منتخب غزلیں
خورشیدؔ رضوی تُم کو مِری اُفتاد کا اندازہ نہیں ہے…

خورشیدؔ رضوی
تُم کو مِری اُفتاد کا اندازہ نہیں ہے
تنہائی صِلہ ہے مِرا، خمیازہ نہیں ہے
تُم مُجھ سے نہ مِل پاؤ گے ہرگز، کہ مِرے گِرد !
دِیوار ہی دِیوار ہے، دروازہ نہیں ہے
مدّھم ہے نَوا میری کسی اور سبب سے!
یہ بات نہیں ہے کہ، غَمِ تازہ نہیں ہے
ہیں شرق سے تا غرب پَریشاں مِرے ذرّات
جُز موجِ صَبا، اب کوئی شِیرازہ نہیں ہے
جو تیرے لیے ہم پہ کَسا جا نہ چُکا ہو
اِس شہر میں، ایسا کوئی آوازہ نہیں ہے
ڈاکٹر خورشیدؔ رضوی




