عشق کا قاف قسط نمبر : 3 & 4 "تو ہماری اک ذرا سی …

قسط نمبر : 3 & 4
"تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ ”
بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔
"میں نے۔۔۔ ”
طاہر نے کہنا چاہا۔
"کوئی جرم نہیں کیا۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ محبت کی ہے۔ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فلمی ڈائیلاگ بولو گے نا تم۔ ”
اس کی بات تیز لہجے میں کاٹ دی گئی۔ وہ ان کے پُر رعب، با وقار چہرے پر پھیلتی سختی کی تاب نہ لا کر سر جھکا کر رہ گیا۔
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
"جی بیگم صاحبہ”۔
وہ ایک قدم آگے بڑھ آئی۔
” آپ بھی اس سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ ”
وہ سرد مہری سے بولیں۔
"جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں۔۔۔۔ ”
وہ گڑ بڑا گئے۔
"گھبرائیے نہیں ڈاکٹر ہاشمی۔ آپ ہمارے خاندانی ڈاکٹر ہیں۔ آپ میں تو اتنی ہمت، اتنی جرات ہونی چاہیے کہ آپ ہم سے بلا خوف بات کر سکیں ، یا ہمارے نمک میں یہ اثر بھی نہیں رہا۔ ”
"ایسی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ۔ ”
وہ سنبھل گئے۔
"تو پھر ؟ یہ سب کیا ہوا ؟ کیوں ہوا؟ ہمیں اطلاع کیوں نہ دی گئی؟”
وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔
"میں نے۔۔۔ ”
” آپ نے کچھ بھی سوچا ہو ڈاکٹر ہاشمی مگر ہمارے لئے نہیں۔ اس سر پھرے لڑکے کے لئے سوچا ہو گا، جسے آپ نے گودوں میں کھلایا ہے۔ ہے ناں ؟”
"جی۔۔۔ جی ہاں۔ ”
وہ اقرار کر گئے۔
زاہدہ سہم سی گئی مگر طاہر نے اسے نظروں ہی نظروں میں دلاسا دیا۔ تب وہ اپنے خوف کو کافی حد تک کم محسوس کرنے لگی۔
"طاہر۔ ”
وہ اس کی طرف پلٹیں۔
"جی امی جان۔ ”
وہ ادب سے بولا۔
"تمہیں ہمارا فیصلہ معلوم تھا ناں ؟”
"جی۔ ”
اس کا سر جھک گیا۔
"پھر تم نے اسے بدلنے کے بارے میں سوچا کیسے؟”
"گستاخی معاف امی جان۔ میں نے تمام زندگی آپ کے ہر حکم پر سرجھکایا ہے۔ ”
"مگر اب اس لڑکی کی خاطر، اپنی پسند کی خاطر، تم ہمارے ہر اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دو گے، جو ہم تم پر حکم کہہ کر لاگو کریں گے۔ ”
انہوں نے اس کی بات پوری کر دی۔
"جی نہیں۔ امی جان میں نے ایسا۔۔۔ ”
"تو تمہیں ہمارے ہر فیصلے سے اتفاق ہو گا؟ ”
وہ حاکمانہ انداز میں گویا ہوئیں۔ وہ جواب میں خاموش رہا۔ ایک بوجھ سا ان سب کے دلوں پر بیٹھتا چلا گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے پُر درد نظروں سے ان دو پیار بھرے دلوں کو دیکھا، جو سہمے سہمے انداز میں دھڑکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
"اس خاموشی سے ہم کیا مطلب لیں طاہر؟”
اور اس نے آہستہ سے زاہدہ کی جانب دیکھ کر سر اٹھایا۔
"میں آپ کے فیصلے کا منتظر ہوں امی جان۔ ”
"تو۔۔۔ ”
وہ ان کی جانب گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
"ابھی۔۔۔ اسی وقت۔ اس لڑکی کو۔۔۔ ”
وہ رکیں۔ ان سب کو تنقیدی اور جانچنے والی نظروں سے دیکھا۔
"یہاں سے رخصت کر دو۔ ”
کہہ کر انہوں نے رخ پھیر لیا۔
ایک بم پھٹا۔ ایک زلزلہ آیا۔ ایک طوفان اٹھا۔ یہ سب ان کی توقع کے مطابق ہی ہوا تھا مگر وہ پھر بھی سہہ نہ سکے۔
"میں وجہ پوچھنا چاہوں گا امی جان۔ ”
ایک اور دھماکہ ہوا۔
"طاہر۔ ”
وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔ تیزی سے اس کی طرف پلٹیں۔
"وجہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ ”
وہ غیظ و غضب سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے پھنکاریں۔
"میں آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں۔ ”
وہ جیسے ہر خوف، ہر ڈر سے بے بہرہ ہو گیا۔
وہ ایک لمحے کو سن ہو گئیں۔ طاہر، ان سے وجہ پوچھ رہا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل سے انکار کر رہا تھا۔ ان کی انا پر براہ راست حملہ اور ہو رہا تھا۔
مگردوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گئیں۔ جوانی جوش میں تھی، انہیں ہوش کی ضرورت تھی۔ طوفان چڑھ رہا تھا۔ بند باندھنا مشکل تھا، ناممکن نہیں۔
ان کے چہرے کی سرخی، اعتدال کی سفیدی میں ڈھلتی چلی گئی۔ آنکھوں میں دہکتی ہوئی آگ، ہلکی سی چمک میں بدل گئی۔ بڑھاپا سنبھل گیا۔ جوانی کو داؤ میں لینے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔
"یہ لڑکی کون ہے۔ جانتے ہو؟”
وہ زاہدہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔
"انسان ہے امی جان۔ ”
وہ ادب سے بولا۔
"اس کا خاندان، گھر بار، ٹھکانہ، ماں باپ۔ ”
وہ بل کھا کر ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ گئیں۔
” یہ بے سہارا ہے امی جان۔ ”
” آوارہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ ”
انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔
"امی جان۔ ”
وہ احتجاجاً بولا۔
"جنگ میں زخموں کی پرواہ کرنے والے بزدل ہوتے ہیں طاہر بیٹے۔ اور تم ہمارے بیٹے ہو۔ ہمارے سامنے تن کر کھڑے ہوئے ہو تو وار سہنا بھی سیکھو۔ ”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔
"امی جان۔ ”
وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا۔
"یہ غریب، بے سہارا، بے ٹھکانہ ہے۔ ”
"تو آج تک دارالامان میں رہی ہے۔ ”
وہ طنز سے بولیں۔
"اپنوں کے ستم سہتی رہی ہے۔ ”
وہ تیزی سے بولا۔
"پھر یہ بے گھر کیسے ہوئی؟ کیوں ہوئی؟”
وہ جلال میں آ گئیں۔
"تقدیر جب سر سے آنچل کھینچ لینے کے درپے ہو گئی تو۔۔۔ ”
"تو۔۔۔ یہ تمہارے پاس چلی آئی۔ ”
انہوں نے اس کا فقرہ بڑے خوبصورت طنز سے پورا کر دیا۔
"میں سب بتا چکا ہوں امی جان۔ ”
وہ ادب ہی سے بولا۔
"مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ایسی لڑکی ہمارے بیٹے کی بیوی اور ہماری بہو کہلائے۔۔۔ ”
"جس کے پاس دولت نہیں۔ جہیز نہیں۔ معاشرے میں اونچا مقام نہیں۔ ”
وہ پھٹ پڑا۔
"ٹھیک سمجھے ہو۔ ”
وہ نرمی سے بولیں۔
"میں ایک سوال اور کروں گا امی جان۔ ”
"ہم جواب ضرور دیں گے۔ ”
"اگر یہ لڑکی۔۔۔ فرض کیجئے یہ لڑکی ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی ہوتی تو؟”
"تو ہم بخوشی اسے اپنی بہو بنا لیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی نہیں ہے۔ اس لئے ہم اسے تمہاری بیوی نہیں بنا سکتے۔ ”
وہ وقار سے بولیں۔
"اگر شرط یہی ہے تو سمجھ لیجئے بیگم صاحبہ۔ یہ لڑکی آج سے میری بیٹی ہے۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی نے آگے بڑھ کر زاہدہ کے سرپر ہاتھ رکھ دیا۔
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
امارت تلملا اٹھی۔
” آپ زبان دے چکی ہیں بیگم صاحبہ”۔
وہ ادب اور آہستگی سے بولے۔
"مگر یہ آپ کی سگی بیٹی نہیں ہے۔ ”
” آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تھی امی جان۔ ”
وہ ان کے بالکل قریب چلا آیا۔
اور وہ اپنی بوڑھی، تجربہ کار مگر ممتا بھری نظروں سے اسے گھورتی رہ گئیں۔
"مان جائیے ناں امی جان۔ تمام زندگی مجھے حکم دیتی آئی ہیں۔ میری ضدیں پوری کرتی آئی ہیں۔ آج یہ ضد بھی مان لیجئے۔ ”
وہ پھر بھی اسے گھورتی رہیں۔ تاہم طوفان اترنے لگا تھا۔
"امی جان۔ ”
اس نے ان کے شانے تھام لئے۔
"بولئے ناں۔ ”
اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ ممتا لرز گئی اور بال آخر بے بس ہو گئی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر انہوں نے سرجھکا لیا۔ آہستہ سے بیٹے کو ایک طرف ہٹا دیا۔ دو قدم چلیں اور زاہدہ کو گھورنے لگیں۔
"ہمارے۔۔۔ قریب آؤ۔ ”
وہ رک رک کر کتنی ہی دیر بعد بولیں۔ وہ پلکوں پر ستارے لئے، دھیرے دھیرے، ان کے قریب چلی آئی۔
وہ چند لمحوں تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے جانے کیا دیکھتی رہیں۔ جانچتی رہیں۔ تب اس کی پلکوں سے ستارے ٹوٹے اور بیگم صاحبہ کے قدموں پر نچھاور ہو گئی۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ ان کے قدم چوم لیتی، انہوں نے اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کر دی۔
فیصلہ ہو گیا۔
"ہم ہار گئے طاہر۔ ”
وہ زاہدہ کو سینے سے الگ کر کے آہستہ سے پلٹیں۔ "لیکن صرف اپنے اصولوں ، اپنی زبان کی خاطر۔ ”
"امی جان۔ ”
وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گیا۔
"پگلی۔ ابھی تو بڑا فلسفی بنا ہوا تھا۔ ”
وہ اس کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی مسکرائیں۔
"امی جان۔ ”
وہ جھینپ کر بولا۔ زاہدہ نے شرما کر سرجھکا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی مسکرا رہے تھے۔
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
"جی بیگم صاحبہ۔ ”
وہ ادب سے بولی۔
"ہماری بہو کو گھر لے جائیے۔ ہم اگلے ماہ کی تین تاریخ کو یہ ستارہ، اپنے چاند کے پہلو میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ”
وہ پیار سے ان دونوں کو گھور کر بولیں۔
"جو حکم بیگم صاحبہ۔ ”
وہ بھی مسکرا دیئے۔
شرما کر زاہدہ نے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ طاہر اس کے لرزتے ہوئے وجود کو دیکھ کر نشے میں جھومتا ہوا آگے بڑھا۔
"مبارک ہو۔ ”
زاہدہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا۔
"ہماری طرف سے بھی۔ ”
بیگم صاحبہ کی آواز نے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ شرم سے گڑی جا رہی تھی۔
"ہمیں اب اجازت دیجئے بیگم صاحبہ۔ آپ نے وقت بہت کم دیا ہے۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا۔
"کاش ! آپ جانتے ڈاکٹر ہاشمی کہ انتظار کس قدر تلخ شے کا نام ہے۔ ”
وہ ہولے سے قہقہہ لگا کر بولیں۔ ڈاکٹر ہاشمی جھینپ کر رہ گئی۔
"اچھا۔ تو جائیے۔ ”
وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
"لے جائیے ہماری امانت کو اپنے گھر چند دنوں کے لئے۔”
وہ شرمائی لجائی سی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈاکٹر ہاشمی کے ہمراہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
بیگم صاحبہ کے چہرے پر ایک سکون تھا۔ تمکنت تھی۔ وقار تھا مگر دل میں ایک پھانس سی تھی۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ ایک خواب ہے جو طاہر نے دیکھا ہے، اور جب اس کی آنکھ کھلے گی تو تعبیر اچھی نہیں ہو گی۔
پھر انہوں نے سر جھٹک کر اپنے واہموں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم دل کی بے سکونی ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیر بن کر چھلک آئی تھی۔ شاید بڑھاپا خود کو فریب دینا چاہ رہا تھا
مگر تجربے کی تیسری آنکھ وا ہو چکی تھی جو آنے والے وقت کے اندیشے کی پرچھائیاں محسوس کر کے پتھرائے جا رہی تھی۔
"لو بیٹی۔ یہ ہے تمہارا نیا مگر مختصر سے وقت کے لئے چھوٹا سا گھر۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی نے اسے ساری کوٹھی کی سیر کرانے کے بعدواپس ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ خاموشی سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
زندگی کی خوشیاں ، ہر نعمت، ہرمسرت پا کر بھی، اس پر نجانے کیوں ایک بے نام سی اداسی، نامحسوس سی یاسیت طاری تھی، جسے وہ چھپانے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھی۔
"دینو۔ او دینو۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ملازم کو آواز دی۔
"جی مالک۔ ”
نوکر کمرے میں داخل ہوا۔
"دیکھو۔ دو کپ چائے لے آؤ مگر ذرا جلدی۔ مجھے ہاسپٹل پہنچنا ہے۔ ”
وہ چٹکی بجا کر بولے۔ دینو سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے مختصراً دینو کو اتنا ہی بتایا تھا کہ زاہدہ ان کی منہ بولی بیٹی ہے اور اگلے ماہ اس کی شادی طاہر میاں سے ہو رہی ہے۔ دینو ان کا اکلوتا اور وفادار ملازم تھا۔
ڈاکٹر دلاور ہاشمی نے بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا۔ سرمد۔ جسے وہ جی بھر کر پڑھانا چاہتے تھی۔ آج کل وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کر رہا تھا۔
دونوں باپ بیٹا، دو ہی افراد اس خوبصورت آشیانے کے باسی تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد، غم اور خوشی کے شریک۔ راز دار، دوست، سبھی کچھ تو تھے وہ۔
ثروت خانم کے دلہن بن کر آنے سے بھی پہلے سے وہ سر سلطان وجاہت کے فیملی ڈاکٹر تھے۔ معالج اور مریض کا یہ رشتہ وقت نے رفتہ رفتہ دوستی میں بدل دیا اور سر وجاہت سلطان کی وفات کے بعد بیگم صاحبہ اور طاہر سے ان کا یہ تعلق سرپرستانہ ہو گیا۔
انہیں سلطان ولا میں گھر کے ایک اہم فرد ہی کی سی عزت دی جاتی تھی۔ اس تعلق کی بنیادوں میں یہ بات اولیں اہمیت کی حامل تھی کہ انہوں نے طاہر کو واقعی کسی چچا کی طرح گود میں کھلایا تھا۔
چائے ختم ہو گئی تو وہ اٹھ گئے۔
"اچھا بیٹی۔ میں ذرا ہاسپٹل ہو آؤں۔ شام تک لوٹ آؤں گا۔ تم گھبرانا نہیں۔ دینو سے بے تکلف ہو کر جس شے کی ضرورت ہو کہہ دینا۔ شام کو شاپنگ کے لئے چلیں گے۔ ”
وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر ہاشمی ہنستے ہوئے اٹھے اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دروازے کی جانب بڑ ھ گئے۔
وہ کتنی ہی دیر جانی پہچانی سوچوں میں گم صوفے پر بیٹھی رہی۔ آنسو اس کی پلکوں سے شبنم کے موتیوں کی طرح ڈھلک ڈھلک کر رخساروں پر پھسلتے رہے۔ ذہن الجھا رہا۔ دل مچلتا رہا اور لب کپکپا کر ایک ہی نام، ایک ہی خیال کو دہراتے رہے۔
"اختر۔ کاش اختر۔ وہ سب کچھ نہ ہوتا۔ جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ مجھے سب کچھ ملا اختر مگر تم نہ ملے۔ کیوں اختر؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟
تمام زندگی کے لئے مجھے یادوں کی چتا میں جلنے کو کیوں چھوڑ دیا؟ بولو ناں اختر۔ تم سنتے کیوں نہیں ؟ کہاں ہو تم اختر۔ کہاں ہو تم؟”
وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔ اشک بہتے رہی۔ دل سلگتا رہا۔ یادیں آتی رہیں۔ جانے کب تک۔ پھر وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے وہ نیند کی بانہوں میں سمٹ گئی۔ کسی معصوم بچی کی طرح۔
٭٭٭٭٭٭
شادی میں صرف دو دن باقی تھے۔ دونوں جانب تیاریاں مکمل ہو گئیں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی چیک بک کو جی کھول کر استعمال کیا تھا۔ اب ان کی سونی سونی کوٹھی واقعی کسی ایسی لڑکی کا گھر معلوم ہونے لگی تھی، جس کی رخصتی عنقریب ہونے والی ہو۔
وہ بے حد خوش تھے۔ بھری دنیا میں ایک بیٹے اور اب اس منہ بولی، چند روزہ مہمان بیٹی کے سوا ان کا تھا بھی کون؟ وہ اسے باپ بن کر ہی بیاہنا چاہتے تھے!
