عکسِ خیال
آئیں عطاءاللہ عیسی خیلوی اور اُن کے فرزند سانول سے…

آئیں عطاءاللہ عیسی خیلوی اور اُن کے فرزند سانول سے بابائے تھل ”جناب فاروق روکھڑی“ کا بے مثال کلام سنتے ھیں۔
دِل کے معاملات سے ، انجان تو نہ تھا
اِسی گھر کا فرد تھا ، کوئی مہمان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں ، شہروں میں جا بسے
ورنہ ھمارا گاؤں ، یوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لیا اُسے ، نادان تھا ضرور
جب چھوڑ کر گیا مجھے ، نادان تو نہ تھا
کٹ تو گیا ھے ، کیسے کٹا یہ نہ پوچھیے ؟؟
یارو !! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اس قدر ، میرا ایمان تو نہ تھا
رسماً ھی آ کے پُوچھتا ، فاروق حالِ دل
کچھ اِس میں اُس کی ذات کا ، نقصان تو نہ تھا
”فاروق روکھڑی“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

