مختصر کہانیاں
#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس #قسط9 ارشمیل…

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط9
ارشمیل نے اسے اس کی اوقات دیکھانے کے لیے اسے بالکنی میں چھوڑ دیاتھا تاکہ اسےبھی تو پتاچلے ارشمیل یزدانی کیا ہے چیز ہےوہ انتقام لینے پر آگیاتودنیاکی کوئی بھی طاقت اب اسے نہیں روک سکتی ہے وہ بیڈ پرلیٹےلیٹے انتقامی منصوبے بنارہاتھا سوچ رہاتھا کے اب آگےایساکیاکرے جس سے وہ بے انتہاہرٹ جس سے اسے شدیدتکلیف ہو اس کے بارے میں سوچتے سوچتے اس نے ایک نظر شیشے کے اس پار کھڑی عمائمہ حیدر پر ڈالا وہ بارش میں پوری طرح بھیگ چکی تھی
اس کےپورے وجود میں کپکپی طاری ہوچکی تھی اسے ایسالگ رہاتھا کےابھی اس کے جسم کو گرماہٹ میسر نہیں ہوئی تو وہ مر جائے گی اسکی نفرت ارشمیل یزدانی کے لیے آخرحد کو چھورہی تھی جی تو چاہ رہاتھاوہ اسے قتل کردےاور اس کے جسم کے سارے ٹکڑے چیل کوّاں میں بانٹ دے مگر پھر اس کے دل نے کہاکےوہ ارشمیل یزدانی کواس ہی کے طریقے سے مات دے اسے پہلے وہ اپنی محبت کے جال میں پھنسائےگی پھراس کی پیٹ میں کھنجر کھوپے گی وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبے پر خود ہی مسکرانے لگی تھی مگر اس کی مسکراہٹ اپنے آپ ہی معدوم پڑ چکی تھی کیونکہ اسے اپناسارا جسم سن ہوتا محسوس ہورہاتھاوہ اپنے پیر اٹھانے کی کوشش کررہی تھی مگراس کے پیر برف کی طرح جم چکے تھے سرد پڑھ چکے تھے اس سے ایک انچ بھی ہلا نہیں گیا تھا اسے محسوس ہورہا تھا کے وہ ارشمیل یزدانی سے انتقام لے بغیر ہی مر جائے گی تبھی وہ دھڑام سے زمین پر گری تھی اسے زمین پر گرادیکھ کر بھی ارشمیل یزدانی کا سخت پتھر جیسا دل نہیں پگھلا تھا ارشمیل نے ایک نظراس کے بے ہوش وجود پر ڈالا اور خود کروٹ لے کر سوگیا پتانہیں کس احساس کے تحت کچھ دیر بعد اس کی آنکھیں کھول گئی تھی اس نے ایک نظرشیشے کےاس پار دیکھا تو اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا وہ خود کو ملامت کرتے ہوئے اٹھ گیا سلائیڈ کھول کر اس کے پاس گیاپھراسے اپنی باہوں میں بھرکے روم میں لایابارش کی بڑی بڑی بوندھےاس کے وجود کوبھی بھیگا چکی تھی مگراس نے اپنی پرواہ نہیں کیااسے تواس وقت اپنے دشمنِ جان کی فکر ستا رہی تھی جوا س وقت بے ہوشی کی نیند سورہی تھی جس کا پوار جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھاجس کے سارے کپڑے پانی سے بھیگے ہوئے تھے ارشمیل ہواس باختہ ہو چکا تھااس کے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ اب کیسے اسے ہوش میں لائے کیسے اپنی غلطی کو سدھارےاگر وہ صبح ہونے تک ہوش میں نہیں آئی تو وہ اپنے والدین کو کیا جواب دےگا ان سے کیا یہ کہے گا کے اس نے عمائمہ کو بارش میں بھیگنے کے لیے چھوڑ دیا تھا اس کے پاس صرف ایک آخری چارہ بچاتھااسے ہوش میں لانے کا بس ایک یہی حل تھااسے نظرآرہاتھا وقت کا تقاضایہی تھا کے وہ اس کی جان بچانے کے لیے اس کے قریب جائے اب وہ عمائمہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ سے گرماہٹ بخش رہاتھاپھراس نے اس کے پیرو ں کوبھی اپنے ہاتھ سے رگڑتے ہوئے گرماہٹ بخشنے کی کوشش کیا مگراس کی ساری کوشش رائیگا جارہی تھی ا س کی نظراے سی پر پڑی تو اسے اپنی کم عقلی پر حیرت ہوئی کے وہ کیسےاے سی بند کر نا بھول گیاتھا وہ اپنی جگہ سے اٹھااور ریموٹ سے اے سی بند کرکے اس کے پاس دوبارہ آگیا اس نے عمائمہ کے گیلے کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے کیونکہ اسے پتا تھاکہ وہ اگر اس کے کپڑے تبدیل کر ئےگا تو وہ ہوش میں آنے کے بعد بہت واویلا مچائے گی اس نے عمائمہ کے جسم سے لپٹا ہوابڑاسا دوپٹہ نکال کر سائیڈ پر رکھ دیااور
اس پر جھک کر اسے مصنوعی سانس فراہم کرنے لگاوہ جانتا تھا کے یہ غلط ہےوہ اس کی ایجازت کے بغیراس کے اتنے قریب گیاتھا مگروہ جو بھی کر رہاتھا اس کی بھلائی کے لیے کررہااس کی جان بچانے کے لیے کر رہااوراگر اس کے کسی غیر مناسب اقدام سے عمائمہ کی جان بچتی تھی تو یہ اقدام بھی اس کے لیے صحیح تھا مناسب تھا ناگریز نہیں تھایہ کیسی نفرت تھی اس کی وہ خود ہی اسے اپنے سے دور کرنا چاہ رہا تھا مگر جب وہ دور جارہی تھی تو اس کادل اسے دور بھی نہیں جانے دے رہاتھااگر یہ اس کی نفرت تھی تو اس کی محبت کیسی ہو گی قربت کا احساس اس کے وجود میں ہل چل مچارہا تھا اسے بے تاب کررہاتھاعمائمہ کے سرد وجود میں زندگی کااحساس ایک لمحہ میں جاگا تھا عمائمہ نے آنکھیں کھولی دیاتھا گرمی کااحساس اس کے سارے وجود میں دوڑا تھا وہ بدستور اس کے اوپر ہی جھکاہواتھاتبھی عمائمہ کے ذہن کے اسکرین پر سارا واقعہ گھوم گیا تھاکے اس نے کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک اسطوار کیا تھا تبھی عمائمہ نے اسے دھکادے کر خود سے دور کیا تھا اور پھنکارتے ہوئے بولی ۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے اتنے قریب آنے کی”۔اس کی دھاڑ سن کر ارشمیل چونکا نہیں تھا کیونکہ اسے عمائمہ سے ایسے ہی شدید ری۔ایکشن کی امید تھی تبھی وہ رسانت سے بولا۔
"تمہیں اس وقت مصنوعی سانس کی ضرورت تھی اگر میں تمہیں وقت پر مصنوعی سانس فراہم نہیں کرتا تو شاید تم اس دنیا سے کوچ کر چکی ہوتی "۔ ناچاہتے ہوئے بھی آخرمیں ارشمیل کا لہجہ سرد ہوچکا تھا ۔
