منتخب غزلیں

شفیق خَلِشؔ ۔ خواہشِ دِل دبائے رکّھا ہے اُن سے کیا…

شفیق خَلِشؔ
۔
خواہشِ دِل دبائے رکّھا ہے
اُن سے کیا کیا چُھپائے رکّھا ہے

ڈر نے ہَوّا بنائے رکّھا ہے
کہنا کل پر اُٹھائے رکھا ہے

مُضطرب دِل نے آج پہلے سے
کُچھ زیادہ ستائے رکّھا ہے

مِل کے یادوں سے تیری، دِل نے مِرے
اِک قیامت اُٹھائے رکّھا ہے

تیری آمد کے اِشتیاق نے پِھر
دِیدۂ دِل بِچھائے رکّھا ہے

از سَرِ نَو تُمھارے وعدے نے
میرے دِل کو لُبھائے رکّھا ہے

ولوَلہ دِل میں اُن کو پانے کا
مُفلسی نے دبائے رکّھا ہے

دردِ فُرقت پہ اِختیار کہاں
صُبح ہی سے رُلائے رکّھا ہے

جان لَیوا سی یاسیّت نے،خلشؔ!
خُونِ دِل تک سُکھائے رکّھا ہے

شفیق خلشؔ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/