منتخب نظمیں

کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں دل کی تپش…


کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں
دل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروں

غیر ہے گرچہ ہمنشیں، بزم میں ہے تو وہ حسیں
پھر مجھے لے چلا وہیں، ذوقِ نظر کو کیا کروں

شورشِ‌ عاشقی کہاں، اور مری سادگی کہاں
حُسن کو تیرے کیا کہوں، اپنی نظر کو کیا کروں

غم کا نہ دل میں‌ ہو گزر، وصل کی شب ہو یوں بسر
سب یہ قبول ہے مگر، خوفِ سحر کو کیا کروں

حال میرا تھا جب بتر، تب نہ ہوئی تمہیں خبر
بعد مرے ہوا اثر، اب میں‌ اثر کو کیا کروں

دل کی ہوس مٹا تو دی، ان کی جھلک دکھا تو دی
پر یہ کہو کہ شوق کی "بارِ دگر” کو کیا کروں

حسرتِؔ نغز گو ترا، کوئی نہ قدرداں ملا
اب یہ بتا کہ میں ترے، عرضِ ہنر کو کیا کروں

کلام: مولانا حسرتؔ موہانی
فن کار: استاد مہدی حسن خاں صاحب

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/