"میں مرجاتی تو اچھا ہوتا کم از کم تم میرے سامنے تو نہیں رہتے ناآئندہ کے لیے تمہیں وارن کررہی ہو اگر میرے ساتھ دوبارہ ایسا حادثہ رونما ہوا تو تم مجھے مرنے دینا مجھے بچانے کی کوشش مت کرنا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل یزدانی کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھی جھٹکے سے اس کے قریب آیااور اس کا ہاتھ تھام کر سختی سے پکڑکراسے اپنے سامنے کھڑا کیااور دھاڑتے ہوئے بولا۔
"تم کیاسمجھ رہی ہو کے میں تمہارا حسین مکھڑا دیکھ کر پگھل چکا ہو یہ کچھ جوابھی میں نے کیا ہے وہ صرف تمہاری قربت کے لیے کیا ہےاگر تم یہ سب سوچ رہی ہو تو تم سوفی صد غلط سوچ رہی ہو ارشمیل یزدانی کے لیے لڑکیاں اپنے ہاتھوں میں دل لیے پھرتی ہے ارشمیل یزدانی نے تم سے بھی کہی زیادہ حسین چہرے دیکھے ہے تم اپنے اس معمولی سے حسن پراتراناچھوڑو اور جاکر اپنے
یہ بھیگے ہوئے کپڑے تبدیل کرو اگر کل تم نے کسی سے کچھ کہا یا پھر تم بیمار پڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”۔اس کےہاتھ کی گرفت او ربھی زیادہ سخت ہو چکی تھی عمائمہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اس کے آنکھوں میں رعایت کی کوئی امید دیکھائی نہیں دے رہی تھی تبھی بڑی مشکل سے عمائمہ نے اس کےہاتھ سےاپنا ہاتھ چھڑایا اور واپس اس کی بتا ئی جگہ پر جانے لگی تھی کےوہ اس کاراستہ روکے اس کے سامنے کھڑا ہوگیااور بولا۔
"کہاجارہی ہو "۔اس کی بات سن کرعمائمہ نفرت سے گویاہوئی ۔
"تم شاید بھول رہ ہو تم نے ہی کچھ دیر پہلے مجھ سے کہاتھاکے میں بالکنی میں اپنی راتیں گزاروگی "۔اس کی بات سن کر ارشمیل کے یاکوتی لبوں پر مسکراہٹ در آئی تھی وہ اس کاسرد ہاتھ نرمی سے تھامتے ہوئے بولا ۔
"تم میراکہناکب سے ماننے لگی اچھا سمجھ گیا تم بیوی ہونے کا فرض بنھارہی ہو اپنے شوہرکاکہنا مان کر "۔اتناکہے کروہ کچھ لمحہ کے لیے رکا تھا پھر دوبارہ بولا۔
"چلواب تم اتنی ہی شوہر پرست بن چکی ہو تو اپنا بیوی ہونے کا فرض بھی آدا کردو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ گھبرا گئی تھی تبھی تو غصے سے بولی تھی ۔
"کیا مطلب ہے تمہارا "۔ارشمیل کو اس کی یہی ایک آدا بہت بھاتی تھی وہ کبھی کبھی اس کی بات
سمجھ کر بھی انجان بننے کی کوشش کرتی تھی اور ابھی بھی وہ یہی کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔
"اب تورشتہ بھی بدل چکا ہے اور حالات بھی ایجازت دے رہے ہے پھر کیوں شرمانا کیوں گھبرانا تم اس جھجک کو چھوڑ دو اور میرے تقاضے کو پورا کرو”۔ارشمیل کی بات سن کراس کی آنکھوں میں نفرت در آئی تھی ارشمیل نےاس کی شعلہ ہوتی ہوئی آنکھوں میں جھانکاجو مقا بل کو جلا کر خاکستر کرنے کا ہنر رکھتی تھی تبھی وہ ود بارہ اسے جلانے کے لیے بولا۔
"مجھے لگتا ہے میری بیوی کو میراتقاضا خاص پسند نہیں آیا تھا”۔اس کی بات سن عمائمہ نفرت سے بولی ۔
"جس سے نفرت کی جاتی ارشمیل یزدانی اس کے قربت کے خواب نہیں دیکھا کرتے اور رہی بات شوہر پرست ہونے کی تو تم اپنی کھولی آنکھوں سےکوئی بھی خواب دیکھ سکتے ہو تمہارے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے "۔ اس کی بات سن کر ارشمیل یزدانی لا جواب ہو چکا تھا مگر ہار نہیں مانا تھا اس لیے تواسے دوبارہ زچ کرنے کے لیے بولا۔
"قربت کے خواب تو شریکِ حیات کے ساتھ مل کر ہی دیکھا کرتے ہے مگر تم ہوکے اپنے نئے نویلے دولہےسے شرمانے لگی ہو "۔اس بات سن کر وہ بہت بری طرح زچ ہوچکی تھی تبھی تو تڑخ کر بولی ۔
"قربت کے خواب تو اس شریکِ حیات کے ساتھ دیکھاکرتے ہے جو من چاہا ہو اس کے ساتھ نہیں جوزبردستی مسلط ہوا ہو اب ہٹو میرے سامنے سے میرا راستہ چھوڑو "۔ارشمیل کو بہت غصہ آیااس نے عمائمہ کو دیوار سے لگا دیااور اپنے ہاتھ سے اس کے گرد حصارہ باندھتے ہوئے بولا۔
"بہت بول رہی ہوتم آج کل لگتا ہے تمہارے پر کاٹنے کاوقت آچکا ہے "۔
"پر تو تم پہلے سے ہی کانٹ چکے ہو اب اور کیا کانٹوں گے جوپرندہ پہلے سے ہی بہت زیادہ زخمی ہے اسے اور زخم دینے کا سوچوں گے تو وہ دم تو ڑ دے گااور میں تو یہی چاہتی ہوتم مجھے اتنادرد دو کے میں جان سے ہی چلی جاؤ "۔اس کی یہ بات ارشمیل کے دل کو لگی تھی تبھی تواس نے اس کےجانے کا راستہ چھوڑ دیا تھامگر دوبارہ وہ عمائمہ کو بھر ی بارش میں نہیں جانے دینا چاہتا تھا اس لیے بولا۔
"دیکھوں رات بہت ہو چکی ہے اب مزید تماشہ مت کرو چپ چاپ یہاں سو جاؤ میں دوسرے روم میں چلاجاتا ہو "۔اتنا کہہ کر وہ روم سے نکل گیا تو عمائمہ نے سکھ کاسانس لیااور پھروہ اپنے گیلے کپڑے تبدیل کرکے بیڈ پر جالیٹی ۔
٭٭٭
رات میں کپڑے تبدیل کرنے کے باوجود اسے بخار آگیا تھا وہ بخار میں تپ رہی تھی وہ واپس
