منتخب غزلیں

مغنی تبسم کی وفات Feb 15, 2012 پروفیسرمغنی تبسم (…

مغنی تبسم کی وفات
Feb 15, 2012

پروفیسرمغنی تبسم (۱۹۳۰۔ ۲۰۱۲) ممتاز نقاد ‘ شاعر‘محقق اور ایک شفیق استاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے آپ نے نہ صرف ایم اے کیا اور فانی بدیوانی پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی بلکہ بحیثیت پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی خدمات بھی انجام دیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وہ وزیٹینگ پروفیسر رہے ہیں۔آپ کے شعری مجموعوں میں نواے تلخ ‘ پہلی کرن کا بوجھ ‘ مٹی مٹی میرا دل اور ایک کلیات ’’درد کے خیمے کے آس پاس ‘‘شائع ہوچکے نیزتنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ’’بازیافت‘‘ اور’’ لفظوں سے آگے ‘‘ کے علاوہ تحقیقی مقالہ فانی بدایونی بھی شائع ہوکرادبی دنیا میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔اپنی آخری سانس تک ادارہ ادبیات اردو کو فروغِ علم و ادب کا مرکز بناے رکھا ‘ماہنامہ سب رس کو اپنی ادارت میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا اور ڈاکٹرزورؔ کے مشن کو آگے بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پروفیسر شہریارکے ساتھ مجلہ ’’شعر و حکمت ‘‘کے کئی ایک ضخیم شمارے نکالے۔ انہیں کئی ایک قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا۔وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ۔ کمرۂ جماعت میں تدریس کا ان کا ایک منفرد اندازتھا۔ تحقیق کا معیار ہمیشہ ان کے پیش نظر رہا۔ وہ ہمیشہ گہرے سمندر کی طرح دکھائی دیتے تھے کم سے کم لفظوں میں معی کے دریا بہادینے کا فن انہیں خوب آتا تھا۔ پروفیسر مغنی تبسم کی برسی کے حوالے سے علامہ اعجاز فرخ کا ایک دلچسپ مضمون احباب کی نذر ہے ۔
بقول مغنی تبسم

چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کُھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
…..
بشکریہ جہان اردو


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/