منجھدار محبت وجیہہ بخاری قسط نمبر 10 آخری رحم…

???? وجیہہ بخاری
???? قسط نمبر 10 آخری
رحمہ بیگم حیران رہ گئیں کہا جس کے لئے انھوں نے یہ سب کیا اسی نے انکے ساتھ ایسا کیا…”
آج انھیں پتا چلا تھا آستین کا سانپ کسی کہتے ہیں..”
وہ خاموشی سے کھڑی تھیں شاہ میر کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر انکا دل دھڑکنا بند کر چکا تھا…”
ماما آپنے بھی…”
میں نے سوچا بھی نا تھا ہاں یہ ضرور بات تھی کہ آپسے اس سے نفرت کرتی ہیں…”
پر ایک طرف وہ میری بیوی اور آپ کی بہو بھی ہے…”
اور سب سے بڑھ کر اس حویلی کی عزت آپ کیسے یہ کر سکتی ہیں…”
وہ دکھ سے بولا تھا…”
بیٹا میں اپنی بہن اور بھانجی کی وجہ سے اندھی ہو گئی تھی جو ایک ہیرے کو ٹھکرا کر ایک پتھر حاصل کرنا چاہتی تھی…”
وہ روتے ہوئے بولیں…
مجھے معاف کردو شاہ میر بیٹا….
مجھ سے بہت بڑھی غلطی ہوگئی ہے…”
پر اب مجھے احساس ہو گیا ہے… پلیز مجھے معاف کردو رحمہ بیگم گرگڑا رہی تھیں…”
آغا جان خاموشی سے رحمہ کو دیکھ رہے تھے…”
محتشم صاحب بے بسی سے آغا جان کو دیکھ رہے تھے…”
شاہ میر اپنا رخ موڑے دوسری طرف دیکھ رہا تھا…” وہ رحمہ کو نہیں دیکھ رہا تھا…”
نور رحمہ کی طرف بڑھی…”
اور انکو کندھے سے اٹھایا جو کہ نیچے بیٹھ گئی تھیں…”
رحمہ نے اسکی طرف دیکھا…”
بیٹا تم نے مجھے معاف کر دیا نا دیکھو یہ شاہ مجھے معاف نہیں کر رہا اسے کہو مجھے معاف کردے ورنہ میں مر جاؤں گی وہ روتے ہوئے بولیں…”
پلیز تائی جان آپ رونا بند کریں میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے اور شاہ بھی کر دیں گے…”
وہ روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی تھیں…”
آغا جان محبت پاش نگاہوں سے اپنی پوتی کو دیکھ رہے تھے…”
آج سہی معنوں میں انھیں اپنے آپ پر فخر محسوس ہوا تھا…”
وہ لڑکھڑا کر صوفے پر بیٹھ گئے…”
اشنا یہ سب خاموش نگاہوں سے دیکھ رہی تھی…” پھر چپکے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی…”
سعدیہ شرمندگی سے سر نہیں اٹھا پا رہی تھیں…”
ثمن نفرت سے اشنا کو دیکھ کر نور کی طرف بڑھ گئی…”
_______________________
اشنا کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی تھی…
آج وہ سب کی نظروں میں گر گئی تھی…”
لیکن ابھی تک اس کا دماغ ٹھیک نہیں ہویا تھا…”
سعدیہ کمرے میں آئی تھیں…”
اشنا آج تم نے میرا سر جھکا دیا ہے…”
جانتی ہوئی کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے مجھے…”
ماما کیسی شرمندگی…
مجھے کوئی نہیں ہوئی اس نور کی شادی دیکھتی ہوں کیسے شاہ سے ہوتی ہے…وہ میرا ہے میرا… اس کی اتنی اوقات ہے کہ کرے اس سے شادی وہ نفرت سے بولی…”
اشنا اور کیا کرنا رہ گیا ہے بیٹا بس کردو بھول جاؤ شاہ کو وہ تمھاری قسمت میں نہیں لکھا…اور نا ہی وہ تم سے محبت کرتا ہے…وہ نور سے کرتا ہے..حقیقت کو فیس کرنا سیکھو میری جان پلیز وہ اس کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر بولیں…””
واٹ ہر گز نہیں میں نے آج تک اسی کے خواب دیکھیں ہیں بچپن سے لے کر جوانی تھی پھر کیسے میں اسے بھول جاؤں وہ میرا ہی ہے وہ روتے ہوئے بولی…” اور انکے ہاتھ جھٹک دئے..”