اپنے روم میں آیا تواسے سوتا دیکھ کر جل اٹھااسے کب عادت تھی اپنے روم کےاور اپنے آرام دہ بستر کے بنا سونے کی وہ تو بس پتا نہیں کل رات اس کی باتوں کا کیسے الٹا اثرمرتب ہوا تھا کے وہ اپناروم چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہوچکا تھارات بھر اسےاس کی فکر لاحق رہی تھی یہ اگر نفرت تھی تواس کے لیے دل کیوں اتنا پریشان تھا وہ یہ سوچ کر کیوں نہیں سو پارہا تھا کے اسے ٹھیک سے نیند آئی بھی ہوگی یا نہیں اس سے شدید نفرت تھی تواس کی فکر کیوں کھائے جارہی تھی اس سے نفرت تھی تو وہ اس کے آرام کے خیال سے روم سے کیو ں چلا گیا وہ اپنی دل کی بدلتی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھا وہ اپنے دل کی بدلتی کیفیت کو جھٹلانا چاہتا تھا تبھی تواس کے پاس آیا اور غصے سے اسے ہلا کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا مگر یہ کیااس کا سارا جسم آگ کی طرح جل رہا تھااس کے سرخ عارض بھی بخار کی تپش سے دہک رہے تھے یہ دیکھ کر وہ اپنے جگہ پریشان ہو اٹھا تھااس کے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ مام ڈیڈ کو اس کی بیماری کا کیا جواز دے گا تبھی اس کے دماغ میں ایک خیال آیااس خیال کے تحت ہی اس نے عمائمہ کو جھنجھوڑ ڈالا وہ اس وقت اتنی بے سود نیند سوئی تھی کے اس نے کئی بار ارشمیل کو دھکا دے دیا تھا اس کی اس حرکت نے ارشمیل کے غصے کو ساتوے آسمان پر لے گیا تبھی اس نے ٹھنڈا یخ پانی عمائمہ کے اوپر ڈال دیا جس سے وہ اپنی جگہ پر سے اچھل کر اٹھ بیٹھی تھی اب وہ کپکپاتے ہوئے وجود کے ساتھ ارشمیل یزدانی کو دیکھ رہی تھی تبھی ارشمیل نے اس سے کہا۔
"میں نے پہلے ہی کہا تھا کے تم بیمار مت پڑھنا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو ارشمیل کی دماغی حالت پر شک ہوا وہ اس سے کہا چاہتی تھی کے وہ اپنی مرضی سے بیمار نہیں ہوئی موس کی وجہ سے اوراس کے وجہ سے بیمار پڑی ہے مگراس وقت اس نے اس کے سامنے کچھ بھی بولنا مناسب نہیں سمجھاتھااس لیےاس کے بیڈ سے اٹھ کر شاور لینے چلی گئی ارشمیل اس کے اس اقدام کو دیکھ کر اور غصہ ہوگیا سوچنے لگا کے وہ یہ سب صرف اسے زچ کرنے کے لیے کررہی تاکہ اس کے شہلا یزدانی اور وقار یزدانی اس کی کلاس لے وہ غصے سے اس کے اس قدر پاس آیا کے عمائمہ کواس کی سانسیں خود کے وجود پر پڑھتی محسوس ہوئی تھی ارشمیل نے ایک نظراس کے دھلے دھولائے صاف و شفاف چہرے پرڈالتے ہوئے بولا ۔
"یہ مجھے زچ کرنے کے لیے اوربے عزت کرنے کے لیے کررہی ہو نا تم "۔اس کی بات سن کر عمائمہ حیرت سے بولی ۔
"میں نے کیا کیا ہے "۔اس کامعصوم بننا ارشمیل کو بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا تبھی تو وہ اس کے بازوں کو سختی سے دباتے ہوئے بولا۔
"تم نے فی لحال تو کچھ نہیں کیا ہے مگر گے جو تمہارے وجہ سے ڈرامہ ہوگا نا تو میں برداشت نہیں کرو گا سمجھی تم "۔اتنا کہے کروہ اسے وارن کرتے ہوئے چلا گیا اور وہ اسےجاتا دیکھ کر مسکراتے
رہ گئی یہ اسے چپ چاپ زچ کرنے کاایک نیا طریقہ جو اس نے اپنایا تھا اور وہ اس کے اس طریقے سے زچ بھی ہوا تھااور غصہ بھی ہواتھا۔
کچھ دیر بعد وہ سادہ سے حلیہ میں ڈائننگ ہال میں پہنچی تو سبھی اس کے اور ارشمیل کے آنے کاانتظار کررہ تھے ارشمیل تو نہیں آیا تھا البتہ وہ ضرور آگئی تھی اسے سب کے بیچ دیکھ کر عدینہ کے ساتھ ساتھ سب ہی گھر والے خوش ہوگے تھے ویسے جن حالا ت میں اس کی شادی ہوئی تھی یہ دیکھ کر کسی کو بھی اس کے اس طرح آنے کی امید نہیں تھی وہ سب کی نگاہ خود پر مرکوز پاکر تھوڑی سی کنفیوز ہوچکی تھی اس لیے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے سب کو سلم کیا ۔
"اسلام علیکم "۔اس کے سلام کا سبھی نے جواب دیا تھا مگر شہلا بیگم نے کچھ زیادہ ہی لمبا چوڑا جواب دیا تھا۔
"وعلیکم سلام جیتی رہوسداخوش رہو سدا سہاگن رہو اللہ تمہاری اور ارشمیل کی جوڑی سدا بنائے رکھے "۔ ان کی آخری کی دعا سن کر وہ براسامنہ بنا کررہ گئی تھی اور دل ہی دل میں خدا سے کہا تھا کے اللہ ارشمیل کو جلدی اس دنیا سے اٹھا لے کبھی اسے سہاگن نا رکھے وہ آگے بھی دعا کرنے والی تھی کے ارشمیل پیچھے سے اس کے پاس آیا اور اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا۔
"مجھے بعد میں بدعائیں دیتی رہناپہلے ناشتہ کر لو”۔اس کی بات سن کر وہ اپنی جگہ سٹپٹا گئی تھی اسے سٹپٹایا ہوا دیکھ کر عدینہ اور احد ایک دوسر ے کودیکھ کر مسکراتے ہوئے اشارےبازی کرنے لگے وہ سمجھے کے ارشمیل نے اس سے کوئی پیار بھر بات کئی ہے جس وہ اپنی جگہ شرما گئی ہے ارشمیل یزدانی وقار صاحب کے پاس کی چیئر کھنچتے ہوئے بیٹھ گیا مگر وہ ہنوز ایسے ہی کھڑے رہی اس کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کے وہ جوبھی من میں بولتی ہے یا سوچتی ہے وہ بات ارشمیل کو کیسے پتا چل جاتی تھی وہ اس ہی بات کو سوچتے ہوئے کھڑی تھی کے ارشمیل دھیمی آواز میں اس سے بولا۔
"اب بیٹھ بھی جاؤ میرے بارے میں اتناسوچوگی تو تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے جلتے ہوئے ایک نظراس کے طرف دیکھااور اس کے پاس کی چئیر کھنچ کر بیٹھ گئی ابھی ناشتہ جاری ہی تھا کے وقار صاحب بولے ۔
"دو دن بعد آپ دونوں کے ولیمے کی تقریب رکھی ہے تاکے ہماری پوری سوسائٹی کو پتا چل جائے کے ارشمیل یزدانی اب بیچلر نہیں رہا ہے "۔وقار صاحب کی بات سن کر وہ مسکرانے لگا تھا
تبھی احد بول پڑا ۔
"بھائی آپ نے سنگل رہ کر بہت مزے کرلیا ہے اب آپ کو پتا چلے گا کے بیوی کو سنبھالنا کتنا
