عکسِ خیال
چلیں اس جنگ و جدل کے ماحول سے نکلیں اور پیار محبت …

چلیں اس جنگ و جدل کے ماحول سے نکلیں اور پیار محبت کی باتیں کریں۔ فیض صاحب کی باتیں کریں۔ اور اُن سے اُن کی ھی آواز میں اُن کا کلام سُنیں۔
گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کِھلے جاتے ھیں ، وہ سایۂ تر تو دیکھو
ایسے ناداں بھی نہ تھے ، جاں سے گزرنے والے
ناصحو ، پند گرو ، راہ گزر تو دیکھو
وہ تو وہ ھے ، تمہیں ھو جائے گی الفت مجھ سے
اِک نظر تم ، میرا محبوبِ نظر تو دیکھو
وہ جو اب ، چاک گریباں بھی نہیں کرتے ھیں
دیکھنے والو ، کبھی اُن کا جگر تو دیکھو
دامنِ دَرد کو گلزار بنا رکھا ھے
آؤ اک دن ، دلِ پُرخُوں کا ھنر تو دیکھو
صُبح کی طرح چمکتا ھے ، شب غم کا اُفق
فیضؔ , تابندگئ دیدۂ تر تو دیکھو
”فیض احمّد فیض“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

