منتخب غزلیں

جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے ہم…

جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے
ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گُلِ تر ہو جائے

کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی
جو مانگے اسی پل مل جائے جو سوچے وہیں پر ہو جائے

اک عالمِ جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں کوئی
اس وقت ہماری بانہوں میں جو آئے وہ دلبر ہو جائے

آشوبِ محبت کا آنسو رکھتا ہے تلَوُّن فطرت میں
آنکھوں میں رہے تو قطرہ ہے ٹپکے تو سمندر ہو جائے

جتنا بھی سمیٹیں آنکھوں میں رہتا ہی نہیں کچھ یاد ہمیں
یا رب وہ طلسمِ عارض و لب اک روز تو ازبر ہو جائے

جمشید متاعِ حسن جہاں سب اہلِ نظر کا حصہ ہے
جو چاہے قلندر ہو جائے جو چاہے سکندر ہو جائے

(جمشید مسرور)
Jamshed Masroor

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/