مشکل ہوتا ہے "۔احد کی بات سن کر سب قہقہے لگانےلگےما سوائے ان دونوں کے وہ دونوں نے تو احد کی بات کوایسے اگنور کیا تھا جیسے اس کی بات سنئے ہی نا ہو عمائمہ تو اپنی جگہ خنّاس کھائے بیٹھی تھی کے یہ سب سب ڈرامہ کیوں کررہ ہے جب کے ان کی شادی صرف ایک انتقامی اقدام تھااور کچھ بھی نہیں عمائمہ سے بخار کی وجہ سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں جارہا تھا اس نے صرف جوس پیا تھااسے خالی ہاتھ لے بیٹھادیکھ کر شہلا بیگم ٹوک بیٹھے تھے ۔
"عمائمہ تم کچھ لے کیو ں نہیں رہی ہے اور ارشمیل تم بھی عمائمہ کی طرف دھیان نہیں دے رہ ہو”۔شہلا بیگم کی بات سن کر ارشمیل نے اس کے طرف دیکھا جواسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
"آپ کو کچھ چاہئےمائمہ "۔ اس کا لہجہ شہد گھولے ہوئے تھا وہ اس وقت کتنی شرافت کا مظاہرہ کررہا تھا جیسے کے وہ سچ میں اتنا ہی شریف ہو کتنا دوغلہ شخص تھاوہ سب کے سامنے کچھ اور اور پیچھے کچھ اور عمائمہ سوچنے لگی کے اور کتنے اس کے روپ ہےاور ان ان گنت روپ میں سے کونسا اس کا اصلی روپ ہے یہ یا وہ جو ہمیشہ اس کے ساتھ روا رکھتا ہے اسےسوچتا دیکھ کر ارشمیل نے دھیرے سے پھراس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"کہاتھا نا سب کے سامنے ڈارمہ مت کر نا "۔اس کی دھمکی سن کرعمائمہ جان گئی تھی کے یہی اس کااصلی چہرہ ہے یہی اس کا اصلی روپ ہے جووہ ابھی دیکھا رہا تھا پھر عمائمہ نے سب کادل رکھنے کے
لیے تھوڑا ساناشہ کر لیا تھا ۔
وہ ناشتے کےبعد عدینہ کے ساتھ اس کے روم میں بیٹھی تھی تبھی عدینہ اس کے سرخ چہرے کودیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
"آپی کیا ہوا ہے آپ کو آپ کا چہرہ سرخ کیوں پڑچکا ہے "۔عدینہ کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ سن ہوچکی تھی اسے نے ارشمیل کے ڈر سے عدینہ سے جھوٹ بول دیا تھا ۔
"پتا نہیں میں نے غور نہیں کیا "۔عدینہ اس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھی تھی اس کی نظر عمائمہ کے سرخ گلےپر پڑی جیسے دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی تھی اور تشوش میں گھیر کر پوچھنے لگی تھی ۔
"آپی آ پ کے گلے پریہ سر خ نشان کیسے ہے کیا آپ نے خود کو کچھ کرنے کی کوشش کیا تھا "۔عدینہ کی کھوجتی ہوئی نظریں خود کے وجود پر پاکر وہ سٹپٹا گئی تھی تبھی اسے یاد آیا تھا کے اس کے گلے پر سرخ نشان بھی ارشمیل کی مرہومنت سے تھے مگروہ عدینہ کو اس کا سچ تو نہیں بتا سکتی تھی اس لیے دوبارہ جھوٹ بولی ۔
"کچھ نہیں عدی یہ تو کل نیکلس زیادہ فٹ ہوچکا تھااس لیے یہ نشان پڑھ گئے "۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولی تو عدینہ دھیرے سے بولی ۔
"آپی آپ کیااس شادی سے خوش ہے کیا ارشمیل بھائی کاروایہ آپ کے ساتھ ٹھیک ہے کیونکہ کل جب مرتضی بھائی نکاح چھوڑ کر گئے تھے تب ڈیڈ نے ہی انھیں بڑی مشکل سے آپ سے شادی کرنے کے لیے منا یا تھا”۔عدینہ کی بات اسے حیران کر گئی تھی وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے ارشمیل نے اتنا بڑا کھیل کھیلا ہے وہ مہندی کی رات سچ کہے رہا تھا کے وہ سب کی نظروں میں ہیرو بن جائے گا اور مرتضی سب کی نظروں میں ولین بن جائے گا اس کے چالاکی سے کھیلے گے کھیل میں وہی تو جیتا تھا اس نے ایسا کرکے سب پر ظاہر کردیا تھا کے وہ صرف اپنے ڈیڈ کی عزت رکھنے کے لیے اس سے نکاح کررہا ہے باقی اسے عمائمہ جیسی عام سی لڑکی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔
"ہاں ۔۔۔عدی سب ٹھیک ہے "۔
"آپ پریشان نا ہو میں تو بس اپنے دل کی تسلی کے لیے یہ سب پوچھ رہی تھی اور ہاں آپی آپ بھی تو ان سے نکاح کے لیے تیار نہیں تھی پھر ارشمیل بھائی نے آپ کے روم میں آکر ایسا کیا کہا کے آپ انکا ہاتھ تھام کر واپس آئی تھی "۔اب کے عدینہ نے اس سےمذاق میں کہا تھا مگر اسے نہیں پتا تھا کے عمائمہ کواس کا یہ مذاق بالکل بھی پسند نہیں آئے گا ۔
"عدی تم کچھ زیادہ ہی بولنے نہیں لگی ہو کب سے بک بک کیے جارہی ہو یہ بھی نہیں دیکھ رہی ہو
کے سامنےوالے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے "۔اس کی بات سن کر عدینہ خاموش ہوگئی وہ جلدی سے عمائمہ کے طرف بڑی اور اس کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔
"میں تو پہلے سے ہی جانتی تھی کے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے مگر آپ ہے کے بتانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے اب اٹھے یہاں سےمیں آپ کو اپنے روم میں لے جاتی ہو ڈاکٹر کو کال کر کے بلاتی ہو”۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ نا نا ہی کرتے رہ گئی تھی مگر عدینہ نے اس کی ایک نا مانی تھی اس نے عمائمہ کو روم میںچھوڑ دیااور سب کو اس کے بخار کے بارے میں بتا کر ڈاکٹر کو کال کر دیا وقار صاحب اور شہلا بیگم ارشمیل کواس کی لا پروائی پر ڈانٹنے لگے تھے اور وہ سب کی ڈانٹ سن کر عمائمہ پر پیچ وتاب کھاتا رہ گیا تھا وہ جب روم میں آیا تو عمائمہ اپنی آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی تھی کے وہ اس کے پاس گیااور اسے اس کے بازوں سے پکڑتے ہوئے دوسرے روم میں لے آیااور بولا۔
"آج رات کل کی طرح مزید کوئی ڈرامہ نا ہو اس لیے تم اس روم میں رہوگی "۔اتنا کہے کروہ چلا گیااور وہ ششدررہ گئی ۔
