سودا کی اپنی ہی غزل پر تضمین مرزا رفیع سودا کی یہ …

مرزا رفیع سودا کی یہ غزل بہت مشہور ہے اور یقیناً سودا کو بھی بہت پسند ہوگی اسی لیے اِس پر مخمس کی شکل میں تضمین بھی کہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
کرے جو ظلم و ستم کرنے دو، ہوا سو ہوا
جفا و ظلم ستی مت ڈرو، ہوا سو ہوا
یہ میرے غم کی نہ شہرت کرو، ہوا سو ہوا
"جو گزری مجھ پہ مت اُس سے کہو، ہوا سو ہوا
بلاکشانِ محبت پہ جو، ہوا سو ہوا”
اگرچہ روزِ ازل سے تھی میری یہ تقدیر
کہ دامِ عشق میں اپنے کرے مجھے تو اسیر
کرے جو ذبح تو مجھ کو پچھاڑ جوں نخچیر
"مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
مرے لہو کو تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا”
وہ کون دن تھا کہ ہم بھی ہوئے تھے یار ترے
کسی طرح سے ترا دل بھی اس جفا سے پھرے
اگر کہے تو یہ آ کر ترے قدم پہ گرے
"خدا کے واسطے آ، درگزر گنہ سے مرے
نہ ہوگا پھر کبھو اے تُند خو، ہوا سو ہوا”
…….
جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
محمد رفیع سودا
جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
بلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا
مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
مرے لہو کو تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا
پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو
کوئی سبو کوئی مرہم رکھو ہوا سو ہوا
کہے ہے سن کے مری سرگزشت وہ بے رحم
یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا
خدا کے واسطے آ درگزر گنہ سے مرے
نہ ہوگا پھر کبھو اے تند خو ہوا سو ہوا
یہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو
نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا
نہ کچھ ضرر ہوا شمشیر کا نہ ہاتھوں کا
مرے ہی سر پہ اے جلاد جو ہوا سو ہوا
دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ
پھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا



