ضرورت تھی۔لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ انوشے کو اسکی خوش مزاجی کچھ خاص پسند نہیں آئ تھی۔
مرحا نے خلاف توقع اگلےہی روز ہسپتال آنا شروع کردیا۔عون نے اپنی نگرانی میں سب آپریشنز کروائے۔حتی کہ مرحا اس سے چڑنے لگی۔اور اکیلے میں تو اللہ جانے کن کن القابات سے نوازتی رہی۔جھٹکا تو اسے اس وقت لگا۔جب اس نے وہاج کو ہسپتال میں دیکھا۔وہ اڑ کر اسکے پاس پہنچی۔”آپ وہاج صدیقی ہیں نا” وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی۔ وہاج اس وقت رائل بلیو شرٹ کے ساتھ جینز میں ملبوس ،آنکھوں پر گوگلز لگائے ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے اور دوسرے میں gucciکی گھڑی پہنے عجلت میں دکھائ دے رہا تھا۔اسکا رخ عون کے کیبن کی جانب تھا..: مرحا کے پوچھنے پر وہ مسکرایا کی اسکے دونوں گال کے ڈمپلز واضح ہوئے۔”جی”۔اس نے موبائل فون جینز کی جیب میں ڈالا۔ "آپ یہاں کیا کررہےہیں؟ آئ مین آپ ٹھیک ہیں نا؟”وہ پر جوش ہی اسکا حال پوچھ رہی تھی۔ جوابا اس نے گھڑی دیکھی۔جیسے اسےاحساس دلانا چاہتا ہو کہ وہ جلدی میں ہے۔لیکن یہاں احساس کسے تھا۔اس نے آنکھوں سے گوگلز ہٹائے۔اسکی بھوری آنکھوں میں چمک تھی۔ "جی میں ٹھیک ہوں۔یہاں اپنے بھائ عون سے ملنے آیا ہوں۔آپ شاید نئ ڈاکٹر ہیں ہسپتال میں اسلیے شاید آپکو معلوم نہیں ہو گا” وہ بعجلت بولتا ایک دم آگے بڑھا۔ "آپ اس سڑو ،مغرور کے بھائ ہیں۔” مرحا کی زبان پھسلی اور دوسری طرف وہاج پھسلتے پھسلتے بچا۔ اس کے شریف معصوم بھائ کو سڑو اور مغرور تر جیسے القابات دیے جارہے تھے۔ "جی؟” بھوری آنکھوں میں حیرت سمائ۔ مرحا نے زبان دانتوں تلے دبائ۔ وہ نقاب میں تھی۔اسلیے وہاج اسکی صرف بند آنکھیں ہی دیکھ سکا۔” نہیں دراصل آپ اتنے شریف اور اچھے ہیں۔لیکن برا مت مانیے گا آپ کے بھائ اتنے ہی سڑو مزاج کے ہیں۔” اس نے اپنی بات کی وضاحت کی۔ وہاج نے اپنی مسکراہٹ دبائ۔جس کے نتیجے میں اسکے دائیں گال پر ڈمپل ابھرا۔ مرحا اسے دیکھے گئ۔”بھائ” عون کی آواز پر وہ چونکی۔وہاج نے اسکی طرف دیکھا۔ "اوکے پھر ملیں گے۔ابھی میں جلدی میں ہوں۔”وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا آگے بڑھ گیا۔ ” میں وہاج صدیقی سے ملی ہوں” مرحا پر جوش ہوئ۔پھر یکلخت ہی اسے عون کا خیال آیا۔ یہ دونوں بھائ کیسے ہو سکتے ہیں عون علی ہے اور وہاج صدیقی۔ کہیں یہ مجھ سے جھوٹ تو نہیں بول رہے تھے۔لیکن انہیں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہو گی۔وہ الجھی۔
"ہیلو سڑو مزاج بندے” وہاج نے اسکی کیبن میں داخل ہوتے ہوئے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ تو وہ تحیر میں مبتلا ہو گیا۔ ” سڑو مزاج اور میں”اس نے حیرانی میں پوچھا۔تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ "تمہارے ہسپتال کے لوگ تمہیں اسی نام سے پکارتے ہیں۔”وہاج نے اسے حیران کرنا چاہا۔جوابا اس نیمےٹھنڈی آہ بھری۔ "یقینا یہ لقب آپ نے مرحا سے سنا ہو گا” وہ مسکرایا۔ "ہوں” "مرحا۔۔۔۔۔۔یہ کون ہے؟ وہ مشکوک ہوا۔”نیو ڈاکٹر ہے۔” عون نے بتایا۔”