شاعر و ادیب ظہیر غازی پوری کی وفات November 03, 20…

November 03, 2016
ظہیر غازیپوری (ظہیر عالم انصاری ) کی پیدائش ۸؍جون ۱۹۳۸ء ءمیں غازیپور میں ہوئی۔ شادی گیا میں ہوتی ہے اور بسلسلہ ¿ ملازمت بہار و جھارکھنڈ کے ضلع گیا ، اورنگ آباد، شیرگھاٹی ، دمکا ، رانچی اور ہزاری باغ میں قیام رہا ۔بالآخر وطن اصلی وطن اصلی سے باطل ہوا اور ہزاری باغ کے ہی ہوکر رہ گئے اور غازیپوری ان کے نام کا ایک جزو بن کر رہ گیااوریہ ادب کا کھرا اور گمنام ستارہ ۳نومبر 2016ءکو ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ۔
ظہیر غازیپوری نے 1955 ئ میں ابرار حسن گنوری کے آگے زانوئے تلمذتہہ کیا اور کچھ ہی عر صہ میں استاد نے انہیں فارغ الاصلاح قرار دے دیا بلکہ مبتدئین کی اصلاح کی ذمہ داری بھی سونپ دی اس وقت سے لیکر آخری اوقات تک مسلسل وہ خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت میں لگے رہے۔اللہ نے انہیں نظم ونثر میں یکساں قدرت دی تھی جس کی وجہ سے ان کے قلم سے شعر و نثر کی عمدہ تخلیقات تخلیق پائیں ۔ان میں سے ” مطالعہ ¿ اقبال کے بعض اہم پہلو“ ، ”اردو دوہے : ایک تنقیدی جائزہ“ اور ” جھارکھنڈ اوربہار کے اہل قلم“ نثر میں شائع ہوچکی ہیں اورشاعر ی میں دو مجموعے غزل کے ، دو نظم کے ، ایک غزل ونظم کا مشترکہ مجموعہ اور ایک رباعیوں کا مجموعہ ”دعوت صد نشتر“ اردو ادب میں اعلی مقام حاصل کیا۔
ظہیر غازیپوری کو شروع سے ہی غزلوں سے خصوصی دلچسپی تھی۔غزل کے مقبول شاعرہونے کے ساتھ ساتھ وہ غزل کے روایتی استاد بھی تھے، جس کی مثال ان کی آخری کتاب ’غزل اور فن غزل‘ سن اشاعت 2015ءہے۔غزلوں کی جانب خصوصی توجہ ہو نے کے ساتھ اظہار ذات و افکار کے لیے رباعیاں ان کے پاکیزہ ذہن سے رواں ہوئیں اور صفحہ ¿ قرطاس میں اتر گئیں۔ رباعیاں بھی ایسی کہ جو صرف بحر و ں کا استعمال کر کے خشک موضوع اپنا کر اپنی استادی کا اعلان کیا جائے۔ نہیں !بلکہ انہوں نے خودکو رباعی کے پیکر میں ڈھا لا، اپنے افکار اور فنی اقدار کو رباعی کے موافق بنانے میں زیادہ توجہ دی ، رباعی کے تمام فنی اقدار پر پوری دستر س حاصل کی پھر اپنی رباعیوں کو اپنے غزل کے ہم مقام لا نے کے لیے خوب تجر بے کیے اسی وجہ سے ان کی رباعیاں بے ہنگم الفاظ اور غیر موزوں تر اکیب سے پاک ہیں۔
اردو اب کے کہنہ مشق اور ممتاز شاعر کے علاوہ ممتاز محقق‘ نقاد‘ مقالہ نگار اور ماہنامہ ’’صریر‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے ادبی صحافی کا مقام حاصل کرنے والے ظہیر غازی پوری کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے ایک نئی صنف ’’غزل نما‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنی تحقیقی و تنقیدی کتابوں کی پیشکش کے ذریعے اردو ادب کی تاریخ اور تدوین کو فروغ دینے میں اہم کارنامے انجام دےئے۔ وہ پرُگو شاعر ہونے کے علاوہ قابل اعتبار محقق اور منفرد نقاد کی حیثیت سے شہرت کے حامل ہیں۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’تثلیث فن‘‘ (نظمیں، مشترکہ مجموعہ)، ’’الفاظ کا سفر‘‘(نظمیں ، غزلیں)، ’’آشوب نوا‘‘(غزلیں)، ’’کہرے کی دھول‘‘(نظمیں)، ’’سبزموسم کی صدا‘‘(غزلیں)، ’’دعوت صد نشتر‘‘ (رباعیات)، ’’لفظوں کے پرند‘‘(نظمیں)
….
ریزہ ریزہ اپنا پیکر اک نئی ترتیب میں
کینوس پر دیکھ کر حیران ہو جانا پڑا
….
تا عمر اپنی فکر و ریاضت کے باوجود
خود کو کسی سزا سے بچانا محال ہے
…….
اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں
ملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میں
…..
کاغذ کی ناؤ بھی ہے کھلونے بھی ہیں بہت
بچپن سے پھر بھی ہاتھ ملانا محال ہے



