ڈاکٹر عمرانہ مشتاقکالم
چوہدری رحمت علی نقاشِ پاکستان : ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
مارا دیارِ غیر میں مجھ کو وطن سے دور
رکھ لی مرے خدا نے مری بے کسی کی لاج
چوہدری رحمت علی کا نام ہمارے نصاب تعلیم میں ایک قومی ہیرو کے طور پر فراموش کرنے کی سازش ان کی ذات سے بغض و کینہ رکھنے والے صرف کسی ایک فرد کی ہو سکتی ہے۔ ان کے دیارِ غیر میں قیام اور نام کے لیے شبانہ روز کاوشوں سے کوئی بھی ذی شعور انسان صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ وہ لاہور کے ایچ۔ ای۔ سن کالج میں ایک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ دیارِ غیر میں دلبرداشتہ ہو کر خود ساختہ جلاوطنی کے ایام کے دوران برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی اور ان کے لیے الگ وطن کا خطہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہوئے تھے۔قیامت میں قیامت کا انداز، بھاری بھرکم جسم، آواز میں بے باکانہ بلندی اور ایک دانشور کی حکمت عملی سے پوری طرح متصف تھے۔
انگلینڈ جانے سے کچھ عرصہ پہلے وہ ڈیرہ غازی خان کے نواب مزاری کے ذاتی معتمد بھی رہے تھے۔ ان کے دیوانی اور فوجداری مقدمات کی پیروی میں چوہدری صاحب کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ 1932ء میں انہیں خیال آیا کہ میں کیوں نہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے عازمِ لندن ہوجائوں، اور وہاں کی تعلیمی درسگاہوں میں مزید تعلیم کے لیے داخل ہو جائوں۔ چوہدری رحمت علی انگلستان کے لیے روانہ ہوئے تو احباب نے ان کے اعزاز میں ایک مقامی ریسٹورنٹ پورنگ میں ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا، جس کے میزبان خاص ڈاکٹر یار محمد خاں مرحوم تھے۔
آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں بیرسٹری کی تعلیم کے حصول کے لیے لندن جا رہا ہوں، آپ میرے لیے دعا کریں۔ چوہدری رحمت علی احباب کی بزم سے دبے پائوں نکل گئے اور ایک طویل عرصہ تک ان کے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ اچانک ایک پمفلٹ اس دور میں کسی لائبریری میں دیکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ کیمرج سے چوہدری رحمت علی نے ایک تحریک شروع کی ہے اور اس پمفلٹ میں ان کا اندازواسلوب وطن کچھ یوں تھا:
پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کو ملا کر ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھنے کا بلیغ عندیہ دیا اور یہ خیال چوہدری رحمت علی کے دماغ میں پہلے سے ہی موجود تھا۔ اس خیالی اور فرضی نقشے میں پاکستان کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی تھی۔ قومی وطن کا مطالبہ سب سے پہلے جس قومی ہیرو نے دیا وہ چوہدری رحمت علی تھے۔
جنہیں دیارِ غیر میں کسمپرسی کے عالم میں زندگی کے آخری ایام گزارنے پڑے، یہاں تک کہ آپ کے مرنے کے بعد کفن دفن کا انتظام عمانوبل کالج نے کیا تھا۔ ان کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی جس سے وہ اپنے آخری ایام کی حالتِ زار کو سنبھالا دے سکتے۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر عموماً ایسے شعر کا اطلاق ان کی حقیقی تصویر کشی کی طرف بلیغ پیغام کا ایک گراں مایہ باب معلوم ہوتا ہے۔
آج ان کی ذات پر تنقید کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ کتنا بڑا انسان تھا جو وطن عزیز کے حصول کے لیے اپنی سوچوں کے زاوئیے ہمارے مستقبل پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔ جن لوگوں نے لندن میں چوہدری رحمت علی کو پاکستان کے نقشے بناتے دیکھا ہے ان میں ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی مرحوم ان کے بے پناہ مداح تھے۔