بیگم صاحبہ بھی وقتاً فوقتا ان کے ہاں چلی آتیں۔ انہیں اپنے ہاں بلا بھیجتیں۔ صلاح مشورے ہوتے
پھر آنے والے سہانے دنوں کے خواب حقیقت بن بن کر ان کی ترستی ہوئی پیاسی آنکھوں میں ابھرنے لگتے۔
رہ گیا طاہر۔ تواس کا ایک ہی کام تھا۔ دن بھر ٹیلی فون کر کر کے اسے تنگ کرنا۔ آنے والے خوبصورت دنوں کی باتیں کرنا۔
ٹھنڈی آہیں بھر کر وقت کے جلدی نہ گزرنے کی شکایتیں کرنا۔ بے قرار دل کا حالِ زار سنانا اور محبت جتانا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا۔ اگر ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا نادر شاہی حکم نہ ہوتا تو وہ شاید ہر پل زاہدہ کی قربت میں گزار دیتا
مگر مجبور تھا۔ ہاں ، تھوڑا سا بے شرم ہو کر وہ زاہدہ کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی چیز ضرور خرید لاتا۔ کبھی ساڑھی۔ کبھی نیکلس۔ کبھی کچھ۔ کبھی کچھ۔
بیگم صاحبہ سب کچھ دیکھ کر، سب کچھ جان کر بھی، ہولے سے مسکرا کر خاموش ہو رہتیں۔ اور بس۔ عجیب بات تھی کہ انہیں اب بھی اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے۔ اب بھی ان کا وہم انہیں اندر سے ڈرائے رکھتا تھا۔
طاہر دفتر میں سارا سارا دن بچوں کی طرح ہر ایک کو چھیڑتا رہتا۔ ہر ایک کو تنگ کرتا رہتا۔ سب اس کی خوبصورت شرارتوں کو مالک کے پیار سے زیادہ ایک سچی، مخلص اور پیارے دوست کا حق سمجھ کر برداشت بھی کرتے اور موقع ملنے پر بدلہ بھی چکا دیتے۔
"امبر۔۔۔ تم بھی جلدی سے شادی کر لو۔ ایمان سے آدمی مرنے سے پہلے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ”
طاہر کہتا اور وہ بیر بہوٹی بن کر رہ جاتی۔
اب تو چند دنوں کی بات تھی۔ پھر۔۔۔ اور اس” پھر "سے آگے، وہ بڑے حسین تصورات میں گم ہو جاتا۔ کھو کر رہ جاتا۔ "زاہدہ۔ "ایک نام اس کے لبوں پر آتا اور وہ مدہوش سا ہو جاتا۔
دوسری طرف زاہدہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔ سب کچھ، اس کی آنکھوں ، جاگتی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ محسوس کر رہی تھی لیکن اسے یہ سب خواب معلوم ہو رہا تھا۔
ایک ایسا خواب جس میں بے چینی تھی، بے سکونی تھی، بے اطمینانی تھی۔ وہ راتوں کو بے قراری سے کروٹیں بدلتی رہتی۔ اضطراب اس پر حاوی رہتا۔ ذہن منتشر منتشر سا۔ دل مسلا مسلا سا۔ سوچیں ادھوری ادھوری سی۔ خیالات بکھرے بکھرے سے۔
وہ خود کو نامکمل سی محسوس کرتی۔ قطعی نامکمل، تشنہ اور ادھورا۔
یہ ادھورا پن، یہ تشنگی، یہ اضطراب، صرف اور صرف ماضی کی ان بے قرار یادوں کے باعث تھا جو اسے ایک پل کو چین نہ لینے دیتی تھیں۔
اس کے ہر تصور پر اختر، ہر پل، ہر لمحہ، چھایا رہتا۔ اس نے جتنا ماضی سے دامن چھڑانا چاہا، مستقبل اتنا ہی اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یادوں کے گھور اندھیروں میں ڈوبی، اشکوں کے چراغ جلاتی رہتی مگر کوئی راستہ، کوئی منزل، کوئی راہگزر نگاہوں کے ہالے میں تیرتی نظر نہ آتی۔
محبت کھیل نہیں کہ بغیر چوٹ دیے ختم ہو جائے۔۔۔ یہ احساس اسے شدت سے ہو رہا تھا۔ پوری تندی و تیزی سے یہ طوفان اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ بے بسی سے اپنی نم آنکھوں میں چبھتے نوکیلے کانٹوں کی چبھن اپنی روح پر محسوس کرتے ہوئے آنسو آنسو ہو کر چیخ پڑتی۔ چلا اٹھتی۔
"اختر کہاں ہو تم۔ ظالم! یہ کس جہنم میں دھکیل دیا ہے تم نے مجھے۔ ایک بار۔ صرف ایک بار سامنے تو آؤ۔ مجھے یقین تو ہو جائے کہ تم وہ نہیں ہو، جو صرف ایک رات کے لئے، ایک مختصر سے وقفے کے لئے نظر آئے تھے۔
اور اگر وہی ہو، جسے میں نے صدیوں اپنے دل کے نہاں خانے میں چھپائے رکھا تو میں وہی بن جاؤں ، جو تمہارے لئے دیوی تھی۔ تمہاری داسی تھی۔ تمہاری تھی اختر۔ صرف تمہاری!”۔۔۔
مگر اس کے دل کی یہ پکار، جذبات کی صدا کوئی بھی تو نہ سن سکتا تھا۔ کوئی بھی تو نہیں۔ اختر بھی نہیں !
جوں جوں وہ یادگار دن قریب آ رہا تھا جس کی خاطر طاہر نے اسے فرش سے عرش پر لا بٹھایا تھا۔ جس کے انتظار میں اس نے ہر پل سپنے دیکھے تھے۔ خواب سجائے تھے، توں توں وہ اداسی، یاسیت اور خاموشی کی گمبھیر وادیوں میں اترتی چلی جا رہی تھی۔
اس لئے کہ خوابوں کا شہزادہ وہ نہیں تھا جسے اس نے دھڑکن کی طرح دل میں چھپا رکھا تھا۔ تعبیر وہ نہیں تھی جو اس نے اپنے تصورات کے سہارے سوچ رکھی تھی۔ پھر اسے اپنی اس جذباتی غلطی، حالات سے گھبرا کر مایوسی کی باہوں میں پناہ لے لینے کے خوفناک گناہ پر پچھتاوا ہونے لگتا۔
کتنا بھیانک تھا اس ایک لمحے کی لرزش کا انجام، جو اس نے طاہر کی محبت کے سامنے سر جھکا کر کی تھی۔ وہ آج بھی اپنے خیالات میں اختر کو بسائے ہوئے تھی۔ اختر کو بھلا دینا اس کے بس میں نہیں تھا۔
اس کی زندگی، جیسے بہاروں بھرے گلشن میں تمام عمر کے لئے آگ میں جلنے جا رہی تھی۔ اور اسے یہ سب کچھ بہرحال سہنا تھا۔ رو کر یا ہنس کر۔
٭٭٭٭٭٭٭
” زاہدہ بیٹی۔ تم چھ بجے کے قریب ہاسپٹل چلی آنا۔ میں کار بھیج دوں گا۔ ”
"جی مگر ۔۔۔ ”
وہ شاید وجہ پوچھنا چاہتی تھی۔
"بیٹی۔ بیگم صاحبہ کا فون آیا تھا۔ وہ بھی آ رہی ہیں شام کو۔ وہ تمہیں اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاہتی ہیں۔ تمہاری پسند کی کچھ چیزیں خریدیں گی۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھیکے سے انداز میں مسکرادی۔ "جی بہتر۔ ”
"اللہ حافظ۔ ”
انہوں نے رابطہ ختم کر دیا۔ وہ کتنی ہی دیر تک بے جان، ٹوں ٹوں کرتے ریسور کو تھامے کھڑی جانے کیا سوچتی رہی۔
کلاک نے پانچ بجائے تو وہ چونک پڑی۔ آہستہ سے، ایک طویل، تھکی تھکی سانس لے کر پلٹی۔ اس کی بے چین نظریں بے اختیار اپنی کلائی پر بندھی خوبصورت سی رسٹ واچ پر جم گئیں جو اسے ڈاکٹر ہاشمی نے خرید کر دی تھی۔
پھر وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کر آنکھوں میں تیر جانے والے آبدار موتیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی صوفے پر اوندھی گر پڑی۔
سسکیاں کمرے کی خاموش اور اداس فضا کے بے جان بُت پر آہوں ، دبی دبی ہچکیوں اور بے قرار جذبات کے پھول نچھاور کرنے لگیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک بلکتی رہی۔
پھر ” ٹن” کی مخصوص آواز کے ساتھ کلاک نے وقت کے بوڑھے، متحرک، رعشہ زدہ سر پر پہلا ہتھوڑا کھینچ مارا تواسے یوں محسوس ہواجیسے یہ ضرب، یہ چوٹ اس کے دل پر لگی ہو۔ چھ بج چکے تھے۔
وہ اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور صوفے پر بیٹھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ اس کی خوبصورت، مدھ بھری آنکھیں سوجی سوجی نظر آ رہی تھیں۔
"سلام بی بی جی۔ ”
کچھ دیر بعد ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ڈرائیور دروازے میں کھڑا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔ ڈرائیور بھی اس کے پیچھے ہی باہر چلا آیا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ڈاکٹر ہاشمی کے چھوٹے سے ہاسپٹل کے کار پارک میں اتری۔ ڈرائیور کار کو آگے بڑھا لے گیا اور وہ سر جھکائے اندر کو چل دی۔
” تم آ گئیں بیٹی۔ آؤ۔ بیٹھو۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہا اور ہاتھ میں موجود ایکسرے کو روشنی کے ہالے میں لا کر غور سے دیکھنے لگی۔ قریب کھڑی نرس ان کی جانب منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
