منتخب غزلیں
لے کر تری تلاش کے ناسُور آ گئے کُچ…

لے کر تری تلاش کے ناسُور آ گئے
کُچھ بھیک مل گئی بڑے مسرُور آ گئے
کُچھ بھیک مل گئی بڑے مسرُور آ گئے
یا رب تیرے جمال کی سُن کر حکایتیں
کُچھ اور آدمی بھی سرِ طُور آ گئے
کھو کر گئے تھے آپکی محفل میں جو حُضُور
اُس آبرو کو ڈھونڈنے مجبور آ گئے
جب بھی خُدا شناس چڑھا کوئی دار پر
مقتل میں کتنے سرمد و منصُور آ گئے
اپنا خیال ہے نہ صنم کی طلب عدمؔ
محسوس ہو رہا ہے بہت دُور آ گئے
عبدالحمید عدمؔ
المرسل: فیصل خورشید




