منتخب غزلیں

پوچھتے ہو تو سنو کیسے بسر ہوتی ہے رات خیرات کی، صد…

پوچھتے ہو تو سنو کیسے بسر ہوتی ہے
رات خیرات کی، صدقے کی سحر ہوتی ہے

سانس بھرنے کو تو جینا نہیں کہتے یا رب!
دل ہی دُکھتا ہے نہ اب آستیں تر ہوتی ہے

جیسے جاگی ہوئی آنکھوں میں چبھیں کانچ کے خواب
رات اس طرح دوانوں کی بسر ہوتی ہے

غم ہی دشمن ہے مرا، غم ہی کو دل ڈھونڈتا ہے
ایک لمحے کی جدائی بھی اگر ہوتی ہے

ایک مرکز کی تلاش ایک بھٹکتی خوشبو
کبھی منزل کبھی تمہیدِ سفر ہوتی ہے

مینا کماری ناز


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/