"اس میں تو کوئی گڑ بڑ نہیں ہے؟”
وہ ایکسرے کو میز پر رکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں بولے
” تم اس مریض کے کمرے میں چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ ”
"یس سر۔ ”
نرس تیزی سے باہر نکل گئی۔
زاہدہ سر جھکائے ناخن سے میز کی سطح کرید رہی تھی۔
"کیا بات ہے بیٹی۔ تم کچھ اداس ہو؟”
انہوں نے پوچھا۔
"جی۔۔۔ جی نہیں تو۔ ”
وہ پھیکے سے انداز میں بادل نخواستہ مسکرا دی۔
"ہوں۔ بیگم صاحبہ کے آنے میں تو ابھی کچھ دیر ہے۔ آؤ۔ تمہیں دکھائیں کہ ہم مریض کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ ”
وہ رسٹ واچ سے نگاہ ہٹا کر اٹھتے ہوئے مسکرائے۔
زاہدہ بے اختیار کھڑی ہو گئی۔ تنہائی میں اگر وہ پھر بے قابو ہو جاتی اور بیگم صاحبہ آ جاتیں تو؟یہی سوچ کر اس نے انکار مناسب نہ سمجھا اور ان کے پیچھے چلتی ہوئی کاریڈور میں نکل آئی۔
بایاں موڑ مڑتے ہی پہلا کمرہ ان کی منزل تھا۔ وہ ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت مریض کے بستر کے قریب کھڑی نرس ڈاکٹر ہاشمی کی جانب پلٹی۔
"سر۔ اسے ہوش آ رہا ہے۔ ”
پرے ہٹتے ہوئے اس نے ان راستہ دیا۔
ڈاکٹر ہاشمی تیزی سے بستر کے قریب چلے گئے اور جھک کر اس کا معائنہ کرنے لگے۔ زاہدہ بے مقصد ہی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
"اس کی والدہ کہاں گئیں ؟”
"جی۔ وہ اپنے ہسبینڈ کو فون کرنے گئی ہیں۔”
"ہوں۔ ”
وہ سیدھے کھڑے ہو گئے۔
تب۔۔۔ پے درپے کئی دھماکے ہوئے۔ روشنی اور اندھیرے کے ملے جلے جھماکے، جو اس کی آنکھوں کو چکا چوند کر گئی۔ ہر شے جیسے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
زمین لرزی۔ آسمان کانپا اور وہ لڑکھڑا گئی۔ اس کی حیرت زدہ، پھٹی پھٹی آنکھیں ، بستر پر پڑے اختر پر جمی تھیں۔ اس کے ہونٹوں سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
ڈاکٹر ہاشمی اس کی دگرگوں ہوتی حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئے۔
"بیٹی۔ کیا بات ہے؟”
وہ تیزی سے گرتی ہوئی زاہدہ کی جانب لپکے اور اسے باہوں میں سنبھال لیا۔ پھر ان کی بے چین آنکھوں نے زاہدہ کی حلقوں سے ابلتی، برستی آنکھوں کا محور پا لیا۔ وہ سن سے ہو گئی۔
"زا۔۔۔ ہدہ۔۔۔ ”
ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔
"اختر۔ ”
جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔
"زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟”
ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا
قسط نمبر : 4
ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔
"اختر۔ ”
جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔
"زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟”
ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا۔
"اخ۔۔۔ ”
آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔
"بیٹی۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی جیسے ہوش میں آ گئے۔ ان کی تحیر زدہ نظروں میں اب دردسا امنڈ آیا تھا۔
زاہدہ بت بنی کھڑی، روتی ہوئی آنکھوں سے سرسوں کے اس پھول کو دیکھے جا رہی تھی، جو شاید مرجھانے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش درد، اضطراب، کسک اور تڑپ کے رنگوں میں نئے نئے روپ دھار رہے تھے۔
نرس حیرت بھری نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ تب۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ کوئی سامنے چلا آیا۔
"زاہدہ۔ ”
حیرت اور یاس میں ڈوبی ایک آواز گونجی۔ چند لمحے حیرت، بے چینی اور آنکھوں کی دھندلاہٹ کی نظر ہو گئی۔ پھر کوئی تیزی سے آگے بڑھا اور اس سے ایک قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
"تم۔۔۔ تم کہاں تھیں بیٹی؟”
وہ چونک سے پڑی۔ حواس میں آ گئی۔ سنبھل گئی۔
” آپ؟”
اس کے لبوں سے مری مری آواز نکلی اور "بیٹی” کے لفظ نے اسے پھر حیرت سے گنگ کر دیا۔
"ہاں بیٹی۔ ”
چچی آنکھوں سے امنڈنے والے آنسوؤں کو رخساروں پر بہنے سے نہ روک سکیں۔
"میں۔ تمہاری مجرم۔ تمہاری گناہ گار۔ ”
وہ اس کانپتی ہوئی آواز سے ڈر سی گئی۔ لڑکھڑا گئی۔ تب کسی نے اسے سہار لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رخ پھیر لیا۔
"میرا بیٹا۔۔۔ مر رہا ہے بیٹی!”
ایک کراہ ابھری۔
وہ انہیں گھورتی رہی۔ اپنی بے رحم چچی کو۔
"اختر تمہارے لئے مر رہا ہے بیٹی۔ ”
وہ بمشکل بولیں۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔
"میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیٹی۔ ”
انہوں نے بوڑھے مگر سنگلاخ ہاتھ جوڑ دئیے۔
وہ پتھرائی ہوئی بے نور سی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہی۔
” زاہدہ۔ ”
ایک ماں کی کانپتی ہوئی آواز نے اسے چونکا دیا۔ مرجھاتے ہوئے گلاب کو خزاں کے جھونکے نے ہلکورا دیا۔
"تمہارا اختر مر۔۔۔ ”
ہچکیاں نامکمل رہ گئیں۔
"زاہدہ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟”
اختر کے ہونٹ کپکپائے۔
"اختر۔ ”
وہ مزید نہ سہہ سکی۔ بھاگی۔ لڑکھڑائی اور جا کر اس کے قریب کھڑی ہوگئی۔
"زاہدہ۔ ”
آواز میں زندگی عود کر آئی۔
"اختر۔ ”
وہ بیقراری سے بولی۔
"تم۔۔۔ ”
آواز میں درد کم ہوا۔
"میں یہاں ہوں اختر۔ تمہارے پاس۔ ”
وہ سسک اٹھی۔
"زاہدہ۔ ”
ایک، ہچکی ابھری اور۔۔۔ گردن ڈھلک گئی۔
"اختر۔۔۔ ”
ایک چیخ لہرائی۔
"یہ بے ہوش ہو چکا ہے بیٹی۔ ”
ایک اداس سی آواز نے اسے زندگی کی نوید دی۔
"اس کا کمزور دماغ اس ناممکن حقیقت کو سہہ نہیں سکا۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی کی افسردہ سی آواز ابھری۔
"اسے۔۔۔ ”
"زندگی دینے والا خدا ہے بیٹی۔ ”
انہوں نے زاہدہ کی بات کاٹ کر اسے بستر سے اٹھایا اور کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر سفید لباس میں ملبوس نرسوں کے ہمراہ ڈاکٹر ہاشمی نے اختر کے بستر کو گھیرے میں لے لیا۔
"تم نے مجھے معاف کر دیا بیٹی۔ ”
خود غرضی نے نیا روپ دھار لیا تھا۔
"چچی جان۔ ”
وہ ان سے لپٹ گئی۔
پچیس منٹ پچیس صدیاں بن کر گزری۔ پھر ڈاکٹر ہاشمی باہر چلے آئی۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔ نرسوں کا ٹولہ بھی کمرے سے نکل گیا۔
اب چچا بھی ان دونوں کے ساتھ تھے۔ نادم نادم سی۔ کھوئے کھوئے سے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بڑی یاس بھری نظروں سے اسے دیکھا اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گئے۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ چچی بھی اس کے پیچھے لپکی۔
"نہیں۔ ”
چچا نے چچی کو روک لیا اور وہ نجانے کیوں مسکرا دیں۔ مطمئن سی ہو کر۔
"اختر۔۔۔ ”
اندر وہ اس کے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔
"زاہدہ۔ ”
اس کی آنکھیں بھی جی بھر کر ارمان نکال رہی تھیں۔ وہ۔۔۔ نظریں جھکائے ڈاکٹر ہاشمی کے آفس میں داخل ہوئی۔
چچا اور چچی کے علاوہ وہاں ایک اور ایسی ہستی موجود تھی، جس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ وہ رک گئی۔ چلنے کی سکت ختم ہو گئی۔
اس نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ خاموشی۔ سناٹا۔ سکوت۔ ہر چہرہ اداس۔ ہر آنکھ نم۔ ہر وجود بے حس و حرکت۔ زاہدہ کی دھڑکن رکنے لگی۔ سانس گھٹنے لگی۔
