منتخب غزلیں
بالِ جبریل (غزل ) کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غما…

بالِ جبریل (غزل )
کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی
گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی !
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی !
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی !
معنی :
حنا بندی : لفظی معنی مہندی لگانا، محاورے میں بناو سنگھار۔۔۔ کاشی : منسوب بہ کاشان جو ایران کا مشہور مقام ہے ۔۔۔
نثر :
1۔
فرشتوں نے بارگاہ ایزدی میں میری یہ شکایت کی ہے کہ یہ شخص بڑا بے ادب اور گستاخ ہے ، ہر وقت فطرت کے بناو سنگھار اور تزئین و آرائش میں لگا رہتا ہے ، یعنی وہ اپنی شخصیت کے مختلف پہلووں کو بڑے دلکش اور پرکشش انداز میں پیش کرتا رہتا ہے
2۔
اگرچہ یہ شخص مٹی سے تخلیق کیا گیا اور زمین کا باشندہ ہے ، مگر اس کے انداز اور طور طریقے آسمانی مخلوق جیسے ہیں ، نہ تو یہ روم کا باشندہ ہے اور نہ ہی شام کا ، نہ ہی کاشان کا اور نہ ہی سمرقند کا ، گویا وہ جغرافیائی بندھنوں سے آزاد ہے اور اس کی طرز حیات مادہ پرستانہ نہیں ہے ۔ اس کا زاویہ نگاہ بھی آفاقی ہے کیوںکہ یہ اس دین کا پیروکار ہے جو آفاقی ہے ۔
3۔
علامہ فرماتے ہیں کہ میں نے انسان کی فضیلت کو اس قدر نمایاں کر دیا ہے کہ فرشتوں میں بھی رشک کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے ، انسانوں کو اپنے اندر خدائی صفات کا رنگ پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی ہے گویا اس طرح میں نے انسان کے دل میں ہر مخلوق سے اعلی و اشرف ہونے کا جذبہ بھر دیا ہے ۔
کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی
گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی !
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی !
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی !
معنی :
حنا بندی : لفظی معنی مہندی لگانا، محاورے میں بناو سنگھار۔۔۔ کاشی : منسوب بہ کاشان جو ایران کا مشہور مقام ہے ۔۔۔
نثر :
1۔
فرشتوں نے بارگاہ ایزدی میں میری یہ شکایت کی ہے کہ یہ شخص بڑا بے ادب اور گستاخ ہے ، ہر وقت فطرت کے بناو سنگھار اور تزئین و آرائش میں لگا رہتا ہے ، یعنی وہ اپنی شخصیت کے مختلف پہلووں کو بڑے دلکش اور پرکشش انداز میں پیش کرتا رہتا ہے
2۔
اگرچہ یہ شخص مٹی سے تخلیق کیا گیا اور زمین کا باشندہ ہے ، مگر اس کے انداز اور طور طریقے آسمانی مخلوق جیسے ہیں ، نہ تو یہ روم کا باشندہ ہے اور نہ ہی شام کا ، نہ ہی کاشان کا اور نہ ہی سمرقند کا ، گویا وہ جغرافیائی بندھنوں سے آزاد ہے اور اس کی طرز حیات مادہ پرستانہ نہیں ہے ۔ اس کا زاویہ نگاہ بھی آفاقی ہے کیوںکہ یہ اس دین کا پیروکار ہے جو آفاقی ہے ۔
3۔
علامہ فرماتے ہیں کہ میں نے انسان کی فضیلت کو اس قدر نمایاں کر دیا ہے کہ فرشتوں میں بھی رشک کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے ، انسانوں کو اپنے اندر خدائی صفات کا رنگ پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی ہے گویا اس طرح میں نے انسان کے دل میں ہر مخلوق سے اعلی و اشرف ہونے کا جذبہ بھر دیا ہے ۔


