عکسِ خیال
اِس سے کمال غزل بھی کیا ھو گی۔ ایک ایک شعر سونے کے…

اِس سے کمال غزل بھی کیا ھو گی۔ ایک ایک شعر سونے کے تار سے لکھنے لائق۔
وقت کی عمر کیا بڑی ھو گی
اِک تیرے وصل کی گھڑی ھو گی
دستکیں دے رھی ھے پلکوں پر
کوئی برسات کی جھڑی ھو گی
کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی
پھول کی ایک پنکھڑی ھو گی
زلف بل کھا رھی ھے ماتھے پر
چاندنی سے صبا لڑی ھو گی
اے عدم کے مسافرو ھوشیار
راہ میں زندگی کھڑی ھو گی
کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ھے؟؟
جاں کسی پھول کی اڑی ھو گی
التجا کا ملال کیا کیجیے
اُن کے در پر کہیں پڑی ھو گی
موت کہتے ھیں جس کو ، اے ساغر
زندگی کی کوئی کڑی ھو گی
”ساغر صدیقی”
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