یہ خاموشی، یہ سناٹا، یہ سکوت۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا طوفان گزر چکا ہو اور اپنے پیچھے اپنی تباہی و بربادی کے آثار چھوڑ گیا ہو۔
اس کی نظریں بیگم صاحبہ کی نظروں سے ٹکرائیں۔
کتنا درد تھا ان میں۔ ان بوڑھے چراغوں میں ، جہاں ممتا کی لاش ویرانی کا کفن اوڑھے پڑی تھی۔
وہ دبدبہ، وہ رعب، وہ کرختگی۔ کچھ بھی تو نہیں تھا وہاں۔ سب ختم ہو چکا تھا۔ سب راکھ ہو چکا تھا۔ اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ اس کا دل کسی انجانے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔
"زاہدہ۔ ”
ایک سرگوشی ابھری۔
اس نے پلکیں اٹھائیں۔ پتھر کے لبوں پر بڑی زخمی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
"ہمارے پاس آؤ۔ ”
جیسے کسی نے التجا کی ہو۔ وہ ان کی نم آنکھوں میں دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔ مسکراہٹ میں خون کی سرخی گہری ہو گئی۔ زخم کا منہ کچھ اور کھل گیا۔
"بیگم صاحبہ۔ ”
وہ بلکتی ہوئی ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔
انہوں نے پاؤں کھینچے نہیں۔ اسے روکا نہیں۔ اس کی زلفوں میں بوڑھے ہاتھ سے کنگھی کرتی رہیں۔ وہ کتنی ہی دیر ان مشفق قدموں سے لپٹی دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ پھر انہوں نے آہستہ سے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔
"منزل مبارک ہو بیٹی۔ ”
ان کے لب کپکپائے اور آنکھیں چھلک گئیں۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا۔ بھینچ لیا۔ کتنے ہی گرم گرم موتی ان کے رخساروں سے ٹوٹ کر زاہدہ کی سیاہ گھٹاؤں میں جذب ہو گئی۔ پھر جب انہوں نے اسے سینے سے الگ کیا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔
"ابو۔ ”
وہ پلٹ کر ڈاکٹر ہاشمی سے لپٹ گئی۔
"پگلی۔ ”
وہ اس کا شانہ تھپکتے ہوئے خود بھی بے قابو سے ہو گئے۔ "میں نے کہا تھا ناں۔ تو میری چند روز کی مہمان بیٹی ہے۔ ”
ایک باپ دکھی ہو رہا تھا۔
"ابو۔ ”
وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی۔
پھر اس سسکتی کلی کو، اس کے اپنی، ماضی کے دشمنوں اور حال کے دوستوں نے باہوں میں سمیٹ لیا۔ دامن میں بھر لیا۔
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
"جی بیگم صاحبہ۔ ”
وہ سر جھکائے آگے بڑھ آئی۔
"اختر کس حال میں ہے؟”
"یہ اسے گھر لے جا سکتے ہیں بیگم صاحبہ۔ مسیحا ان کے ساتھ ہے۔ ”
وہ ان کی بات کے جواب میں آہستہ سے بولے۔
بیگم صاحبہ نے اختر کے والدین کی جانب بڑی یاس بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ سمجھ گئی۔ بڑے اداس تھے وہ بھی۔ شاید بیٹے کی حالت نے ان کا سارا زہر نکال دیا تھا۔
"ہم کس طرح آپ کا شکریہ۔۔۔ ”
"کوئی ضرورت نہیں۔ ہم بھی ایک بیٹے کی ماں ہیں۔”
بیگم صاحبہ نے بڑی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
"بس ایک کرم کیجئے ہم پر۔ ”
"جی۔ آپ حکم کیجئے۔ ”
چچا کی آواز میں ممنونیت کا دریا بہہ رہا تھا۔
"جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سے رخصت ہو جائے۔ طاہر ادھر نکل آیا تو ہم اپنے آپ میں نہ رہ سکیں گے۔”
"جی۔ ”
چچا اور چچی کے چہروں پر دھواں سا پھیلا جبکہ زاہدہ سرسوں کے پھول جیسی زرد ہو گئی۔
ان سب کے سر جھک گئے۔ احسان کے بوجھ سے۔ پھر وہ رخصت ہونے کے لئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
"زاہدہ۔ ”
ایک آواز پر وہ رک گئی۔ پلٹی اور بیگم صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے قدم اٹھی۔ وہ ان کے قریب چلی آئی۔
"ہاتھ لاؤ۔ ”
اور بے ساختہ زاہدہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں چلا گیا۔
"اس پر تمہارا ہی حق تھا۔ ”
ایک ہیرا اس کی انگلی میں جڑ دیا گیا۔
اس کے ہونٹ لرزے۔ ہاتھ کی مٹھی بھنچ گئی اور پلکوں کے گوشے پھر نم ہو گئی۔
"نہیں۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ ”
ان کے ہونٹوں پر پھر ایک خون رستی مسکراہٹ تیر گئی۔
وہ بے قابو سی ہو کر پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
وقت تھم سا گیا!
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
ایک شعلہ لرزا۔
"جی بیگم صاحبہ۔ ”
لو تھرتھرائی۔
"یہ تھا وہ خوف جو ہمیں طاہر اور زاہدہ کے ملاپ سے روکتا تھا۔ ہم جانتے تھے پہلی محبت کبھی بھی زاہدہ کے دل سے نکل نہیں سکے گی۔ اختر کا خیال اسے کبھی بھی طاہر میں پوری طرح مدغم نہ ہونے دے گا۔ اور ڈاکٹر ہاشمی۔
یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے ناں کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اس لباس میں کسی اور کا پیوند لباس کو لباس نہیں رہنے دیتا، چیتھڑا بنا دیتا ہے اور طاہر چیتھڑے پہن کر زندگی گزار سکتا ہے کیا؟”
جواب میں ڈاکٹر ہاشمی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ بیگم صاحبہ کا اندیشہ کتنی جلدی حقیقت بن کر سامنے آ گیا تھا، وہ اس سوچ میں ڈوب گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
کار کا انجن آخری مرتبہ کھانسا اور بے دم ہو گیا۔ وہ ڈیش بورڈ پر پڑا گفٹ پیک سنبھالتا باہر نکل آیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔
کوٹھی دلہن بنی ہوئی تھی۔ بڑی حسین اور امنگوں بھری مسکراہٹ لبوں پر لئے دھیمے سروں میں کوئی پیارا سا گیت گنگناتا وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ دبے پاؤں اندر داخل ہوا۔
"امی آج بھی کوئی نئی خریدی ہوئی چیز آگے رکھے میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔ ”
اس نے سوچا اور بڑے دلکش خیالات میں گم اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
"امی۔ آپ۔۔۔ ؟”
وہ کھڑکی کے کھلے پٹ کا سہارا لئے کھڑی دور کہیں اندھیرے میں گھورتی بیگم صاحبہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ خاموش، اسی انداز میں کھڑی رہیں۔
"اس سردی میں۔ اس وقت تک آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟”
وہ ان کے قریب چلا آیا۔ بیگم صاحبہ بدستور چپ رہیں۔
” آپ بولتی کیوں نہیں امی؟”
وہ گھبرا سا گیا۔
تب وہ آہستہ سے پلٹیں اور اس کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا۔ سوجی سوجی آنکھیں ، جن میں کبھی بھوری چٹانوں کی سی سختی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا تھا۔
زرد رنگت جو ہمیشہ وقار اور دبدبے کے بوجھ سے ابلتے ہوئے خون کی چغلی کھاتی تھی۔ کملایا ہوا چہرہ، جس پر پہاڑوں کے عزم اور آسمانوں کی سی عظمت کے سوا کبھی کچھ نہ ابھرا تھا۔
"امی۔ ”
کسی انجانے حادثے کی وہ منہ بولتی تصویراس کا صبر و قرار چھین لے گئی۔
"کیا بات ہے امی ؟”
وہ تڑپ اٹھا۔
وہ بڑی درد بھری نظروں سے اس کے معصوم سے خوفزدہ چہرے کو گھورتی رہیں۔
"بولئے امی۔ آپ بولتی کیوں نہیں ؟”
وہ بے پناہ بے قراری سے بولا۔
انہوں نے سر جھکا کر رخ پھیرتے ہوئے قدم آگے بڑھا دئیے۔
"امی۔ ”
وہ تیزی سے ان کے سامنے چلا آیا۔
” آپ کو میری قسم امی۔ ”
انہوں نے بڑے کرب سے پلکیں بھینچ لیں۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ وہ گنگ سا کھڑا ان کی طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔
"زاہدہ۔۔۔ ”
ایک سسکی ان کے کانپتے لبوں سے آزاد ہو گئی۔
"کیا ہوا اسے؟”
وہ بے چینی سے بولا۔
