منتخب غزلیں

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا مرزا غالب پھر مجھے دیدۂ …

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
مرزا غالب

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
عین جنت میں سقر یاد آیا


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/