معراجؔ فیض آبادی صاحب کا یومِ ولادت January 02, 19…

January 02, 1941
معراجؔ فیض آبادی، ۲ جنوری ١٩٤١ء* کو پیدا ہوئے، بزرگوں کے جس خاندان سے *معراجؔ فیض آبادی* کا تعلق تھا اس خاندان سے ہزاروں لوگ وابستہ ہیں اور پوری دنیا میں بزرگان دین کی عظمتوں کی روشنی کو پھیلاتے رہے۔معراج میں بھی وہی نیک نیتی سے زندگی گزارنے کا سلیقہ تھا اور شاید اسی وجہ سے ان کے متعلقین میں نہ صرف ان کے خاندان والے بلکہ پوری دنیا میں ان کے ہزاروں چاہنے والوں کو جب یہ خبر ملی کہ *٢/جنوری ١٩٤١ء* کو پیدا ہونے والے اس عظیم شاعرنے *٣٠/ نومبر ٢٠١٣ء* کو دنیا سے پردہ کر لیا
پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
—–
*زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا*
*پاؤں بخشیں ہیں تو توفیقِ سفر بھی دینا*
—–
جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن
بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے
—-
*مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ*
*میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے*
—–
اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے
—–
*زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا*
*جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے*
—–
*ہم کو اس دور ترقی نے دیا کیا معراجؔ*
*کل بھی برباد تھے اور آج بھی برباد ہیں ہم*
—–
گونگے لفظوں کا یہ بے سمت سفر میرا ہے
گفتگو اس کی ہے لہجے میں اثر میرا ہے
—–
*ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے*
*تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے*
—–
*گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا*
*اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا*
—–
*یہاں پہ معراجؔ تیرے لفظوں کی آبرو کیا*
*یہ لوگ بانگ درا کی قیمت لگا رہے ہیں*
….
*انتخاب : آئی ۔ اے انصاری*