"چلی گئی۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی کی آواز، اس کی سماعت کے لئے تو بہ شکن دھماکہ ثابت ہوئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔
گفٹ پیک اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر چمکدار فرش پر آ رہا۔ سنگ مر مر کا خوبصورت اور بے داغ تاج محل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بکھر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے منہ پھیرے کھڑی بیگم صاحبہ اور سرجھکائے ڈاکٹر ہاشمی کو گھورتا رہ گیا۔
کتنی ہی دیر۔۔۔ ہاں کتنی ہی دیر اس اذیت ناک خاموشی کے قبرستان میں ارمانوں کے مزار پر کھڑے گزر گئی۔ بجھتے چراغوں کا دھواں نظروں کی دھندلا ہٹ میں بدل گیا۔
"چلی گئی۔۔۔ ؟”
ایک سپاٹ، جذبات سے عاری، دھیمی سی صدا ابھری۔
جھکے ہوئے سر اٹھے۔
"بیٹے۔ ”
بیگم صاحبہ کا دل جیسے پھٹ گیا۔
"اور آپ اسے روک بھی نہ سکیں۔ ”
اس کا لہجہ درد سے پُر تھا۔ بیگم صاحبہ نے تڑپ کر پھر رخ پھیر لیا۔
"وہ کیوں چلی گئی امی؟”
وہ بچوں کی طرح سوال کر بیٹھا۔
"ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
بیگم صاحبہ نے سسک کر صوفے کا سہارا لے لیا۔
"اسے بتائیے ڈاکٹر ہاشمی، وہ کیوں چلی گئی۔ ”
ان کی آواز بھیگ گئی۔
"میں جواب آپ سے چاہتا ہوں امی۔ ”
وہ جیسے کرب سے چیخ اٹھا۔ تڑپ کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
"جواب دیجئے۔ وہ کیوں چلی گئی۔ کہاں چلی گئی۔ کس کے ساتھ چلی گئی؟”
وہ ان کو جھنجھوڑتا ہوا چیخ اٹھا۔
"اختر موت کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اسے جانا پڑا۔ ”
"اختر کا گھر اس کی منزل تھا۔ وہ وہیں لوٹ گئی۔ ”
"اختر اس کی محبت ہے۔ اسی کے ساتھ چلی گئی۔ ”
"نہیں نہیں نہیں۔ ”
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے چیخ اٹھا۔
نہ جانے کس ضبط سے اس نے اپنے دل کا خون رخساروں پر چھلکنے سے روکا۔ اس کی آنکھیں کتنی ہی دیر بھنچی رہیں ، جیسے اسے زہر کے تلخ اور کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنا پڑے ہوں۔ جیسے وہ زہر اس کے جسم کی ہر رگ کو کاٹ رہا ہو۔
اس کے ہاتھ مضبوطی سے کانوں پر جمے رہی۔ جیسے اب وہ کچھ سننے کی تاب نہ رکھتا ہو۔ جیسے اب اگر ایک لفظ بھی اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرایا تو وہ ہمیشہ کے لئے سماعت سے محروم ہو جائے گا۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا۔
بیگم صاحبہ دل کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے صوفے پر بیٹھتی چلی گئیں۔ کھڑے ہونے کی سکت ہی کہاں رہ گئی تھی ان میں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے چہرے پر ابھر آنے والے کرب کو رخ پھیر کر چھپاتے ہوئے صوفے کی پشت کا سہارا لے لیا
لیکن وہ ہر ایک سے بے نیاز، دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کے لرزتے ہوئے بے جان، بے سکت ہاتھ ٹوٹے ہوئے، بکھرے پڑے تاج محل کے ٹکڑوں سے ٹکرائی۔
"تو کیا تاج محل صرف چاندنی راتوں ہی میں محبت کی کہانیاں سنتا ہے۔ اندھیری راتوں میں یہ خود بھی بکھر ا رہتا ہے کیا؟”وہ مر مر کے بے جان ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا۔
دھیرے دھیرے اس نے تمام ٹکڑوں کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا۔ آہستہ سے اٹھا اور ہولے ہولے چلتا ہوا اوپر جانے والی سیڑھیوں کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
"طاہر۔ "بیگم صاحبہ کی غمزدہ آواز نے اس کے قدم روک لئے لیکن وہ پلٹا نہیں۔
ایک لمحے کا وقت معنی خیز خاموشی میں بیت گیا۔
"گھبرائیے نہیں امی۔ ابھی دل دھڑک رہا ہے۔ لاشیں بے گور و کفن بھی تو پڑی رہتی ہیں۔ "وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ شبِ پُر نم کی زلفیں کھلتی چلی گئیں۔ شبنم گرتی رہی۔ اور خزاں کا کہر ہر سو پھیلتا چلا گیا۔ پھیلتا چلا گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سمور کے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے دوسرے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ سنبھالے وہ گنگناتی ہوئی آفس میں داخل ہوئی۔ ہر سو ایک بے نام اور خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔ ہر شخص سرجھکائے اپنے کام میں مشغول تھا۔
اس کے خوبصورت ہونٹ ساکت ہو گئے۔ بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی ہلکی الجھن تیرنے لگی۔ ہر وقت قہقہوں میں ڈوبا رہنے والا آفس اداسی میں تہہ نشین تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔ رجسٹر پر جھکی نجمہ اس کے قدموں کی آہٹ پر چونکی۔
"اوہ۔ امبر۔۔۔ "وہ اس کی جانب دیکھ کر آہستہ سے مسکرائی۔
سر کے اشارے سے سب سے سلام لیتے اور دیتے ہوئے وہ اس کی میز کے قریب پہنچ گئی۔
"کیا بات ہے بھئی۔ آج گلشن اداس ہے۔ "وہ اس کی میز پر بیٹھ گئی۔
” آج باس اداس ہیں۔ "نجمہ دھیرے سے بولی۔
"اداس۔۔۔ ؟” وہ چونک پڑی۔
"ہاں۔ ”
"مگر کیوں ؟”
"کوئی نہیں جانتا۔ بس۔ صبح خاموشی سے آئی۔ کسی سے سلام لیا نہ کسی سے بات کی۔ سیدھے آفس میں چلے گئے۔ اب تک وہیں بند ہیں۔ ”
امبر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ نجمہ اپنا کام نبٹانے لگی۔
"اچھا۔ میں مل کر آتی ہوں۔ یہ کارڈ آ گئے ہیں۔ یہ دے آؤں۔ شاید کچھ وجہ بھی معلوم ہو جائے اس بے وقت اداسی کی۔ کچ دن بعد تو ان کی شادی ہے۔ ”
"ہاں۔ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ان کی چہیتی ہو ناں۔ ” نجمہ شرارت سے بولی۔
"تم جلا کرو۔ "وہ پیکٹ ہاتھ میں لئے مسکراتی ہوئی چل دی۔ سب کی نظریں پل بھر کو اٹھیں اور جھک گئیں۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔ وہ چونکا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دروازے سے اندر داخل ہوتی ہوئی امبر پر جم گئیں۔
"مارننگ سر۔ "اس نے مخصوص لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اس کا نرم و نازک ہاتھ ماتھے پر پہنچ گیا۔
"مارننگ۔ ” وہ جیسے بڑبڑایا۔
وہ پل بھر کو ٹھٹکی۔ پھر ہولے ہولے مسکراتی ہوئی اس کی میز کے قریب چلی آئی۔
"لیجئے سر۔ آپ کے میریج کارڈ۔۔۔ "وہ پیکٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے میز کے کونے سے ٹک گئی۔
اس کی حالت ایک دم بدل گئی۔ چہرے پر زردی اور سرخ آنکھوں میں بے چینی سی پھیل گئی مگر پھر فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔
"کیا بات ہے سر۔ آپ رات ٹھیک سے سوئے نہیں کیا؟”وہ گہری نظروں سے اس کی بدلتی ہوئی حالت اور سرخ سرخ آنکھوں کو پرکھتے ہوئے دھیرے سے سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔
” آں۔۔۔ نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ” وہ جیسے بڑے درد سے بادل نخواستہ مسکرایا۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ اس نے کارڈز کا پیکٹ چھو کر بھی نہ دیکھا۔
"سر۔ "وہ ڈر سی گئی۔ اس کا معصوم دل دھڑک اٹھا۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہ کسی چیز کو پوشیدہ رکھنے کی سعی ہے۔ وہ بچی نہیں تھی۔ یہ کسی المیے ہی کی نشانی ہے۔ اس نے سوچا۔
” آں۔۔۔ ” اس نے سر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔
