مجهے کمال کی دهن ہے، کمال کر دوں گا تری نظر کو ،…
تری نظر کو ، کئی دل نکال کر دوں گا
وہ چشمِ مست ابهی اس سے بهی نہیں واقف
کہ میں بہک کے اچانک سوال کر دوں گا
مری فنا تو مسلم ہے، اس کا خوف ہی کیا
تمہاری ذات کو میں ، لازوال کر دوں گا
ادهر سے گزریں اگر ، گردشیں زمانے کی
قسم خدا کی، طبیعت بحال کر دوں گا
یقیں نہیں، کہ یہ لغزش ہوئی ہو دانستہ
گماں نہ تها، کہ کبهی عرضِ حال کر دوں گا
مری پسند کا معیار کچھ بھی ہو، تاہم
جسے چنوں گا، اسے بے مثال کر دوں گا
حقیر ہوگی مری پیشکش ، ذلیل نہیں
جو چیز دوں گا تجهے، دیکھ بھال کر دوں گا
مرے سپرد نہ کر ، اپنے راز اے ہمدم
مجهے یہ ڈر ہے، میں افشائے حال کر دوں گا
بہت سوال نہ کر ، مجھ پہ داورِ محشر
کہ میں بهی کوئی ادق سا سوال کر دوں گا
میں اس لیے نہیں ملتا کسی مربی سے
جسے ملوں گا، اسے پر ملال کر دوں گا
زہے نصیب ، کہ کہتا ہے خود عدم ساقی
تجهے میں اپنی محبت سے ڈال کر دوں گا
(عبدالحميد عدم)
ابوالحسن علی ندوی




Wao
واااہ
Wah
مری پسند کا معیار کچھ بھی ہو، تاہم
جسے چنوں گا اُسے بے مثال کردوں گا
وااہ۔۔۔۔۔ بہت لاجواب