جاری ہے
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط9
ارشمیل نے اسے اس کی اوقات دیکھانے کے لیے اسے بالکنی میں چھوڑ دیاتھا تاکہ اسےبھی تو پتاچلے ارشمیل یزدانی کیا ہے چیز ہےوہ انتقام لینے پر آگیاتودنیاکی کوئی بھی طاقت اب اسے نہیں روک سکتی ہے وہ بیڈ پرلیٹےلیٹے انتقامی منصوبے بنارہاتھا سوچ رہاتھا کے اب آگےایساکیاکرے جس سے وہ بے انتہاہرٹ جس سے اسے شدیدتکلیف ہو اس کے بارے میں سوچتے سوچتے اس نے ایک نظر شیشے کے اس پار کھڑی عمائمہ حیدر پر ڈالا وہ بارش میں پوری طرح بھیگ چکی تھی
اس کےپورے وجود میں کپکپی طاری ہوچکی تھی اسے ایسالگ رہاتھا کےابھی اس کے جسم کو گرماہٹ میسر نہیں ہوئی تو وہ مر جائے گی اسکی نفرت ارشمیل یزدانی کے لیے آخرحد کو چھورہی تھی جی تو چاہ رہاتھاوہ اسے قتل کردےاور اس کے جسم کے سارے ٹکڑے چیل کوّاں میں بانٹ دے مگر پھر اس کے دل نے کہاکےوہ ارشمیل یزدانی کواس ہی کے طریقے سے مات دے اسے پہلے وہ اپنی محبت کے جال میں پھنسائےگی پھراس کی پیٹ میں کھنجر کھوپے گی وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبے پر خود ہی مسکرانے لگی تھی مگر اس کی مسکراہٹ اپنے آپ ہی معدوم پڑ چکی تھی کیونکہ اسے اپناسارا جسم سن ہوتا محسوس ہورہاتھاوہ اپنے پیر اٹھانے کی کوشش کررہی تھی مگراس کے پیر برف کی طرح جم چکے تھے سرد پڑھ چکے تھے اس سے ایک انچ بھی ہلا نہیں گیا تھا اسے محسوس ہورہا تھا کے وہ ارشمیل یزدانی سے انتقام لے بغیر ہی مر جائے گی تبھی وہ دھڑام سے زمین پر گری تھی اسے زمین پر گرادیکھ کر بھی ارشمیل یزدانی کا سخت پتھر جیسا دل نہیں پگھلا تھا ارشمیل نے ایک نظراس کے بے ہوش وجود پر ڈالا اور خود کروٹ لے کر سوگیا پتانہیں کس احساس کے تحت کچھ دیر بعد اس کی آنکھیں کھول گئی تھی اس نے ایک نظرشیشے کےاس پار دیکھا تو اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا وہ خود کو ملامت کرتے ہوئے اٹھ گیا سلائیڈ کھول کر اس کے پاس گیاپھراسے اپنی باہوں میں بھرکے روم میں لایابارش کی بڑی بڑی بوندھےاس کے وجود کوبھی بھیگا چکی تھی مگراس نے اپنی پرواہ نہیں کیااسے تواس وقت اپنے دشمنِ جان کی فکر ستا رہی تھی جوا س وقت بے ہوشی کی نیند سورہی تھی جس کا پوار جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھاجس کے سارے کپڑے پانی سے بھیگے ہوئے تھے ارشمیل ہواس باختہ ہو چکا تھااس کے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ اب کیسے اسے ہوش میں لائے کیسے اپنی غلطی کو سدھارےاگر وہ صبح ہونے تک ہوش میں نہیں آئی تو وہ اپنے والدین کو کیا جواب دےگا ان سے کیا یہ کہے گا کے اس نے عمائمہ کو بارش میں بھیگنے کے لیے چھوڑ دیا تھا اس کے پاس صرف ایک آخری چارہ بچاتھااسے ہوش میں لانے کا بس ایک یہی حل تھااسے نظرآرہاتھا وقت کا تقاضایہی تھا کے وہ اس کی جان بچانے کے لیے اس کے قریب جائے اب وہ عمائمہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ سے گرماہٹ بخش رہاتھاپھراس نے اس کے پیرو ں کوبھی اپنے ہاتھ سے رگڑتے ہوئے گرماہٹ بخشنے کی کوشش کیا مگراس کی ساری کوشش رائیگا جارہی تھی ا س کی نظراے سی پر پڑی تو اسے اپنی کم عقلی پر حیرت ہوئی کے وہ کیسےاے سی بند کر نا بھول گیاتھا وہ اپنی جگہ سے اٹھااور ریموٹ سے اے سی بند کرکے اس کے پاس دوبارہ آگیا اس نے عمائمہ کے گیلے کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے کیونکہ اسے پتا تھاکہ وہ اگر اس کے کپڑے تبدیل کر ئےگا تو وہ ہوش میں آنے کے بعد بہت واویلا مچائے گی اس نے عمائمہ کے جسم سے لپٹا ہوابڑاسا دوپٹہ نکال کر سائیڈ پر رکھ دیااور
اس پر جھک کر اسے مصنوعی سانس فراہم کرنے لگاوہ جانتا تھا کے یہ غلط ہےوہ اس کی ایجازت کے بغیراس کے اتنے قریب گیاتھا مگروہ جو بھی کر رہاتھا اس کی بھلائی کے لیے کررہااس کی جان بچانے کے لیے کر رہااوراگر اس کے کسی غیر مناسب اقدام سے عمائمہ کی جان بچتی تھی تو یہ اقدام بھی اس کے لیے صحیح تھا مناسب تھا ناگریز نہیں تھایہ کیسی نفرت تھی اس کی وہ خود ہی اسے اپنے سے دور کرنا چاہ رہا تھا مگر جب وہ دور جارہی تھی تو اس کادل اسے دور بھی نہیں جانے دے رہاتھااگر یہ اس کی نفرت تھی تو اس کی محبت کیسی ہو گی قربت کا احساس اس کے وجود میں ہل چل مچارہا تھا اسے بے تاب کررہاتھاعمائمہ کے سرد وجود میں زندگی کااحساس ایک لمحہ میں جاگا تھا عمائمہ نے آنکھیں کھولی دیاتھا گرمی کااحساس اس کے سارے وجود میں دوڑا تھا وہ بدستور اس کے اوپر ہی جھکاہواتھاتبھی عمائمہ کے ذہن کے اسکرین پر سارا واقعہ گھوم گیا تھاکے اس نے کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک اسطوار کیا تھا تبھی عمائمہ نے اسے دھکادے کر خود سے دور کیا تھا اور پھنکارتے ہوئے بولی ۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے اتنے قریب آنے کی”۔اس کی دھاڑ سن کر ارشمیل چونکا نہیں تھا کیونکہ اسے عمائمہ سے ایسے ہی شدید ری۔ایکشن کی امید تھی تبھی وہ رسانت سے بولا۔
"تمہیں اس وقت مصنوعی سانس کی ضرورت تھی اگر میں تمہیں وقت پر مصنوعی سانس فراہم نہیں کرتا تو شاید تم اس دنیا سے کوچ کر چکی ہوتی "۔ ناچاہتے ہوئے بھی آخرمیں ارشمیل کا لہجہ سرد ہوچکا تھا ۔