"سر۔ مجھے لسٹ دے دیجئے۔ میں نام ٹائپ کر دوں۔ ” وہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پریشانی کی وجہ پوچھتے پوچھتے رہ گئی۔
جواب میں اس کے ہونٹوں پر، خشک ہونٹوں پر بڑی کرب انگیز مسکراہٹ تیر گئی۔
"سر۔ آپ کچھ پریشان ہیں ؟”وہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس سے نظریں چرا گئی۔
"ہاں۔ بہت پریشان ہوں امبر۔ "وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔
"مجھے بتائیے سر۔ شاید میں آپ کے کچھ کام آ سکوں۔ "وہ بے تابی سے بولی۔
"تم۔۔۔ ؟” وہ خالی خالی نظروں سے اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ "ہاں۔ تم میری پریشانی کا خاتمہ کر سکتی ہو۔ "اس کا لہجہ اب بھی ویران ویران سا تھا۔
"کہئے سر۔ "وہ کچھ اور بے چین ہو گئی۔
اس کی نظریں پیکٹ میں بندھے کارڈوں پر جم گئیں۔ "امبر۔ یہ کارڈ ہیں نا۔۔۔ ” وہ ان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
"یس سر۔ ” وہ حیران سی ہو گئی۔
"ان کو۔۔۔ ان کو آگ لگا دو امبر۔ "وہ اسی خالی خالی سپاٹ آواز میں بولا۔
امبر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
"امبر۔ انہیں جلا کر راکھ کر دو۔ شعلوں میں پھینک دو۔ "وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ "یہ۔۔۔ یہ مجھے راس نہیں آئے امبر۔ انہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کوئی حق نہیں امبر۔ ” وہ پیکٹ پر جھپٹ پڑا۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد فرش پر ہر سو کارڈز کے پرزے پھیل گئی۔ امبر حیرت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب کچھ دیکھتی رہی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت دم توڑ گئی۔
"یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟” وہ سوچتی رہی۔ اور وہ فرش پر بکھرے ان بے جان پرزوں کو ویران ویران، سرخ سرخ شب بیدار آنکھوں سے تکتا رہا۔
"بیٹھ جاؤ امبر۔ کھڑی کیوں ہو؟” وہ تھکے تھکے لہجے میں بولا۔
وہ کسی بے جان مشین کی طرح کرسی پر گر گئی۔ اس کی نظریں اب بھی طاہر کے ستے ہوئے چہرے پر جمی تھیں۔
"سر۔ "کتنی ہی دیر بعد دھیرے سے اس نے کہا۔ طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔ "یہ سب کیسے ہوا سر؟ کیوں ہوا؟”اس کی آواز بے پناہ اداسی لئے ہوئے تھی۔
"پگلی۔ ” وہ بڑے کرب سے ہنسا۔
"سر۔ وہ تو آپ کے ساتھ۔۔۔ ”
” کچھ دن بعد شادی کرنے والی تھی۔ "اس نے امبر کی بات کاٹ دی۔
"جی سر۔ اور پھر یہ انکار۔۔۔ ”
"وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی امبر۔ "وہ مسکرایا۔ بڑے عجیب سے انداز میں۔
"سر۔۔۔ ”
"ہاں امبر۔ اس کا محبوب موت کی دہلیز پر کھڑا اسے پکار رہا تھا۔ وہ زندگی بن کر اس کے پاس واپس لوٹ گئی۔ ”
"اور آپ۔۔۔ ؟ "وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
"ابھی تک زندہ ہوں۔ نہ جانے کیوں ؟” وہ پھر مسکرایا۔
اور نہ جانے کیوں امبر کا جی چاہا۔ وہ رو دے۔ لاکھ ضبط کے باوجود اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔
"اری۔۔۔ ” وہ اسے حیرت سے دیکھ کر بولا۔ اٹھ کھڑا ہوا۔ "تم رو رہی ہو۔ "پگلی۔ تم سن کر رو دیں۔ میں تو سہہ کر بھی خاموش رہا۔ ”
"سر۔ آپ ہمارے لئے کیا ہیں ؟ آپ نہیں جانتی۔ آپ کی ذرا سی خاموشی اور اداسی نے سارے آفس پر موت کا سا سناٹا طاری کر دیا ہے۔ کیوں ؟ کیوں سر؟” وہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
"امبر۔ ” وہ اس کی کانپتی آواز کے زیر و بم میں کھو کر رہ گیا۔
"صرف اس لئے سر کہ آپ۔۔۔ آپ اس آفس کے چپڑاسی سے لے کر مینجر تک کے لئے کسی دیوتا سے کم نہیں ہیں۔ پُر خلوص، بے لوث، بے پناہ محبت کرنے والا دیوتا۔ آپ نے اپنے آفس میں ان بیروزگاروں کو، اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے واحد سہاروں کو اس وقت پناہ دی، جب وہ مایوسی کی باہوں میں سما جانے کا فیصلہ کر چکے تھی۔ وہ آپ کے دکھ درد، آپ کی مسرت کو آپ سے زیادہ محسوس کرتے ہیں سر۔ آپ اداس ہوں تو اس چھوٹے سے گلستاں کا ہر باسی مرجھا جاتا ہے۔ آپ خوش ہوں تو ان کی زندگی میں بہار رقصاں ہو جاتی ہے۔ یہ سب آپ کے سہاری، آپ کی مسکراہٹوں کے سہارے جیتے ہیں سر۔ آپ پر اتنا بڑا حادثہ اتنا بڑا سانحہ گزر جائے اور ہم پتھر بنے، مرجھائے ہوئے بے حس پھولوں کی طرح آپ کو تکتے رہیں۔ کیسے سر؟ ہم یہ کیسے کریں ؟”
"چپ ہو جاؤ امبر۔ چپ ہو جاؤ۔ "اس نے گھبرا کر کہا۔ "میں۔۔۔ میں تو پاگل تھا۔ دیوانہ تھا۔ مجھے ایک فرد کی محبت نے، ایک تھوڑی سی محبت نے، اتنی ڈھیر ساری محبت، اتنے بہت سوں کے پیار سے پل بھر میں ، کتنی دور پہنچا دیا۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تم لوگ مجھے اتنا چاہتے ہو۔ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہو۔ بخدا امبر۔ میں اب بالکل اداس نہیں ہوں۔ بالکل پریشان نہیں ہوں۔ میں۔۔۔ میں تو مسکرا رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ میرے اتنے سارے اپنے ہیں۔ ایک بیگانہ چلا گیا تو کیا ہوا ؟ کیا ہوا امبر؟ کچھ بھی تو نہیں ؟ پھر میں کیوں اداس رہوں ؟ میں کیوں افسوس کروں۔ دیکھو۔ میں مسکرارہا ہوں امبر۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ میں ہنس رہا ہوں امبر۔ دیکھو۔ ہا ہاہا۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہا۔ ہا۔ ہا۔ ہاہا۔ "اس کی آواز بھرا گئی اور وہ پاگلوں کی طرح رقت آمیز انداز میں ہنستا چلا گیا۔ بالکل دیوانوں کی مانند۔ پھر جب مزید قہقہے لگانے کی سکت ہی نہ رہی تو اس کی آواز دھیمی ہوتے ہوتے بالکل رک گئی۔ امبر نے دیکھا۔ اس کے لب اب بھی مسکراہٹ کے انداز میں وا تھے اور آنکھوں کی نمی چھلکنے کو تھی۔
"سر۔ ” اس کی آواز تھرا گئی۔ "دکھ بھرے قہقہوں سے دل کے زخم بھرنے کی بجائے کچھ اور کھل جایا کرتے ہیں۔ "وہ پلٹ کر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ باہر جمع ہجوم اسے روک نہ سکا۔ وہ دوڑتی ہوئی آفس سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭٭٭٭
راستہ طویل نہ تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بے تحاشا لپک کر منزل کا دامن تھام لیتا۔
انتظار۔۔۔ ہاں اسے انتظار کرنا تھا۔
ابھی تو اسے منزل، سوئی سوئی منزل، بے خبر منزل کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اسے اپنا مسافر بھی تسلیم کرتی ہے یا نہیں ؟ ابھی تو یہ سب خواب تھی۔ سراب تھی۔
اس نے کتنی ہی مرتبہ کوشش کی اور کئی باراس کی زبان پر آ کر دل کی بات رک گئی۔ وہ مضطرب سا ہو جاتا۔ پہلو بدل کر رہ جاتا۔ بے چینی اس کے رگ و پے میں بجلی بن کر سرایت کر جاتی مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ جذبات بے زبان حیوان کی طرح سرکشی پر اترتے رہی۔ احساس چوٹ کھائے ہوئے پرندے کی مانند پھڑپھڑاتا رہا۔ بہار، خزاں کے قفس میں سر ٹکراتی رہی لیکن کب تک؟ آخر وہ لمحہ بھی آیا جب یہ سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اذیت کی تپش اسے ہر پل، ہر گھڑی، خشک لکڑی کی طرح جلانے لگی۔ وہ کسی ویرانے میں سلگتی ہوئی اس شمع کی طرح پگھلنے لگا، جس کا کوئی پروانہ نہ تھا۔
شمع، پروانے کو جلائے بغیر خود جلتی رہی۔ پگھلتی رہی۔ یہ وہ کب گوارا کر سکتی ہے؟یہی اس کے ساتھ ہوا۔ ضبط انتہا کو پہنچ کر دم توڑ گیا۔ پیمانہ لبریز ہوا اور چھلک پڑا۔
