عکسِ خیال
”تیری تصویر“ اپنے کمرے میں چار سُو پھیلی تیری خوش…

”تیری تصویر“
اپنے کمرے میں چار سُو پھیلی
تیری خوشبُو سے جاں چھڑا لی تھی
تیرے نامے جلا چکا تھا میں
تیرے تحفے ، کتاب ، گلدستے
ایک ایک کر کے سب گما ڈالے
تیری چُوڑی سنبھال رکھی تھی
ایک لاکر میں ڈال رکھی تھی
آج اُس کو بھی پھینک آیا تھا
ایک نادیدہ قید سے خود کو
آج آزاد کر رھا تھا میں
پر نہ قسمت نے یاوری کی
ایک زنجیر رہ گئی باقی
تیری تصویر رہ گئی باقی
”مخرب خراب“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