"میں مرجاتی تو اچھا ہوتا کم از کم تم میرے سامنے تو نہیں رہتے ناآئندہ کے لیے تمہیں وارن کررہی ہو اگر میرے ساتھ دوبارہ ایسا حادثہ رونما ہوا تو تم مجھے مرنے دینا مجھے بچانے کی کوشش مت کرنا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل یزدانی کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھی جھٹکے سے اس کے قریب آیااور اس کا ہاتھ تھام کر سختی سے پکڑکراسے اپنے سامنے کھڑا کیااور دھاڑتے ہوئے بولا۔
"تم کیاسمجھ رہی ہو کے میں تمہارا حسین مکھڑا دیکھ کر پگھل چکا ہو یہ کچھ جوابھی میں نے کیا ہے وہ صرف تمہاری قربت کے لیے کیا ہےاگر تم یہ سب سوچ رہی ہو تو تم سوفی صد غلط سوچ رہی ہو ارشمیل یزدانی کے لیے لڑکیاں اپنے ہاتھوں میں دل لیے پھرتی ہے ارشمیل یزدانی نے تم سے بھی کہی زیادہ حسین چہرے دیکھے ہے تم اپنے اس معمولی سے حسن پراتراناچھوڑو اور جاکر اپنے
یہ بھیگے ہوئے کپڑے تبدیل کرو اگر کل تم نے کسی سے کچھ کہا یا پھر تم بیمار پڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”۔اس کےہاتھ کی گرفت او ربھی زیادہ سخت ہو چکی تھی عمائمہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اس کے آنکھوں میں رعایت کی کوئی امید دیکھائی نہیں دے رہی تھی تبھی بڑی مشکل سے عمائمہ نے اس کےہاتھ سےاپنا ہاتھ چھڑایا اور واپس اس کی بتا ئی جگہ پر جانے لگی تھی کےوہ اس کاراستہ روکے اس کے سامنے کھڑا ہوگیااور بولا۔
"کہاجارہی ہو "۔اس کی بات سن کرعمائمہ نفرت سے گویاہوئی ۔
"تم شاید بھول رہ ہو تم نے ہی کچھ دیر پہلے مجھ سے کہاتھاکے میں بالکنی میں اپنی راتیں گزاروگی "۔اس کی بات سن کر ارشمیل کے یاکوتی لبوں پر مسکراہٹ در آئی تھی وہ اس کاسرد ہاتھ نرمی سے تھامتے ہوئے بولا ۔
"تم میراکہناکب سے ماننے لگی اچھا سمجھ گیا تم بیوی ہونے کا فرض بنھارہی ہو اپنے شوہرکاکہنا مان کر "۔اتناکہے کروہ کچھ لمحہ کے لیے رکا تھا پھر دوبارہ بولا۔
"چلواب تم اتنی ہی شوہر پرست بن چکی ہو تو اپنا بیوی ہونے کا فرض بھی آدا کردو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ گھبرا گئی تھی تبھی تو غصے سے بولی تھی ۔
"کیا مطلب ہے تمہارا "۔ارشمیل کو اس کی یہی ایک آدا بہت بھاتی تھی وہ کبھی کبھی اس کی بات
سمجھ کر بھی انجان بننے کی کوشش کرتی تھی اور ابھی بھی وہ یہی کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔
"اب تورشتہ بھی بدل چکا ہے اور حالات بھی ایجازت دے رہے ہے پھر کیوں شرمانا کیوں گھبرانا تم اس جھجک کو چھوڑ دو اور میرے تقاضے کو پورا کرو”۔ارشمیل کی بات سن کراس کی آنکھوں میں نفرت در آئی تھی ارشمیل نےاس کی شعلہ ہوتی ہوئی آنکھوں میں جھانکاجو مقا بل کو جلا کر خاکستر کرنے کا ہنر رکھتی تھی تبھی وہ ود بارہ اسے جلانے کے لیے بولا۔
"مجھے لگتا ہے میری بیوی کو میراتقاضا خاص پسند نہیں آیا تھا”۔اس کی بات سن عمائمہ نفرت سے بولی ۔
"جس سے نفرت کی جاتی ارشمیل یزدانی اس کے قربت کے خواب نہیں دیکھا کرتے اور رہی بات شوہر پرست ہونے کی تو تم اپنی کھولی آنکھوں سےکوئی بھی خواب دیکھ سکتے ہو تمہارے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے "۔ اس کی بات سن کر ارشمیل یزدانی لا جواب ہو چکا تھا مگر ہار نہیں مانا تھا اس لیے تواسے دوبارہ زچ کرنے کے لیے بولا۔
"قربت کے خواب تو شریکِ حیات کے ساتھ مل کر ہی دیکھا کرتے ہے مگر تم ہوکے اپنے نئے نویلے دولہےسے شرمانے لگی ہو "۔اس بات سن کر وہ بہت بری طرح زچ ہوچکی تھی تبھی تو تڑخ کر بولی ۔
"قربت کے خواب تو اس شریکِ حیات کے ساتھ دیکھاکرتے ہے جو من چاہا ہو اس کے ساتھ نہیں جوزبردستی مسلط ہوا ہو اب ہٹو میرے سامنے سے میرا راستہ چھوڑو "۔ارشمیل کو بہت غصہ آیااس نے عمائمہ کو دیوار سے لگا دیااور اپنے ہاتھ سے اس کے گرد حصارہ باندھتے ہوئے بولا۔
"بہت بول رہی ہوتم آج کل لگتا ہے تمہارے پر کاٹنے کاوقت آچکا ہے "۔
"پر تو تم پہلے سے ہی کانٹ چکے ہو اب اور کیا کانٹوں گے جوپرندہ پہلے سے ہی بہت زیادہ زخمی ہے اسے اور زخم دینے کا سوچوں گے تو وہ دم تو ڑ دے گااور میں تو یہی چاہتی ہوتم مجھے اتنادرد دو کے میں جان سے ہی چلی جاؤ "۔اس کی یہ بات ارشمیل کے دل کو لگی تھی تبھی تواس نے اس کےجانے کا راستہ چھوڑ دیا تھامگر دوبارہ وہ عمائمہ کو بھر ی بارش میں نہیں جانے دینا چاہتا تھا اس لیے بولا۔
"دیکھوں رات بہت ہو چکی ہے اب مزید تماشہ مت کرو چپ چاپ یہاں سو جاؤ میں دوسرے روم میں چلاجاتا ہو "۔اتنا کہہ کر وہ روم سے نکل گیا تو عمائمہ نے سکھ کاسانس لیااور پھروہ اپنے گیلے کپڑے تبدیل کرکے بیڈ پر جالیٹی ۔
٭٭٭
رات میں کپڑے تبدیل کرنے کے باوجود اسے بخار آگیا تھا وہ بخار میں تپ رہی تھی وہ واپس