صرف ڈاکٹر ہے یا۔۔۔۔۔؟ ” وہاج نے ذومعنی انداز میں پوچھا۔ "جی صرف ڈاکٹر ہے۔اللہ کو مانیں بھائ وہ کچھ اور ہو سکتی ہے” اس نے غلط فہمی دور کرنی چاہی۔ ” نہیں خیر مجھے نہیں لگتا وہ تو میری بڑی فین لگ رہی تھی۔” وہاج نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔ "جی آپ ہیں نا۔آپ کی وجہ سے کوی میری طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔اتنے ہینڈ سم اور ڈیشنگ بننے کی کیا ضرورت ہے ” وہ مصنوعی خفگی سے بولا۔ "ہاہاہا تم میری پرسنیلٹی سے جیلس ہو رہےہو۔” بالکل نہیں” وہ فورا بولا۔ وہاج نے چند ایک کام کی باتیں کی اور پھر چلا گیا۔عون فراغت پاتے ہی مرحا کے سر ہوا۔ "جی تو ڈاکٹر مرحا آپ کو وہاج اور میں بھای نہیں لگتے۔میں نے آپکو جاب دی۔پھر بھی میں سڑو ہوں۔”وہ خطرناک تیور سے اسے گھوررہا تھا۔ وہ خود وائٹ شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس، کہنیوں تک آستین موڑے ہوئے ، rolex کی گھڑی پہنے ہوئے وجیہہ رہا تھا۔ مرحا نے غور سے اسکا جائزہ لیا۔پھر اطمنیان سے بولی۔ "آپ مجھے جاب دے کر احسان مت جتائیں۔ جبکہ یہ آپ نےہی کہا تھا کہ آپ مجھے جاب فقط اسلیے دے رہے ہیں کہ میں اس قابل ہوں۔اور بات رہی آپکی اور وہاج سر کی تو واقعی آپ دونوں بھائ نہیں لگتے۔ اور آپ کے تو سر نیم ہی مختلف ہیں۔وہاج صدیقی اور عون علی۔”وہ جو اتنی دیر سے الجھی ہوئ تھی اپنی الجھن سامنے رکھی۔تو اسکی سیاہ آنکھوں میں تکلیف کی ایک جھلک صاف نظر آئ۔ جس پر قابو پاتے ہی وہ فورا بولا۔ "ہم دونوں کزن برادرز ہیں۔مزید صفائ نہیں دوں گا۔ آپ دوسروں کے سامنے براہ مہربانی اپنی زبان قابو میں رکھیں۔” اس نے تنبیہ کی۔مرحا کو غصہ تو بہت آیا۔لیکن افسوس اس سے زیادہ کہ نہیں سکی تھی۔ ” جی” کہہ کر خاموش رہ گئ۔
وجاہت صدیقی اور علی صدیقی دونوں بھائ تھے۔علی صدیقی کی بیگم ماہ روش کا تعلق بھی اپر کلاس سے تھا۔ دونوں کا تعلق میڈیا سےتھا۔انکے ہاں دس سال کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا عون علی۔لیکن اسکے پیدا ہوتے ہی انکی بیگم ماہ روش دار فانی سے کوچ کر گئیں۔عون ابھی دو سال کا تھا کہ علی صدیقیبکا پلین کریش ہونے کی صورت میں وفات ہو گئ۔عون کو وجاہت صدیقی اور نیلوفر نے پالا۔انہوں نے عون، فائز اور وہاج میں کبھی فرق نیں کیا تھا۔عون ڈاکٹر بننا چایتا تھا ۔بس اسکا کہنا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکا تو کیا ہوا دوسرے بچوں کےماں باپ کو بچانے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نا۔دائز اپنی ایڈوار ٹائزنگ فرم چلا رہا تھا جو کافی کامیاب ثابت ہو رہی تھی۔ وہاج نے صدیقی صاحب کے اصرار پر میڈیا اور جرنلیسٹ میں دلچسپی لی تھی۔ پہلے سی او کے عہدے پر فائز رہا پھر دلچسپی بڑھنے کی صورت میں خود پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا۔صدیقی صاحب کی ایک بیٹی بھی تھی۔ مائرہ صدیقی جو اعلی تعلیم کیلیے یو کے گئ تھی۔
اس سال کے وسط تک اسکی واپسی متوقع تھی۔

جاری ہے.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/