#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #قسط_نمبر_16 جس ٹ…

#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_16
جس ٹائم وہ لوگ مونال ہوٹل پھنچے شام پوری طرح اپنے پڑ پھیلا چکی تھی وہ لوگ اپنے اپنے رومز میں چلے گئے تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی وہ دونوں سو گئی تھیں اگلے دن وہ لوگ فیصل مسجد گئے پھر سنٹورس مال گئےیہ مال 5 فلور پڑ مشتمل ہے وفا سارا مال گھوم کے اب تھک کے آکے بیٹھی ہوئی تھی جب کے سارا حرم کے ساتھ گھوم رہی تھی وفا اپنی ہی دنیا میں تھی کے آریان اسکے سامنے والی چیئر پے آکے بیٹھ گیا
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ادھر کیوں بیٹھی ہو (آریان نے وفا سے پوچھا
ایسے ہی تھک گئی تھی تو سوچا کے بیٹھ جاؤں تھوڑی دیر
تم نےشاپنگ نہیں کی کیا حرم بھی کر رہی ہے (آریان نے وفا کو دیکھتے ہوے کہا
نہیں میرا دل نہیں تھا اسلئے (وفا جواب دے کر ادھر ادھر دیکھنے لگ گئی
کیوں دل نہیں تھا لڑکیوں کو تو اتنا شوق ہوتا ہے شاپنگ کا اور ایک تم ہو کے شوہر خود کہ رہا ہے پھر بھی نہیں کر رہی چلو اٹھو (آریان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور اسے لے کر شاپس طرف چلا گیا
پھرپہلے اس کے لئے ڈریس چوز کیےپھر دوسری شاپنگ کی جب کے وفا بلکل تھک چکی تھی تنگ آکر وہ بول اٹھی
بس کر دیں کیا پوری زندگی کی شاپنگ ابھی کر لینی ہے اب میں تھک گئی ہوں
ٹھیک ہے میں تمہیں حرم لوگوں کے پاس چھوڑ دیتا ہوں (آریان نے وفا کی شکل دیکھی جہاں تھکن کے اثرات تھے
وہ اسے لے کر حرم لوگوں کے پاس آیا ادھر چھوڑ کر خود چلا گیا کچھ دیر بعد وہ لوگ ادھر سے pakistan monument گئے جو کے ایک بہت خوبصورت مقام ہے اور یہ مقام کچھ سال پہلے ہی تعمیر کیا گیا ہے جو کے 4 بڑ ی اور 3 چھوٹی دیواروں پڑ مشتمل ہے 4 بڑی دیواریں پاکستان کے 4 صوبوں کو ظاہر کرتی ہیں اور 3 چھوٹی دیواریں گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور قبائلی علاقہ جات کو ظاہر کرتی ہیں ان کو اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کے گلاب کی پتیوں کا گمان ہوتا ہے پھر (lok virsa museum )گئےجو کے ا سکے ساتھ ہی یادگار کلچر میوزیم ہے ادھر سے وہ لوگ واپس مونال ہوٹل میں آ گئے وفا تو آتے ہی بیڈ پڑ گر گئ اور دنیا سے غافل ہو گئی
اگلی دن ان لوگوں نے واپس آنا تھا پہلے وہ لوگ
۔ (fatima jinnah park) گئے جو کے ایک بہت خوبصورت پارک تھا جہاں ایک بارا دری تھی جدھر انہوں نے تصویریں بنوائی بہت سے سٹوڈنٹ کے اسرار پڑ وفا اور آریان نے ادھر پکس بنوائی اس پارک میں بہت سارے تالاب تھے جو کے خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے ادھر سے وہ لوگ واپسی کے لئے روانہ ہوۓ رات گئے وہ لوگ گھر پہنچے سب کا تھکن سے برا حال تھا اسلئے آتے ہی وہ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور اگلے دن وفا اور حرم دونوں چھٹی پے تھیں اور پورا دن ان لوگوں نے سو کے گزارا تھا ارسل کے گھر کی رینویشن مکمل ہو گئی تھی اور اب ایک دو دنوں تک وفا نے اور اسنے ادھر شفٹ ہو جانا تھا رات کے ٹائم جب احسن صاھب اپنے کمرے میں تھے تو ارسل ان کے کمرے کی طرف گیا اور دروازہ نوک کر کے اندر گیا
ارے ارسل اؤ بیٹا (ارسل صاھب نے اسے دیکھتے ہوے کہا کیوں کے ان کو ارسل کافی اچھا لگتا تھا سوبر سا اور وہ آریان کے یونیورسٹی کے زمانے سے جانتے تھے
انکل مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی
جی بیٹا کرو کیا بات ہے
انکل ایسے موقعوں پڑ اکثر بڑے بات کرتے ہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں کے ہمارے بڑے تو آپ ہی ہیں
بیٹا کھل کے بات کرو میں آپ کے ساتھ ہوں (احسن صاھب نے ارسل کی بات سن کر کہا
انکل میں اگر آپ کو مناسب لگے تو میں اپسے حرم کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں (ارسل نے سر جھکا کر کہا
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ارسل نے سر اٹھا کر دیکھا تو احسن صاھب مسکرا کر دیکھ رہے تھے
بلکل تم بھی مجھے آریان جیسے ہو جب میں نے میں نے اسے کچھ نہیں کہا تو تمہیں کیوں کہوں اور مجھے یقین ہے کے تم میری حرم کے لئے بہترین انتحاب ثابت ہو گے
تھینک یو انکل تھینک یو سو مچ (ارسل نے کہا اور ان کے گلے لگ گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میری بنو بنے گی میری بھابھی (وفا کو جب سے پتا چلا تھا وہ مسلسل حرم کو تنگ کر رہی تھی اور حرم وہ شرماے جا رہی تھی کیوں کے جو بھی تھا وہ اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچ کر پرسکون تھی کیوں کے ارسل اسے بھی پسند تھا
ویسے کتنا مزہ آے گا نا حرم (وفا نے اسے چھیڑتے ہوے کہا جس پڑ حرم نے اسے ایک گھور ی سے نوازا
وفا اب چپ کر جاؤ ورنہ باری تو تمہاری آنی ہے اور مجھ سے پہلے آنی ہے پھر پوچھوں گی میں تم سے )اب کے گھورنے کی باری وفا کی تھی وہ دونوں ایسے ہی لگی رہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے میں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kre
جاری ہے