"میں آج امبر کوسب کچھ بتا دوں گا۔۔۔ سب کچھ۔ "وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
"صاحب۔ ناشتے پر بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ ” سیف نے اسے چونکا دیا۔
"تم چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ "اس نے بستر سے نکلتے ہوئے کہا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔ ناشتہ خاموشی سے کیا گیا۔ ملازم نے میز صاف کر دی۔ وہ اخبار دیکھنے لگا۔
بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ ان کا داہنا ہاتھ سامنے پڑے سفید لفافے سے کھیلنے میں مصروف تھا۔
"اوہ۔ دس بج گئے۔ "وہ اخبار رکھ کر رسٹ واچ پر نظریں دوڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
"بیٹھ جاؤ۔ ” بیگم صاحبہ کی دھیمی سی آواز نے اسے بے ساختہ پھر بٹھا دیا۔ ان کی سوچ زدہ آنکھوں میں سنجیدگی کروٹیں لے رہی تھی۔ اس کا دل بے طرح سے دھڑک اٹھا۔ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
"جی امی۔ "اس نے خاموشی کا دامن چاک کیا۔
"بیٹے۔ ” اداس سی آواز ابھری۔ "ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کا دامن چھوڑنے سے پہلے تمہیں زندگی کی خوشیوں میں کھیلتے دیکھ لیں۔ اب ہم مزید پتھر کی یہ سل اپنے دل پر برداشت نہ کر سکیں گے۔ ”
وہ سر جھکائے ناخنوں سے میز کی سطح کریدتا رہا۔
"زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں بیٹے لیکن اس لئے نہیں کہ انسان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے بلکہ اس لئے کہ اگلے امتحان میں پچھلی ناکامی کی کسر بھی نکال دی۔ ایک تمنا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان آرزو کرنا ہی چھوڑ دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سنبھلنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوتا ہے، ہم اس سے بہت زیادہ وقت تمہیں دے چکے ہیں۔ ہر ماں کی طرح ہماری بھی تمنا ہے کہ ہم اپنے بیٹے کے پہلو میں چاند سی بہو دیکھیں۔ ” وہ ایک لمحے کو رکیں۔
اس کا جھکا ہوا سر تب بھی جھکا ہی رہا۔
"کئی ایک گھروں سے رشتے آئے ہیں۔ ہم نے ابھی کسی کو جواب نہیں دیا۔ صرف تمہاری خاطر۔ ”
تب اس نے دھیرے سے چہرہ اوپر اٹھایا۔ تھوڑا تھوڑا مضطرب لگ رہا تھا وہ۔
"ہم تمہیں فیصلے سے پہلے انتخاب اور پسند کا پورا پورا موقع دیں گے۔ ” انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے سامنے پڑا لفافہ اس کی جانب سرکادیا۔ "اس میں کچھ تصویریں ہیں۔ زاہدہ کی چچا زاد بہن نرگس کی بھی۔ ” وہ معنی خیز لہجے میں بولیں۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
"وہ خاص طور پر اس رشتے کے خواہش مند ہیں۔ لڑکی چند ہی روز پہلے انگلینڈ سے واپس آئی ہے مگر اس پر مشرقی اقدار پوری طرح حاوی ہیں۔ ”
"مگر میں۔۔۔ ”
"شادی نہیں کرنا چاہتا۔ "تلخی سے کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ "یہی جواب ہے ناں تمہارا۔ ”
"جی نہیں۔ میں نے یہ کب کہا۔ ”
"تو پھر ؟” وہ حیرت سے بولیں۔
"کیا ضروری ہے کہ ان ہی میں سے اور پھر خاص طور پر نرگس ہی سی۔۔۔ ”
"ہم سمجھتے ہیں بیٹے لیکن ہم نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہی۔ نرگس واقعی گلِ نرگس ہے۔ زاہدہ اور اس لفافے میں موجود کوئی بھی لڑکی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ ”
"لیکن۔۔۔ ”
"کہیں تم کسی اور کو تو۔۔۔ ”
"یہ بات نہیں ہے امی۔ "وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے پھر بے چین سا ہو گیا۔
"دیکھو بیٹی۔ تم کیوں یہ چاہتے ہو کہ تم محبت کی شادی کرو۔ کیا ضروری ہے کہ جس سے تم شادی کرو وہ شادی سے پہلے تم سے محبت کرے۔ ” وہ کھل کر کہہ گئیں۔
"میں نے ایسا کب کہا امی۔ ” اس کی آواز دب سی گئی۔
"پھر کیا تم یہ چاہتے ہو کہ شادی سے پہلے تم اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ محبت کے چار دن ضرور گزارو۔ ”
” ایسی بھی میری کوئی شرط نہیں ہے امی۔ ”
"تو پھر تم چاہتے کیا ہو؟”ان کی آواز میں تلخی ابھر آئی۔
"امی۔ ” اس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔ "میں نے ایک زخم کھایا ہے۔ ایسی لڑکی کو چن لیا جو پہلے ہی کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ اب میں ایسے کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں مجھے جو لڑکی بیوی کے روپ میں ملے وہ صرف میری ہو، ہر طرح سی۔ اس کے خیالوں پر، اس کی سوچ پر میرے سوا کسی اور کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہو۔ ”
” شریف گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بیٹی۔ اور یہ سب تصویریں شرفا کی بیٹیوں ہی کی ہیں۔ ”
"زاہدہ بھی تو شریف گھرانے ہی سے تعلق رکھتی تھی امی۔ ”
"بیٹی۔ ” وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولیں۔ "محبت ایسا جذبہ ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ زاہدہ نے اگر ایسا کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہاری جلد بازی اور میری ممتا نے مل کر ایک ایسی غلطی کو جنم دیاجس کا خمیازہ ہم دونوں کو بھگتنا پڑا۔ ”
"یعنی۔۔۔ ؟” اس نے سوالیہ انداز میں ماں کی جانب دیکھا۔
"ہمیں پہلے زاہدہ کے بارے میں پوری چھان بین کرنی چاہئے تھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ وہ لڑکی دھوکے باز نہیں تھی ورنہ اگر وہ کوئی چالباز ہوتی اور واردات کی نیت سے آئی ہوتی تو ہم اس کے چکر میں پھنس کر اب تک مال اور عزت دونوں گنوا چکے ہوتے۔ ”
"تو اب آپ جس لڑکی سے بھی میری شادی کرانا چاہتی ہیں اس کے بارے میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ انوالو نہیں رہی؟”
بات چیت بڑی کھل کھلا کر ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ اپنے مزاج کے خلاف اس صورتحال کا بڑے حوصلے اور برداشت کے ساتھ سامنا کر رہی تھیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات کو کسی منطقی انجام تک لے جانا چاہتی تھیں۔
"تم اگر چاہو تو جس لڑکی کو پسند کرو، اس کے ساتھ تمہاری ملاقات کرائی جا سکتی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لو، سمجھ لو۔ پھر کسی فیصلے پر پہنچ سکو، اس کا یہ بہت اچھا راستہ ہے۔ ”
"اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ لڑکی ہمارے امیر گھرانے میں شادی کے لئے مجھ سے اپنا ماضی نہیں چھپائے گی۔ جھوٹ نہیں بولے گی۔ ”
"اب وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا بیٹی۔ تم ایک ہی چوٹ کھا کر تمام طبیبوں سے بد ظن ہو گئے ہو۔ اس طرح تو زندگی نہیں گزر سکتی۔ ”
"اور پھر ایک آدھ ملاقات میں ہم ایک دوسرے کو کیسے مکمل طور پر جان لیں گے۔ ”
"تو کیا اب سالوں کے سال چاہئیں تمہیں بیوی منتخب کرنے کے لئے؟تم کھل کر کیوں نہیں کہتے، جو تمہارے دل میں ہے؟”وہ جھنجھلا گئیں۔
"میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” اس کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔
"کسی کو پسند کر چکے ہو کیا؟” وہ اس کی جانب غور سے دیکھ کر بولیں۔
"جی۔۔۔ جی ہاں۔ "سرگوشی سی ابھری۔ وہ جوتے کی ٹو سے فرش کریدنے لگا۔
"ہوں۔ کون ہے وہ؟”ان کے لہجے سے کچھ بیزاری، ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭
جاری ہے


