"مزدور” انگلیوں سے شعاعیں نکلنے لگیں ہم سے دنیا…

انگلیوں سے شعاعیں نکلنے لگیں ہم سے دنیا میں ہر سُو اُجالے ہُوئے
زورِ بازو پہ ہم کو بڑا ناز ہے سارے جذبے ہیں محنت میں پالے ہُوئے
ساری دنیا میں مشہور اپنا وطن، ہم بھی سارے زمانے میں مشہور ہیں
ملک کا نام ماتھے پہ لکھتے رہے فخر یہ ہے کہ ہم اس کے مزدور ہیں
دل پہ چاہت کی شبنم برستی رہی اور بدن اپنے لوہے میں ڈھالے ہوئے
شہر میں چاہے کوئی بھی موسم رہے جسم اپنا سدا کارخانوں میں ہے
آسمانوں سے اُس پار اپنی نظر دل ہمیشہ سے اونچی اُڑانوں میں ہے
آسمانوں میں ہوں، کارخانوں میں ہوں، ہم رہیں اپنا پرچم سنبھالے ہوئے
غم کے گرداب سے ہم نکلتے رہے رات دن اپنی قسمت بدلتے رہے
وقت کی گردشیں راہ میں تھم گئیں اور ہم تھے کہ چلتے ہی چلتے رہے
راستے ان پہ پھولوں کی بارش کریں جو چلیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے
غلام مُحمّد قاصر
از:-اِک شعر ابھی تک رہتا ہے(کُلّیات)
دریائے گماں ص ۳۹۸
اِنتِخاب
سفیدپوش


