عکسِ خیال
”اس مینہہ سے بھری شب میں“ اِس مینہہ سے بَھری شب م…

”اس مینہہ سے بھری شب میں“
اِس مینہہ سے بَھری شب میں
بجلی جو کڑک جائے
اُس شوخ کا ننھا سا دِل
ڈر سے دَھڑک جائے
اُس سمت چلو تم بھی
اے بھٹکے ھُوئے لوگو
جس سِمت یہ ویراں سی
چُپ چاپ سڑک جائے
یہ ڈُوبتا سُورج
اور اُس کی لبِ بام آمد
تا حدِ نظر اُس کے
آنچل کی بَھڑک جائے
گلشن کی خموشی تو
اب جی کو ڈراتی ھے
کوئی بھی ھوا جس سے
پتا ھی کھڑک جائے
مدت سے جو رُوٹھے ھیں
اور مجھ سے نہیں ملتے
گر شعر میرے سُن لیں
جی اُن کا پَھڑک جائے
”منیر نیازی“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