اپنے روم میں آیا تواسے سوتا دیکھ کر جل اٹھااسے کب عادت تھی اپنے روم کےاور اپنے آرام دہ بستر کے بنا سونے کی وہ تو بس پتا نہیں کل رات اس کی باتوں کا کیسے الٹا اثرمرتب ہوا تھا کے وہ اپناروم چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہوچکا تھارات بھر اسےاس کی فکر لاحق رہی تھی یہ اگر نفرت تھی تواس کے لیے دل کیوں اتنا پریشان تھا وہ یہ سوچ کر کیوں نہیں سو پارہا تھا کے اسے ٹھیک سے نیند آئی بھی ہوگی یا نہیں اس سے شدید نفرت تھی تواس کی فکر کیوں کھائے جارہی تھی اس سے نفرت تھی تو وہ اس کے آرام کے خیال سے روم سے کیو ں چلا گیا وہ اپنی دل کی بدلتی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھا وہ اپنے دل کی بدلتی کیفیت کو جھٹلانا چاہتا تھا تبھی تواس کے پاس آیا اور غصے سے اسے ہلا کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا مگر یہ کیااس کا سارا جسم آگ کی طرح جل رہا تھااس کے سرخ عارض بھی بخار کی تپش سے دہک رہے تھے یہ دیکھ کر وہ اپنے جگہ پریشان ہو اٹھا تھااس کے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ مام ڈیڈ کو اس کی بیماری کا کیا جواز دے گا تبھی اس کے دماغ میں ایک خیال آیااس خیال کے تحت ہی اس نے عمائمہ کو جھنجھوڑ ڈالا وہ اس وقت اتنی بے سود نیند سوئی تھی کے اس نے کئی بار ارشمیل کو دھکا دے دیا تھا اس کی اس حرکت نے ارشمیل کے غصے کو ساتوے آسمان پر لے گیا تبھی اس نے ٹھنڈا یخ پانی عمائمہ کے اوپر ڈال دیا جس سے وہ اپنی جگہ پر سے اچھل کر اٹھ بیٹھی تھی اب وہ کپکپاتے ہوئے وجود کے ساتھ ارشمیل یزدانی کو دیکھ رہی تھی تبھی ارشمیل نے اس سے کہا۔
"میں نے پہلے ہی کہا تھا کے تم بیمار مت پڑھنا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو ارشمیل کی دماغی حالت پر شک ہوا وہ اس سے کہا چاہتی تھی کے وہ اپنی مرضی سے بیمار نہیں ہوئی موس کی وجہ سے اوراس کے وجہ سے بیمار پڑی ہے مگراس وقت اس نے اس کے سامنے کچھ بھی بولنا مناسب نہیں سمجھاتھااس لیےاس کے بیڈ سے اٹھ کر شاور لینے چلی گئی ارشمیل اس کے اس اقدام کو دیکھ کر اور غصہ ہوگیا سوچنے لگا کے وہ یہ سب صرف اسے زچ کرنے کے لیے کررہی تاکہ اس کے شہلا یزدانی اور وقار یزدانی اس کی کلاس لے وہ غصے سے اس کے اس قدر پاس آیا کے عمائمہ کواس کی سانسیں خود کے وجود پر پڑھتی محسوس ہوئی تھی ارشمیل نے ایک نظراس کے دھلے دھولائے صاف و شفاف چہرے پرڈالتے ہوئے بولا ۔
"یہ مجھے زچ کرنے کے لیے اوربے عزت کرنے کے لیے کررہی ہو نا تم "۔اس کی بات سن کر عمائمہ حیرت سے بولی ۔
"میں نے کیا کیا ہے "۔اس کامعصوم بننا ارشمیل کو بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا تبھی تو وہ اس کے بازوں کو سختی سے دباتے ہوئے بولا۔
"تم نے فی لحال تو کچھ نہیں کیا ہے مگر گے جو تمہارے وجہ سے ڈرامہ ہوگا نا تو میں برداشت نہیں کرو گا سمجھی تم "۔اتنا کہے کروہ اسے وارن کرتے ہوئے چلا گیا اور وہ اسےجاتا دیکھ کر مسکراتے
رہ گئی یہ اسے چپ چاپ زچ کرنے کاایک نیا طریقہ جو اس نے اپنایا تھا اور وہ اس کے اس طریقے سے زچ بھی ہوا تھااور غصہ بھی ہواتھا۔
کچھ دیر بعد وہ سادہ سے حلیہ میں ڈائننگ ہال میں پہنچی تو سبھی اس کے اور ارشمیل کے آنے کاانتظار کررہ تھے ارشمیل تو نہیں آیا تھا البتہ وہ ضرور آگئی تھی اسے سب کے بیچ دیکھ کر عدینہ کے ساتھ ساتھ سب ہی گھر والے خوش ہوگے تھے ویسے جن حالا ت میں اس کی شادی ہوئی تھی یہ دیکھ کر کسی کو بھی اس کے اس طرح آنے کی امید نہیں تھی وہ سب کی نگاہ خود پر مرکوز پاکر تھوڑی سی کنفیوز ہوچکی تھی اس لیے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے سب کو سلم کیا ۔
"اسلام علیکم "۔اس کے سلام کا سبھی نے جواب دیا تھا مگر شہلا بیگم نے کچھ زیادہ ہی لمبا چوڑا جواب دیا تھا۔
"وعلیکم سلام جیتی رہوسداخوش رہو سدا سہاگن رہو اللہ تمہاری اور ارشمیل کی جوڑی سدا بنائے رکھے "۔ ان کی آخری کی دعا سن کر وہ براسامنہ بنا کررہ گئی تھی اور دل ہی دل میں خدا سے کہا تھا کے اللہ ارشمیل کو جلدی اس دنیا سے اٹھا لے کبھی اسے سہاگن نا رکھے وہ آگے بھی دعا کرنے والی تھی کے ارشمیل پیچھے سے اس کے پاس آیا اور اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا۔
"مجھے بعد میں بدعائیں دیتی رہناپہلے ناشتہ کر لو”۔اس کی بات سن کر وہ اپنی جگہ سٹپٹا گئی تھی اسے سٹپٹایا ہوا دیکھ کر عدینہ اور احد ایک دوسر ے کودیکھ کر مسکراتے ہوئے اشارےبازی کرنے لگے وہ سمجھے کے ارشمیل نے اس سے کوئی پیار بھر بات کئی ہے جس وہ اپنی جگہ شرما گئی ہے ارشمیل یزدانی وقار صاحب کے پاس کی چیئر کھنچتے ہوئے بیٹھ گیا مگر وہ ہنوز ایسے ہی کھڑے رہی اس کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کے وہ جوبھی من میں بولتی ہے یا سوچتی ہے وہ بات ارشمیل کو کیسے پتا چل جاتی تھی وہ اس ہی بات کو سوچتے ہوئے کھڑی تھی کے ارشمیل دھیمی آواز میں اس سے بولا۔
"اب بیٹھ بھی جاؤ میرے بارے میں اتناسوچوگی تو تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے جلتے ہوئے ایک نظراس کے طرف دیکھااور اس کے پاس کی چئیر کھنچ کر بیٹھ گئی ابھی ناشتہ جاری ہی تھا کے وقار صاحب بولے ۔
"دو دن بعد آپ دونوں کے ولیمے کی تقریب رکھی ہے تاکے ہماری پوری سوسائٹی کو پتا چل جائے کے ارشمیل یزدانی اب بیچلر نہیں رہا ہے "۔وقار صاحب کی بات سن کر وہ مسکرانے لگا تھا
تبھی احد بول پڑا ۔
"بھائی آپ نے سنگل رہ کر بہت مزے کرلیا ہے اب آپ کو پتا چلے گا کے بیوی کو سنبھالنا کتنا
