منتخب غزلیں
اب صفیؔ کی جان ہی لیں گے یہ ارمانِ صفیؔ دیکھ او جا…

اب صفیؔ کی جان ہی لیں گے یہ ارمانِ صفیؔ
دیکھ او جانِ صفیؔ او دُشمنِ جانِ صفیؔ
دیکھ او جانِ صفیؔ او دُشمنِ جانِ صفیؔ
لوٹ کے جانے کا باعث اور تو کوئ نہ تھا
رہ گیا تھا کُچھ نہ کُچھ جنّت میں سامانِ صفیؔ
بات جِس کی ساتھ اُس کے نقل آخِر نقل ہے
دوستی کرتے ہیں دُشمن بھی بہ عُنوانِ صفیؔ
بےوفا کیسا ہے وہ ہم بھی تو آخِر کُچھ سُنیں
آپ سے کیا بندھے تھے عہد و پیمانِ صفیؔ
جاچُکا بس جاچُکا اب ایسے وحشی کا جُنُوں
ہوچُکی بس ہوچُکی اب فِکرِ دامانِ صفیؔ
سرگراں اُس کو بنایا ہے تُمھارے پیار نے
ہوگئی اب اور سے کُچھ اور ہی شانِ صفیؔ
اے صفیؔ یہ مسئلہ اب شہر میں مشہور ہے
دیکھنے کی چیز ہے واللہ دیوانِ صفیؔ۔۔۔!
صفیؔ اورنگ آبادی




