منتخب غزلیں
عبث وجود کا دکھ ، تنگئ حیات کا دکھ کہ دل نے پالا ہ…

عبث وجود کا دکھ ، تنگئ حیات کا دکھ
کہ دل نے پالا ہوا ہے ہر ایک ذات کا دکھ
کہ دل نے پالا ہوا ہے ہر ایک ذات کا دکھ
تلاشِ جنت و دوزخ میں رائیگاں ، انساں
زمیں پہ روز مناتا ہے کائنات کا دکھ
کئی جھمیلوں میں الجھی سی بدمزہ چائے
اُداس میز پہ دفتر کے کاغذات کا دکھ
تمام دن کی مصیبت تو بانٹ لی ہم نے
کبھی کہا ہی نہیں اپنی اپنی رات کا دکھ
گئے دنوں کا کوئی خواب دفن ہے شاید
کہ اب بھی آنکھ سے رِستا ہے باقیات کا دکھ
میں آل سے ہوں شہ کربلا کی سو مجھ کو
چناب سے بھی ملا ہے وہی فرات کا دکھ
نہ جانے مالکِ کُن ، کس طرح نبھاتا ہے
یہ دسترس کی سہولت ، یہ ممکنات کا دکھ
(صائمہ آفتاب)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی



Saima Aftab
bht khoob
Khoob
Waaah
Wah bht khoob
Waah…waah…
Saima Aftab ji…
Kya kehne…
Kya baat hai…
Chenab se bhi mila hai wohi Furat ka dukh…
Wahhh
لاجواب
واہ
Lajwaaaaab poetry
Uffff…. amazing poetry
Bouht ala
واہ
واہ واہ واہ
بہت خوب