میں ہر گز اسے نور کے حوالے نہیں کروں گی…”
سدھر جاؤ لڑکی اب اور کچھ ایسا نا کرو کے دوبارہ سے تمھارا باپ اور میں منہ دکھانے کے قابل نا رہیں…”
لیکن ماما…”
لیکن ویکن کچھ نہی رخصتی کی تاریخ رکھی جا رہی ہے.. بس اب تم بغیر کسی جھجک کے شادی میں شامل ہوگی…
ہرگز نہیں میں کسی شادی میں شرکت نہیں کروں گی وہ چلائی تھی…”
سعدیہ اسکو اس کے حال پر چھوڑ کے باہر نکل گئیں….”
_______________
تاریخ طہ ہوگئی تھی…”
اگلے جمعہ کی رخصتی طہ کی گئی تھی…”
رحمہ بیگم ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں…”
اشنا ویسے ہی کمرے میں بند ہوئی کر رہ گئی تھی…”
وہ ابھی بھی یہ ماننے کو ہی تیار نہیں تھی…”
اس کے نزدیک سب اس کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے. اور اسکے شاہ کو اس سے چھین رہے تھے…”
اس نے خود کو کمرے میں قید کر کے رکھ لیا تھا…”
پر یہاں پرواہ کس کو تھی اسکی حرکتوں کی وجہ سے ہر کوئی اس سے کٹ کر رہ گیا تھا…”
اگر وہ شاہ کو پانے کے لئے سہی راستہ اپناتی تو شاید ضرور شاہ میر کو پا لیتی پر اس نے اسے پانے کے لئے غلط راستے کا انتخاب کیا تھا جو اس کے لئے غلط ثابت ہوا…اور نور نے اپنے صبر اور اچھائی سے شاہ کو پا لیا تھا…”
________
اس نے گرے لہنگا اور اس پہ پیچ کلر کا دوپٹہ انتہائی سلیقے سے لیا تھا…جس میں وہ کسی گڑیا سے کم نہیں لگ رہی تھی…”
اور شاہ میر بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا…”
رحمہ بیگم اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں.. ”
اشنا اپنے کہے کے مطابق نہیں آئی تھی…”
سعدیہ بیگم اسے منا منا کر تھک گئی تھی پر وہ اشنا ہی کیا جو بات مان لے…”
ہر کوئی خوش تھا سوائے ایک اشنا کے…”
وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے شہزادہ شہزادی سے کم نہیں لگ رہے تھے…”
رقیہ انکی بلائیں لیتی نہیں تھک رہی تھیں…”
_____________
وہ رخصتی کے بعد کافی تھک گئی تھی…”
وہ شاہ کا انتظار کر رہی تھی…” اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو بارہ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی…”
وہ سو گئی کچھ دیر بعد جب اس کی آبکھ کھلی شاہ کو اپنا انتظار کرتے پایا وہ حیران رہ گئی…
اس نے گھڑی کی طرف نگاہ دوڑائی تو تین بج گئے تھے…”
تم مجھے اٹھا دیتے وہ شرمندگی سے بولی..”
وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا…”
اس نے اسکی طرف مسکرا کر دیکھا پھر اس کے حنائی ہاتھ تھام لئے…
تم معصوم ہی اتنی لگ رہی تھی کہ میرے دل نے مجھے اجازت نہیں دی تمھیں جگانے کی وہ مسکرا کر بولا…
وہ شرما گئی تھی…”
میں آج بہت خوش ہوں نور کے میں نے تمھیں سب کی رضا سے پا لیا…مجھے یقین تھا ایک دن سب مان جائیں گے…”
تم میری زندگی کی پہلی اور آخری خواہش ہو اس ہوئی علاوہ میں کچھ نہیں چاہتا بس ساری زندگی کے لئے تمھارا ساتھ چاہتا ہوں…”
کیا تم میرا ساتھ دوگی اس نے اس کی طرف بہت مان سے دیکھ کر کہا…”
نور نے سر ہلا دیا…”
شاہ نے مسکرا کر اس کی کشادہ پیشانی کو چوم کر اپنے پیار کی مہر ثبت کردی تھی…”
وہ مسکرائی تھی اور اللہ کی دل سے شکر گزار تھی جس نے اسے اتنا چاہنے والے لائف پارٹنر دیا تھا…”
جس کے ساتھ یقینا اسکی زندگی بہت خوبصورت گزرنے والی تھی…”
________________
ختم شد