مشکل ہوتا ہے "۔احد کی بات سن کر سب قہقہے لگانےلگےما سوائے ان دونوں کے وہ دونوں نے تو احد کی بات کوایسے اگنور کیا تھا جیسے اس کی بات سنئے ہی نا ہو عمائمہ تو اپنی جگہ خنّاس کھائے بیٹھی تھی کے یہ سب سب ڈرامہ کیوں کررہ ہے جب کے ان کی شادی صرف ایک انتقامی اقدام تھااور کچھ بھی نہیں عمائمہ سے بخار کی وجہ سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں جارہا تھا اس نے صرف جوس پیا تھااسے خالی ہاتھ لے بیٹھادیکھ کر شہلا بیگم ٹوک بیٹھے تھے ۔
"عمائمہ تم کچھ لے کیو ں نہیں رہی ہے اور ارشمیل تم بھی عمائمہ کی طرف دھیان نہیں دے رہ ہو”۔شہلا بیگم کی بات سن کر ارشمیل نے اس کے طرف دیکھا جواسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
"آپ کو کچھ چاہئےمائمہ "۔ اس کا لہجہ شہد گھولے ہوئے تھا وہ اس وقت کتنی شرافت کا مظاہرہ کررہا تھا جیسے کے وہ سچ میں اتنا ہی شریف ہو کتنا دوغلہ شخص تھاوہ سب کے سامنے کچھ اور اور پیچھے کچھ اور عمائمہ سوچنے لگی کے اور کتنے اس کے روپ ہےاور ان ان گنت روپ میں سے کونسا اس کا اصلی روپ ہے یہ یا وہ جو ہمیشہ اس کے ساتھ روا رکھتا ہے اسےسوچتا دیکھ کر ارشمیل نے دھیرے سے پھراس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"کہاتھا نا سب کے سامنے ڈارمہ مت کر نا "۔اس کی دھمکی سن کرعمائمہ جان گئی تھی کے یہی اس کااصلی چہرہ ہے یہی اس کا اصلی روپ ہے جووہ ابھی دیکھا رہا تھا پھر عمائمہ نے سب کادل رکھنے کے
لیے تھوڑا ساناشہ کر لیا تھا ۔
وہ ناشتے کےبعد عدینہ کے ساتھ اس کے روم میں بیٹھی تھی تبھی عدینہ اس کے سرخ چہرے کودیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
"آپی کیا ہوا ہے آپ کو آپ کا چہرہ سرخ کیوں پڑچکا ہے "۔عدینہ کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ سن ہوچکی تھی اسے نے ارشمیل کے ڈر سے عدینہ سے جھوٹ بول دیا تھا ۔
"پتا نہیں میں نے غور نہیں کیا "۔عدینہ اس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھی تھی اس کی نظر عمائمہ کے سرخ گلےپر پڑی جیسے دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی تھی اور تشوش میں گھیر کر پوچھنے لگی تھی ۔
"آپی آ پ کے گلے پریہ سر خ نشان کیسے ہے کیا آپ نے خود کو کچھ کرنے کی کوشش کیا تھا "۔عدینہ کی کھوجتی ہوئی نظریں خود کے وجود پر پاکر وہ سٹپٹا گئی تھی تبھی اسے یاد آیا تھا کے اس کے گلے پر سرخ نشان بھی ارشمیل کی مرہومنت سے تھے مگروہ عدینہ کو اس کا سچ تو نہیں بتا سکتی تھی اس لیے دوبارہ جھوٹ بولی ۔
"کچھ نہیں عدی یہ تو کل نیکلس زیادہ فٹ ہوچکا تھااس لیے یہ نشان پڑھ گئے "۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولی تو عدینہ دھیرے سے بولی ۔
"آپی آپ کیااس شادی سے خوش ہے کیا ارشمیل بھائی کاروایہ آپ کے ساتھ ٹھیک ہے کیونکہ کل جب مرتضی بھائی نکاح چھوڑ کر گئے تھے تب ڈیڈ نے ہی انھیں بڑی مشکل سے آپ سے شادی کرنے کے لیے منا یا تھا”۔عدینہ کی بات اسے حیران کر گئی تھی وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے ارشمیل نے اتنا بڑا کھیل کھیلا ہے وہ مہندی کی رات سچ کہے رہا تھا کے وہ سب کی نظروں میں ہیرو بن جائے گا اور مرتضی سب کی نظروں میں ولین بن جائے گا اس کے چالاکی سے کھیلے گے کھیل میں وہی تو جیتا تھا اس نے ایسا کرکے سب پر ظاہر کردیا تھا کے وہ صرف اپنے ڈیڈ کی عزت رکھنے کے لیے اس سے نکاح کررہا ہے باقی اسے عمائمہ جیسی عام سی لڑکی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔
"ہاں ۔۔۔عدی سب ٹھیک ہے "۔
"آپ پریشان نا ہو میں تو بس اپنے دل کی تسلی کے لیے یہ سب پوچھ رہی تھی اور ہاں آپی آپ بھی تو ان سے نکاح کے لیے تیار نہیں تھی پھر ارشمیل بھائی نے آپ کے روم میں آکر ایسا کیا کہا کے آپ انکا ہاتھ تھام کر واپس آئی تھی "۔اب کے عدینہ نے اس سےمذاق میں کہا تھا مگر اسے نہیں پتا تھا کے عمائمہ کواس کا یہ مذاق بالکل بھی پسند نہیں آئے گا ۔
"عدی تم کچھ زیادہ ہی بولنے نہیں لگی ہو کب سے بک بک کیے جارہی ہو یہ بھی نہیں دیکھ رہی ہو
کے سامنےوالے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے "۔اس کی بات سن کر عدینہ خاموش ہوگئی وہ جلدی سے عمائمہ کے طرف بڑی اور اس کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔
"میں تو پہلے سے ہی جانتی تھی کے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے مگر آپ ہے کے بتانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے اب اٹھے یہاں سےمیں آپ کو اپنے روم میں لے جاتی ہو ڈاکٹر کو کال کر کے بلاتی ہو”۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ نا نا ہی کرتے رہ گئی تھی مگر عدینہ نے اس کی ایک نا مانی تھی اس نے عمائمہ کو روم میںچھوڑ دیااور سب کو اس کے بخار کے بارے میں بتا کر ڈاکٹر کو کال کر دیا وقار صاحب اور شہلا بیگم ارشمیل کواس کی لا پروائی پر ڈانٹنے لگے تھے اور وہ سب کی ڈانٹ سن کر عمائمہ پر پیچ وتاب کھاتا رہ گیا تھا وہ جب روم میں آیا تو عمائمہ اپنی آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی تھی کے وہ اس کے پاس گیااور اسے اس کے بازوں سے پکڑتے ہوئے دوسرے روم میں لے آیااور بولا۔
"آج رات کل کی طرح مزید کوئی ڈرامہ نا ہو اس لیے تم اس روم میں رہوگی "۔اتنا کہے کروہ چلا گیااور وہ ششدررہ گئی ۔
جاری ہے


