عکسِ خیال

ایک زمانہ تھا کہ طلعت حسین کی آواز کا طوطی بولتا ت…


ایک زمانہ تھا کہ طلعت حسین کی آواز کا طوطی بولتا تھا۔ آج اُن کی پڑھی ھُوئی ن۔م۔راشد کی لازوال نظم ”حسن کُوزہ گر“ نظر سے گزری۔

آپ کی سماعتوں کی نذر ھے۔

حسن کوزہ گر (4).

جہاں زاد !! کیسے ھزاروں برس بعد
اک شہرِ مدفُون کی ھر گلی میں
مِرے جام و مینا و گل داں کے ریزے مِلے ھیں
کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ھوں

حَسن نام کا اِک جواں کُوزہ گر اک نئے شہر میں
اپنے کُوزے بناتا ھُوا ، عشق کرتا ھُوا
اپنے ماضی کے تاروں میں ھم سے پرویا گیا ھے
ھمیں میں کہ جیسے ھمیں ھوں ، سَمویا گیا ھے

کہ ھم تم ، وہ بارش کے قطرے تھے
جو رات بھر سے ، ھزاروں برس رینگتی رات بھر
اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ھُوئے
سانپ لہریں بناتے رھے ھیں

اور اب اِس جگہ ، وقت کی صُبح ھونے سے پہلے
یہ ھم ، اور یہ نوجواں کوزہ گر
ایک رویا میں ، پِھر سے پروئے گئے ھیں

جہاں زاد !!
یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ
کُوزوں کی لاشوں میں اُترا ھے ، دیکھو
یہ وہ لوگ ھیں جن کی آنکھیں
کبھی جام و مینا کی لِم تک نہ پہنچیں

یہی ، آج اِس رنگ و روغن کی
مخلوقِ بے جاں کو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ھیں
یہ اِن کے تلے ، غم کی چنگاریاں پا سکیں گے ؟؟
جو تاریخ کو کھا گئی تھیں
وہ طوفان وہ آندھیاں ، پا سکیں گے ؟؟
جو ھر چیخ کو کھا گئی تھیں

انہیں کیا خبر ، کس دھنک سے مِرے رنگ آئے
مِرے ، اور اس نوجواں کوزہ گر کے
انہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سے
انہیں کیا خبر کون سے حسن سے
کون سی ذات سے کس خد و خال سے
میں نے کوزوں کے چہرے اُتارے

یہ سب لوگ اپنے اَسیروں میں ھیں
زمانہ جہاں زاد !! افسُوں زدہ بُرج ھے
اور یہ لوگ اُس کے اَسیروں میں ھیں

جواں کُوزہ گر ھنس رھا ھے
یہ معصُوم وحشی ، کہ اپنے ھی قامت سے ژولیدہ دامن
ھیں جویا کسی عظمتِ نارسا کے
انہیں کیا خبر ، کیسا آسیب مُبرم مِرے غار ، سینے پہ تھا

جس نے مجھ سے اور اُس کوزہ گر سے کہا
اے حسن کُوزہ گر ، جاگ
دردِ رسالت کا روزِ بشارت تِرے جام و مینا
کی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ھے

یہی وہ نِدا ، کہ جس کے پیچھے حسن نام کا
یہ جواں کُوزہ گر بھی پیاپے رواں ھے
زماں سے زماں تک ، خزاں سے خزاں تک

جہاں زاد !!
میں نے ، حسن کُوزہ گر نے
بیاباں بیاباں یہ دردِ رِسالت ، سہا ھے
ھزاروں برس بعد یہ لوگ
ریزوں کو چنتے ھُوئے
جان سکتے ھیں ، کیسے ؟؟
کہ میرے گل و خاک کے رنگ و رَوغن
تِرے نازک اعضا کے رنگوں سے مِل کر
ابد کی صَدا بن گئے تھے

میں اپنے مَساموں سے ، ھر پَور سے
تیری بانہوں کی پہنائیاں ، جذب کرتا رھا تھا
کہ ھر آنے والے کی آنکھوں کے ، معبد پہ جا کر چڑھاؤں

یہ ریزوں کی تہذیب پا لیں ، تو پا لیں
حسن کُوزہ گر کو ، کہاں لا سکیں گے ؟؟
یہ اُس کے پسینے کے قطرے ، کہاں گِن سکیں گے ؟؟
یہ فن کی تجلی کا سایہ ، کہاں پا سکیں گے ؟؟
جو بڑھتا گیا ھے ، زماں سے زماں تک
خزاں سے خزاں تک

جو ھر نوجواں کُوزہ گر کی ، نئی ذات میں
اور بڑھتا چلا جا رھا ھے
وہ فن کی تجلی کا سایہ ، کہ جس کی بدولت
ھَمہ عشق ھیں ھم ، ھَمہ کوزہ گر ھم
ھمہ تن خبر ، ھم
خدا کی طرح ، اپنے فن کے خُدا ، سر بسر ھم

آرزوئیں کبھی پایاب ، تو سریاب کبھی
تیرنے لگتے ھیں
بے ھوشی کی آنکھوں میں کئی چہرے
جو دیکھے بھی نہ ھوں
کبھی دیکھے ھوں کسی نے
تو سراغ اُن کا کہاں سے پائے

کس سے ایفا ھُوئے اندوہ کے آداب کبھی
آرزوئیں کبھی پایاب ، تو سریاب کبھی
یہ کُوزوں کے لاشے جو اِن کے لیے ھیں
کسی داستانِ فنا کے ، وغیرہ وغیرہ

ھماری اَذاں ھیں ، ھماری طلب کا نشاں ھیں
یہ اپنے سکُوتِ اَجل میں بھی ، یہ کہہ رھے ھیں
وہ آنکھیں ھمیں ھمیںیں ، جو اندر کھلی ہیں
تمہیں دیکھتی ھیں ، ھر اک درد کو بھانپتی ھیں
ھر اِک حُسن کے راز کو جانتی ھیں

کہ ھم ، ایک سنسان حُجرے کی اُس رات کی آرزو ھیں
جہاں ایک چہرہ درختوں کی شاخوں کے مانند
اک اور چہرے پہ جُھک کر ھر انسان کے سینے میں
اِک برگِ گل رکھ گیا تھا.

اُسی شب کا ، دُزدیدہ بوسہ ھمیں ھیں.

”ن.م.راشد“

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/