منتخب غزلیں
تُو کہیں بھی رہے سر پر تِرے اِلزام تو ہے تیرے ہاتھ…


تُو کہیں بھی رہے سر پر تِرے اِلزام تو ہے
تیرے ہاتھوں کی لکِیروں میں مِرا نام تو ہے
مُجھ کو تُو اپنا بنا یا نہ بنا تیری خوشی
تُو زمانے میں مِرے نام سے بدنام تو ہے
میرے حِصّے میں کوئی جام نہ آئے نہ سہی
تیری محفِل میں مِرے نام کوئی شام تو ہے
دیکھ کر لوگ مُجھے نام تیرا لیتے ہیں
اِس پہ مَیں خُوش ہُوں محبّت کا یہ انجام تو ہے
وہ سِتمگر ہی سہی دیکھ کے اُس کو صابرؔ
شُکر اِس دِلِ بیمار کو آرام تو ہے۔۔۔!
کلام صابرؔ جلال آبادی
آواز غلام علی


