منتخب غزلیں

تنویر نقوی کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں ہزاروں ہ…

تنویر نقوی

کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناؤں
حضور آپ پر اک جہاں کی نظر ہے
نگاہِ کرم سے بھی مجھ کو یہ ڈر ہے
جہاں کی نظر میں کہیں آ نہ جاؤں
کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
زمانہ ہوا ہے، مجھے مسکرائے
محبت میں کیا کیا صدمے اٹھائے
کسے یاد رکھوں، کسے بھول جاؤں
کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
دعا ہے یہی کچھ زباں تک نہ آئے
محبت کا شکوہ بیاں تک نہ آئے
جلیں زخم دل کے مگر مسکراؤں
کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناؤں


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/