منتخب نظمیں

چھریاں چلیں شب دل و جگر پر لعنت ہے اس آہِ بے اثر …

چھریاں چلیں شب دل و جگر پر
لعنت ہے اس آہِ بے اثر پر

بالوں نے ترے بلا دکھا دی
جب کھل کے وہ آ رہی کمر پر

نامے کو مرے چھپا رکھے گا
تھا یہ تو گماں نہ نامہ بر پر

پھرتے ہیں جھروکوں کے تلے شاہ
اس کو ہیں امید یک نظر پر

کیا جاگا ہے یہ بھی ہجر کی شب
زردی سی ہے کیوں رخِ قمر پر

پھر غیرتِ عشق نے بٹھائے
درباں شدید اس کے در پر

رہتی ہیں بہ وقت گریہ اکثر
دو انگلیاں اپنی چشمِ تر پر

ہے عشق سخن کا مصحفیؔ کو
مائل نہیں اتنا سیم و زر پر

(غلام ہمدانی مصحفی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/