انہوں نے حکومت پنجاب سے ایک مربع زمین پر رحمت علی ٹرسٹ کی بنیاد رکھنے کے لیے زمین لی۔ ہسپتال ، مسجد، لائبریری، سکول، کالج اور یونیورسٹی تک کے منصوبے اس میں شامل تھے۔ ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی مرحوم کے بعد ان کے مشن کو بھی تجارتی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے لاکھوں روپے کمائے جا رہے ہیں
زندہ قومیں اپنے قومی ہیرو کے ساتھ ایسا برتائو نہیں کرتیںجو ہم نے نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی سے کیا ہے۔ سید جمال الدین افغانی کا جسدِ خاکی 80سال کے بعد استنبول سے افغانستان لایا جا سکتا ہے تو چوہدری رحمت علی مرحوم کا جسدِ خاکی لندن سے پاکستان کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان نے بھی جلاوطنی میں ہی وفات پائی تھی۔ اور افغانستان میں ان کے مخالفوں کی حکومت تھی۔ مگر اس کے باوجود ظاہر شاہ نے اپنا خصوصی طیارہ روم روانہ کر کے امان اللہ کی میت کابل منگوائی اور اپنے دشمن جاں کو بھی پورے احترام سے اپنے وطن کی سرزمین میں دفن کیا۔ ہم نے اگر چوہدری رحمت علی کی زندگی میں قدرومنزلت نہیں کی تو کم از کم ان کو مرنے کے بعد تو وہ مرتبہ دیں جس کے وہ حقیقی سزاوار تھے۔اپنے وطن کی مٹی انہیں پکاررہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم رحمت علی فائونڈیشن کے سربراہ سعودی عرب میں مقیم عرفان احمد گجر کی بھی یہی پکار اور للکار ہر سو سنائی دے رہی ہے کہ چوہدری رحمت علی پاکستان کے لفظ کے خالق تھے اور زندہ قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے قومی ہیرو کو احترام کے ساتھ پاکستان میں مینارپاکستان کے پہلو میں دفن کرنا چاہیے۔اس سے پاکستانی قوم کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا۔ عرفان احمد گجر گاہے بگاہے اپنے اس مطالبہ کو دہراتا رہتا ہے۔ کاش اس کی آواز حکمرانوں کے گوش گراں تک پہنچے اور پھر چوہدری رحمت علی کی میت جو دیار غیر میں دفن ہے وہ واپس لائی جا سکے۔ گو چوہدری رحمت علی تو اپنی قبر میں یہ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ
میری لاش بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
تمہیں مرنے کا ہی نہیں اب تک اعتبار ہوتا
قومی ہیرو مرتے نہیں، وہ تو مر کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ سال بڑی دھوم سے چوہدری صاحب کی برسی کی تقریب منعقد کی گئی تھی اور اب بھی ان کی یاد میں کچھ تنظیمیں تقریب کا انعقاد کر رہی ہیں۔ ٹائون شپ اور گرین ٹائون کے سنگم میں چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے زیراہتمام سکول اور کالج بھی مرحوم کے نام سے منسوب ہیں۔
اگر حکومت سرکاری طور پر ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے میں مشکلات محسوس کرتی ہے تو وہ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے پاس کثیر رقوم موجود ہیں، اور وہ حکومت کے ایک اشارے پر اپنی مدد آپ کے تحت بھی چوہدری رحمت علی کی واپسی کا زادِ راہ مہیا کرسکتے ہیں۔ صرف زادِ راہ ہی نہیں چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے وسیع و عریض سبزہ زار میں دو گز زمین بھی بڑی خوشی سے اپنے محسن کے لیے مزار اور احاطہ کے ساتھ فراہم کر سکتے ہیں۔
عرفان احمد گجر اس میں پیش پیش ہیں۔ اور ان کی یہ دلی تمنا بھی ہے کہ ہم سب مل کر چوہدری صاحب مرحوم کو اس سرزمین میں دفن کریں جس سرزمین پر ان کا لفظ پاکستان ایک ملک کی صورت میں موجود ہے۔ بڑوں کے اختلافات ہمارے لیے اتفاقات ہوتے ہیں۔ ان کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا ہی بڑے پن کی دلیل ہے۔ حکومت پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ قوم کے عظیم ہیرو کے جسد خاکی کو جلد از جلد پاکستان لا کر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرے۔ دونوں صورتوں میں قوم ممنون رہے گی۔