منتخب غزلیں

کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں رات مہکی ہ…

کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں
رات مہکی ہے مگر جی ہے نڈھال ایسے میں

میرے اطراف تو گرتی ہوئی دیواریں ہیں
سایۂ عمرِ رواں! مجھ کو سنبھال ایسے میں

جب بھی چڑھتے ہوئے دریا میں سفینہ اترا
یاد آیا ترے لہجے کا کمال ایسے میں

آنکھ کھلتی ہے تو سب خواب بکھر جاتے ہیں
سوچتا ہوں کہ بچھا دوں کوئی جال ایسے میں

مدتوں بعد اگر سامنے آئے ہم تم–!!!
دھندلے دھندلے سے ملیں گے خد و خال ایسے میں

ہجر کے پھول میں ہے درد کی باسی خوشبو
موسمِ وصل!! کوئی تازہ ملال ایسے میں

(نصیر ترابی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/